May 25th, 2019 (1440رمضان20)

انٹرویو ثمینہ سعید

بلوچستان سے قومی اسمبلی کے لیئے متحدہ مجلس عمل کی امیدوارثمینہ سعید سے گفتگو

گفتگو: غزالہ عزیز
نمایندہ جسارت: بلوچستان کی انتخابی صورت حال کیا ہے؟
ثمینہ سعید: بلوچستان کی حالیہ صورت حال کے بارے میں آپ کوپتا ہے کہ مستونگ میں گزشتہ دنوں بم دھماکا ہوا، جس میں ہمارے ایک بڑے سردار جو بہت محب وطن تھے، شہید ہوگئے۔ ان کے ساتھ تقریباً 2000 افراد اور بھی شہید ہوئے جبکہ تقریباً اتنے ہی لوگ زخمی بھی ہوئے۔ ہم دہشت گردی کی اس کارروائی کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرنے کے ساتھ شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کے غم میں بھی شریک ہیں۔ خضدار میں، اس سے پہلے پشاور میں پھر امیر جماعت اسلامی کے قافلے پر فائرنگ ہوئی۔ حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ نگراں حکومت کو اس سلسلے میں زیادہ احتیاط کے ساتھ سیکورٹی کے معاملات دیکھنے چاہییں۔
نگراں حکومت کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن نے ایک ضابطہ اخلاق جاری کیا تھا۔ا نتخابی مہم میں اس کی مانیٹرنگ کی جانی چاہیے کیونکہ بہت ساری جگہوں پر بلوچستان میں تو میں خود دیکھ رہی ہوں اور ہم اس کو مانیٹر کر رہے ہیں کہ اس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ اس پر عمل نہیں ہو رہا۔ ووٹوں کی خریدو فروخت کھلے عام ہو رہی ہے۔ امید واروں کو 5، 5 کروڑ کی آفرز دی جار ہی ہیں کہ وہ ان کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔ اسی طرح اپنی گاڑیوں میں ٹرانسفارمر اور کھمبے لے کر پھر رہے ہیں کہ اگر کہیں کوئی مطالبہ ہے تو فوری طور پر پورا کیا جائے اور اس طرح ان کے ووٹوں کو اپنے حق میں استعمال کرایا جائے۔ یہ سب الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے جس پر کارروائی ہونی چاہیے۔
انتخابی مہم میں تو سیاسی جماعتیں اپنا منشور لے کر عوام کے پاس جاتی ہیں لیکن یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ پارٹیاں اربوں روپے لے کر عوام میں ان کے ووٹوں کو خریدنے کے لیے بولی لگا رہی ہیں ۔ آپ دیکھیں کہ الیکشن کمیشن نے ایک رقم مقرر کی ہے کہ قومی اسمبلی کا رکن اور صوبائی اسمبلی کا رکن اتنی رقم خرچ کر سکتا ہے لیکن یہاں تو اس سے سیکڑوں گنا زیادہ رقم اپنی اپنی انتخابی مہم کے لیے لگائی جا رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ ٹی وی اشتہارات جو ایک ایک دن میں دیے جا رہے ہیں وہ ہی کروڑوں کے ہیں۔ ہم انہیں مانیٹر کر رہے ہیں اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو خط لکھیں گے تاہم نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کو اپنے طور پر اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے ۔
نمایندہ جسارت: کیا خوف کے ان حالات میں عوام ووٹ دینے باہر نکلیں گے؟
ثمینہ سعید: ہم عوام کو اس کے لیے بھی تیار کر رہے ہیں کہ وہ انتخابات کے دن باہر نکلیں۔ خاص طور پر خواتین جو پہلے عموماً اس کے لیے نکلنے میں ہچکچاتی تھیں۔ ہم انہیں کہتے ہیں کہ آپ کو پاکستان کے لیے نکلنا ہے۔ا پنے بچوں کے لیے، ان کے مستقبل کے لیے، امانت دار اور دیانت دار امید وار کو ووٹ دینا ہے تاکہ وہ آپ کے حق کے لیے کھڑا ہو۔ آپ کے بچوں کی تعلیم ، صحت اور روز گار صاف پانی کے لیے کام کرے نہ کہ اپنے ذاتی کاروبار ، محلات اور بینک بیلنس کو بڑھاتا رہے ۔
عوام میں ڈر اور خوف تو ہے لیکن ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ لوگ نکلیں گے اور اپنے کل کو بہتر بنانے کے لیے نکلیں گے۔ یہ ذمے داری تمام سیاسی جماعتوں کی بھی ہے کہ وہ اپنے ووٹر کو ووٹ ڈالنے پر آمادہ کریں ۔
نمایندہ جسارت: بلوچستان کی عورت کے کیا خواب ہیں؟
ثمینہ سعید: بلوچستان کی خواتین اس وقت بہت زیادہ مشکل زندگی گزار رہی ہیں۔ انہیں زندگی کی بنیادی سہولیات حاصل نہیں ہیں، یہ خواتین پانی بھی میلوں پیدل چل کر لاتی ہیں۔ خاص طور پر گوادر، جہاں پینے کا پانی نہیں ہے۔ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہے۔ 8 سے 100 گھنٹے بجلی نہیں ہوتی۔ صحت کامعاملہ بہت خراب ہے۔ اول تو اسپتال ہی نہیں ہیں۔ اور جو ہیں وہاں ادویہ اور ڈاکٹر موجود نہیں۔ آپریشن تھیٹر نہیں ہیں۔ ڈلیوری کے سلسلے میں مریض کو کراچی لے جانا پڑتا ہے۔ اگر آپریشن کرنا ہو تو خواتین کی اموات کا معاملہ بھی اہم ہے۔ دور دراز سے صحت کے مراکز تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔ جو صحت کے مراکز ہیں وہ معیار کے لحاظ سے گئے گزرے ہیں ۔
بلوچستان کی عورت سب سے پہلے چاہتی ہے کہ اسے امن دیا جائے۔ پھر تعلیم و صحت کی سہولیات دی جائیں۔ اگر خواتین روزگار چاہتی ہیں تو انہیں روز گار فراہم کیا جائے ۔ ٹرانسپورٹ کی سہولت دی جائے ۔ اس کے بچے بہتر اور اعلیٰ تعلیم حاصل کریں تاکہ بہترمستقبل کا خواب پورا ہو سکے۔ بلوچستان کی عورت کے خواب اپنے بچوں اور اپنے خاندان کے گرد گھومتے ہیں ۔
نمایندہ جسارت: دوسری پارٹیوں کے پاس پیسہ ہے، اثر و رسوخ ہے۔ سردار ہیں۔ ان حالات میں کیا عوام آپ کو کامیاب کریں گے؟
ثمینہ سعید: سرداروں کے پاس اگرچہ پیسہ ہے تو ایم ایم اے کے پاس دیانت دار اور قابل افراد ہیں۔ ہر لحاظ سے بہترین ٹیم ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ سرداروں کے جدی پشتی حلقے ہیں اور وہ ان سے جیتتے رہے ہیں۔ عشروں سے ایسا ہو رہا ہے لیکن ان کے علاقوں میں جو چاہے چلا جائے، سروے کروا لے تو پتا چلے گا کہ ان کے علاقوں میں تعلیم ہے نہ اسکول و کالج یا یونیورسٹی موجود ہے۔ صحت کے لیے اسپتال ہیں نہ کوئی اور بنیادی سہولت۔ ان کے علاقے انتہائی پس ماندہ ہیں۔ عشروں پہلے کی طرح آج بھی وہاں کے عوام ویسے کے ویسے ہیں۔
ان حالات میں ہم عوام کے سامنے اپنی کارکردگی اور دیانت پیش کرتے ہیں۔ ہم بغیر حکومت کے عوام کے لیے کیے گئے اپنے فلاحی کام سامنے لاتے ہیں۔ عوام سب جانتے ہیں۔ ہماری خدمت کے کاموں کو دیکھتے ہیں۔ تعلیم اور صحت کی سہولیات سے استفادہ کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں امید ہے کہ عوام کرپشن کے مقابلے میں دیانت اور امانت کو ووٹ دیں گے ۔
صرف بلوچستان ہی نہیں، پورے پاکستان میںہماری بہترین کارکردگی ہے۔ ہم دیانت دار ٹیم اور بہترین منشور کی وجہ سے کامیاب ہوں گے۔ ہم عوام، نوجوانوں اور خواتین میں پہلے سے موجود ہیں۔ ہمارے امید وار ایسے نہیں کہ جن تک پہنچنا مشکل ہو۔ ایم ایم اے کے امیدوار عام آدمی کی پہنچ میں ہیں۔ وہ پہلے سے عوام میں تعلیم اور خدمت کے حوالے سے کام کر رہے ہیں ۔ اخلاص نیت کے ساتھ ہرمشکل میں اُن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ عوام کے دکھوں اور تکلیفوں کو جانتے بھی ہیں اور ہر موقع پر ہرممکن مدد کرنے پر ہمہ وقت تیار بھی رہتے ہیں۔ ہر مشکل وقت میں ان کے پاس ہوتے ہیں۔ زلزلہ ہو یا کوئی اور آفت الخدمت کی شکل میں ہم ان کے ساتھ ہوتے ہیں ۔
نمایندہ جسارت: خیبر پختو خوا میں خواتین کے باہر نکلنے کی تعداد کم ہوتی ہے۔ بلوچستان تو اس کے مقابلے میں زیادہ قدامت پسند ہے، تو کیاآپ کو امید ہے کہ خواتین ووٹ دینے نکلیں گی؟
ثمینہ سعید: اس سلسلے میں ہم نے خیبر پختون خوا میں بھی شعور بیدار کیا ہے۔ اب خواتین نکل رہی ہیں اور اعداد شمار اس کی گواہی بھی دے رہے ہیں۔ یہاں بھی اس کے لیے ہم نے خواتین میں کام کیا ہے۔ بلوچستان کی عورت بہت با شعور ہے وہ اپنے حقوق، اپنے خاندان کے حقوق کو سمجھتی ہے۔ ان شاء اللہ وہ ووٹ دینے خود نکلے گی۔ ہم نے اس سلسلے میں الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا تھا کہ یہاں خواتین کے لیے ان کے علاقوں کے قریب پولنگ اسٹیشن بنائے جائیں تاکہ انہیں ووٹ ڈالنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ ہمیں امید ہے کہ الیکشن کمیشن اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرے گا اور اگر خواتین کو اس سلسلے میں مشکلات نہیں ہوں گی تو ووٹ کا ٹرن آئوٹ بہتر ہو گا۔ اس سلسلے میں ہر سیاسی جماعت کو اپنے ووٹر کو سمجھانا چاہیے کہ الیکشن کے دن ووٹ ڈالنا سب سے اہم کام ہے، جسے سب سے پہلے کر لینا چاہیے ۔
نمایندہ جسارت: آپ بلوچستان کی خواتین کے لیے خاص طور پر کیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں ؟
ثمینہ سعید: ہم نے بلوچستان کی خواتین کے لیے علاحدہ اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بنانے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔ اسپورٹس کمپلیکس بنائے جائیں گے جہاں وہ آزادی کے ساتھ جو کھیل کھیلنا چاہیں کھیل سکیں گی۔ خواتین کے روزگار کا انتظام کریں گے۔ ان کے لیے ٹرانسپورٹ اور محفوظ ملازمت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اچھا ماحول دیں گے جو ان کا بنیادی حق ہے۔
ہنر مند خواتین کے لیے ہم آسان قرضے فراہم کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کی ایک ایک بچی پڑھے۔ اس سلسلے میں ہمارا سلوگن ’پڑھے گا تو بڑھے گا‘ ہے۔ ہم اب بھی بچیوں کو قرآن کے ساتھ عصری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ جامعۃ المحصنات کے ادارے موجود ہیں۔ قرآن انسٹیٹیوٹ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔ جہاں قرآن اور حدیث کے ساتھ کمپیوٹر اور عصری تعلیم بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جتنی بھی قبیح رسوم ہیں، جن میں ونی ، سوارہ ، وٹہ سٹہ ، قرآن سے شادی ، جہیز اوروراثت کا حصہ نہ دینا ہے، ہم ان سب کو ختم کریں گے۔ بلکہ ہم اسمبلی میں یہ قانون پاس کرائیں گے کہ جو وراثت کے حق کی ادائیگی نہ کرے گا وہ امید وار نہیں بن سکے گا۔ کیونکہ یہ اللہ کا دیا ہوا حق ہے اور کوئی اسے روک نہیں سکتا ۔
نمایندہ جسارت: آپ نے اب تک بلوچستان کی خواتین کے لیے کیا کیا ہے؟
ثمینہ سعید: ہم نے بلوچستان میں بچیوں اور خواتین کی تعلیم کے لیے جامعہ المحصنات کے نام سے 12 ادارے بنائے ہیں۔ جن میں سے 2 کوئٹہ اور حب میں ہیں۔ باقی ایسے علاقوں میں ہیں جو بہت دور دراز واقع ہیں۔ مثلاً مچھ ، ژوب ، زیارت خانوزئی ، پشین۔ ہم نے یتیم بچوں کے لیے ادارے بنائے جہاں آواران کے دیگر دور دراز کے بچوں کی کفالت کا سلسلہ شروع کیا۔ زلزلے کے بعد وہ بچے جن کا کوئی پرسان حال نہ تھا انہیں وہاں رکھا گیا۔ جیونی ، گوادر میں پانی کا انتظام کیا ۔ خضدار میں بھی تعلیم اور پانی کے لیے کام کیا ۔
میں 2002ء میں صوبائی اسمبلی بلوچستان کی رکن رہی ہوں۔ اس دور میں، میں نے تعلیم اور صحت کے لیے اسپتالوں اور تعلیم پر پورا فنڈ لگایا۔ میرا خواب ہے کہ بلوچستان کی کوئی بچی خواہ وہ کسی گوٹھ، گائوں کی رہنے والی ہو، کسی پہاڑی کے اوپر رہتی ہو، وہ تعلیم کے بغیر نہ رہے۔ عورت تعلیم یافتہ ہو گی تو قوم تعلیم یافتہ ہو گی۔
ان شاء اللہ