عمومی سوالات | Jamaat-e-Islami Women Wing
October 21st, 2017 (1439محرم30)

عمومی سوالات

 

جی ہاں!ہر وہ خا تون جو اس ملک میں اور پوری دنیا میں اللہ کے دین کے غلبہ کی خواہش رکھتی ہے، جما عت اسلامی میں شامل ہو سکتی ہے۔

آپ کے موصولہ سوال کا جواب درج ذیل ہے۔ عورت کے لئے محض زیب و زینت کے لئے بھویں بنانا جائز نہیں اور یہ حکم سب عورتوں کے لئے ہے، خاوند اجازت دے یا نہ دے اس سے فرق نہیں پڑتا عورت کے چہرے پر اگر زائد بال اگ آئے ہوں، تو ان بالوں کو صاف کر سکتی ہے اسی طرح بھویں بالکل آپس میں مل گئی ہوں، یا بھوؤں سے اوپر نیچے کچھ منتشر بال ہوں، تو اس وقت ان کو چن سکتی ہے لیکن باریک کرنا جائز نہیں۔ عورت پر خاوند کے لئے چہرے کا بناؤ سنگھار شرعی حدود میں رہتے ہوئے جائز ہے، زیب و زینت میں خلاف شرع کام کی اجازت نہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایسی عورت پر اللہ تعالیٰ لعنت بھیجتے ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ کی حدیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ ’’ نبی کریم ﷺ نے ابرو کے بال اکھیڑنے اور اکھیڑنے کا مطالبہ کرنے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ صحیح بخاری حدیث نمبر(۴۸۸۶) صحیح مسلم حدیث نمبر(۲۱۲۵) ایک مسلمان کے لئے اتنی بات کافی ہے کہ اسے معلوم ہو کہ اس کام سے شریعت نے منع کیا ہے اور اس کام کے کرنے کا حکم دیا ہے، یا اجازت دی ہے اور شریعت کے حکم پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ خوش ہوتے ہیں اور حکم نہ ماننے سے ناراض ہوتے ہیں اور شریعت کے حکم کو ماننے سے دنیاوی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب دارالافتاء والارشاد جامعۃ الحرمین

آپ کی فکر ندامت اور گناہ سے پچنے کی خواہش قابل تعریف اور اللہ کی رحمت کی نشانی ہے۔ توبہ کے ضمن میں چند باتیں سمجھ لیں۔ توبہ کے معنی اللہ کی طرف پلٹنا ہے صرف چند کلمات کی ادائیگی نہیں ہے۔عزم کی کمزوری اور بھول کر اللہ کی نافرمانی کر بیٹھنا تو آدم کی سرشت میں ہے۔ یہ فطری ہے یہ ہوگا کیونکہ شیطان تو اپنے کام میں مسلسل لگا ہوا ہے، مگر مایوسی کفر ہے اللہ کی رحمت سے مایوس کافر ہی ہوتا ہے۔شیطان اپنے مشن میں لگا ہوا ہے، تو اللہ نے بھی اپنے بندوں کو جہاد بالنفس کا حکم دیا ہے۔ جہاد کے معنی ہیں مسلسل اور بھرپور کوشش۔ آپ مایوس بالکل نہ ہوں توبہ کریں اللہ سے مدد کی دعا مانگیں اور اللہ سے قریب ہونے کے لیے اور شیطان سے بچنے کے لیے ترجمہ سے قرآن پرھیں، اپنی نمازوں کو بہتر کریں، اللہ سے بہت ساری دعائیں کریں، چلتے پھرتے اپنی مصروفیات کے درمیان اور اپنا ماحول تبدیل کرنے کی کوشش کریں نیک لوگوں کی محفلوں میں جائیں، کسی اچھی اجتماعیت سے جُڑ جائیں اور بُرائی کی ترغیب کے ماحول سے جتنا کٹ سکیں کٹ جائیں۔ اللہ کی مدد ضرور آئے گی مگر آپ کی کوشش اور جہاد کے بعد، کرنا آپ کو ہی ہے اور یہ نا ممکن ہے نہ بہت مشکل۔

سورۃالااحزاب کی آیت نمبر59 میں اللہ سبحان اللہ التعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’اے! نبی (ﷺ) اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکالیا کریں ۔یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں۔اللہ غفورورحیم ہے۔‘‘ اس آیت کی تفسیر کا آپ تفہیم القرآن(جلد4) سے ضرور مطالعہ کریں اگر دیگر تفاسیر آ پ کے پاس ہوں تو ان سے مطالعہ کرلیں۔قرآن و سنت کا منشا آپ کو معلوم ہوجائے گا۔انشااللہ آپ کزنز چہرے کے پردے کی الجھن کو اپنی راہ میں حائل نہ ہونے دیں ۔نقاب کی پابندی اراکین کے لئے تو بیشک ہے مگر بحیثیت کارکن جتنا تعاون کریں گئیں اس کے لئے جمعیت طالبات کی طرف سے نقاب پابندی بالکل نہیں ہے