May 25th, 2017 (1438شعبان29)

مفت تعلیم

مفت تعلیم

 

 

جماعت اسلامی حلقہ خواتین نے مالی و سائل کی قلت کے باوجود اللہ تعالی پر بھروسہ کرتے ہوئے معاشرے کے اس طبقے سے نا خواندگی کے خلاف جہاد کا آغاز کیا جو وسائل سے سب سے زیادہ محروم ہے۔ اس علمی جدوجہد کو جماعت اسلامی نے مفت تعلیم مہیا کرنے کے تصور میں ڈھالا۔ یہ کم سے کم وسائل کے ساتھ زیادہ بہتر نتائج پیدا کرنے کی ایک کاوش ہے جو اللہ تعالی کے فضل وکرم اور عوام کے تعاون اور مخلص کارکنوں کے مدد سے اب تک نہایت کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملک کے چاروں صوبوں میں غریب بچوں اور بچیوں کو کسی فیس کے بغیر زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کے اعداد و شمار یہ ہیں ۔
۱۹۹۵ میں کراچی کی مضافاتی بستیوں میں چند اسکولوں کے قیام سے شروع ہونے والا یہ پروجیکٹ آج پاکستان کے مختلف حصوں میں پھیل چکا ہے۔ جن کی تعداد ۱۲۱ پہنچ چکی ہے۔
ان اسکولو ں کا ہدف پاکستان کی پسماندہ اور غریب آبادیوں پر مشتمل ایسے علاقے ہیں۔جہاں تعلیمی سہولتوں کا فقدان ہے۔ کچی آبادیو ں کوٹھوں اور قصبوں تک معیاری تعلیم کی رسائی کا اولین مقصد ہے۔
پاکستان میں جہاں جہاں جماعت اسلامی کا کام ہورہاہے۔ وہاں گھروں کے کسی کمرے میں کسی ایک عمارت کی صورت میں تعلیم کے اس مشن کو آگے بڑھانے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں اسکول قائم ہیں ان میں ہزاروں(10,000)سے زائد طلباء وطالبات ’’ فروغ علم ‘‘کے مشن کو آگے بڑھانے میں مصروف عمل ہیں۔
70%سے زائد بچیاں ہیں جن کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
نمایاں خوبیاں:
۱۔ محدود وقت اور کم وسائل میں اسلامی تعلیمات کے مطابق بہترین تعلیم وتربیت کا اہتمام 
۲۔ کم از کم ایک استاد ایک کمرے کی بنیاد پر اسکول کا آغاز۔
۳۔ جدید علوم کے ساتھ قرآن مجید کی ناظرہ تعلیم۔
۴۔ فہم دین کے نصاب پر خصوصی توجہ۔
۵۔ اساتذہ کی تربیت کے لئے تربیتی کورسز اور ورکشاپس کا تسلسل۔