November 15th, 2018 (1440ربيع الأول6)

انتخابات اور پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل

 

پروفیسر خورشید احمد

قومی زندگی میں انتخابات ہمیشہ ہی بنیادی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ انتخابات کو جمہوری نظام کے وجود اور ارتقا میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس ذریعے سے عوام حکمرانی کے نظام کی صورت گری اور قیادت کی تبدیلی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں، اور جن حکمرانوں کی کارکردگی سے وہ مطمئن نہیں ہوتے، انھیں نکال کر اپنی زمامِ کار بہتر لوگوں کے سپرد کر سکتے ہیں۔ دی اکانومسٹ نے جمہوریت کی اس حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے بڑی جامع بات کی ہے کہ:
جمہوریت، انتخابی عمل سے بھی برتر چیز کا نام ہے، جس کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہیں: آزاد عدالتیں، گروہی تقسیم سے بالاتر ریاستی افسران کی موجودگی، مضبوط ریاستی ادارے، قانون کی عمل داری کے ساتھ ساتھ شفاف حقِ ملکیت، آزاد ذرائع ابلاغ، آئینی نظم و ضبط اور احتساب کا خودکار نظام کہ جو ہرقسم کے تہذیبی و نسلی تعصبات سے بالاتر ہو، اور   جس میں خصوصاً اقلیتوں کے لیے احترام و برداشت کا اہتمام ہو۔ یہ سب بجا، لیکن ووٹروں کا یہ اختیار اور صلاحیت کہ وہ متعین وقفوں کے بعد ایسے افراد کو اُٹھا کر سیاست سے باہر پھینک سکتے ہیں ، جو بددیانت اور بدعنوان ہیں، جمہوریت کی ناگزیر شرط اور وجۂ جواز ہے۔(دی اکانومسٹ، لندن، ۲۴ ؍اکتوبر ۲۰۱۶ء)
 ۲۵ جولائی ۲۰۱۸ء کے انتخابات پاکستانی قوم کو ایک ایسا ہی تاریخی موقع فراہم کر رہے ہیں، جسے بھرپور انداز میں استعمال کرنا اہلِ وطن کی قومی اور دینی ذمہ داری ہے۔ حکومت پر تنقید بلکہ اس سے بے زاری، اپنے دُکھوں کے بارے میں اس کی بے حسی پر تڑپنا بجا، لیکن اصلاح اور تبدیلی کا راستہ محض شکایات کی تکرار اور آہ و فغاں میں نہیں ہے۔ اس کے لیے الیکشن کے موقعے پر صحیح اقدام اور مؤثر جدوجہد ضروری ہے۔اگر عام شہری اور ہر ووٹرصحیح وقت پر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتا تو مثبت تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ اس تاریخی موقعے پر ہم قوم کے ہرفرد سے پوری دل سوزی سے اپیل کرتے ہیں کہ سوچ سمجھ کر اور اپنے ضمیر اور ایمان کے مطابق، ہرمفاد، تعصب اور جانب داری سے بلند ہوکر ملک و قوم کے مفاد میں ایسی قیادت کو بروے کار لانے کے لیے بھرپور کوشش کریں، جو ملک و قوم کو اُس تباہی سے نکال سکے کہ جس اندھے گہرے کنویں میں نااہل اور مفاد پرست خاندانی قیادتوں نے انھیں جھونک دیا ہے اور جس کے نتیجے میں ملک اپنے نظریے، اپنی آزادی و خودمختاری، اپنی تہذیب و ثقافت ہی سے دُور ہی نہیں جارہا،بلکہ عوام کی زندگی بھی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے۔

ابتر معاشی صورتِ حال
ملک کے معاشی حالات بدسے بدتر ہورہے ہیں، عوام کی اکثریت مشکلات سے دوچار ہے اور چند ہزار خاندانوں کی دولت و ثروت میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی ہورہی ہے۔ ملک کی دولت ملک سے باہر جارہی ہے۔ عام انسان بدسے بدتر حالت کی طرف جارہا ہے۔ آج پاکستانی برآمدات ۲۰ اور ۲۲؍ارب ڈالر سالانہ پر رُکی ہوئی ہیں ، جب کہ ہماری درآمدات ۵۰؍ارب ڈالر کی حد کو چھو رہی ہیں، اور تجارتی خسارہ ۳۰؍ارب ڈالر کی خبر لارہا ہے۔
ملک میں غربت کی شرح سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۳۰فی صد اور حقائق کی روشنی میں ۵۰ فی صد سے زیادہ ہے۔ ۸۰ فی صد آبادی کو صاف پانی میسر نہیں، ۴۰ فی صد سے زیادہ آبادی خوراک کے باب میں خودکفیل نہیں۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں عوام کے بڑے حصے کو میسر نہیں۔ برآمدات میں مسلسل کمی آرہی ہے اور صنعتیں بند ہورہی ہیں۔ زراعت کئی سال سے بحران کا شکار ہے اور حکمرانوں کو صرف اپنے اثاثے بڑھانے اور شاہانہ طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے میں دل چسپی ہے۔
صرف پچھلے دس برسوں میں ملک پر قرض کا بار ڈھائی گنا ہوگیا ہے۔ ۲۰۰۸ء میں پاکستان ۳۷؍ارب ڈالر کا مقروض تھا، جو ۲۰۱۸ء میں ۹۲؍ارب ڈالر کی حدوں کو پار کرگیا ہے۔       آج ہرنومولود بچہ ڈیڑھ لاکھ روپے کا مقروض پیدا ہورہا ہے۔ سپریم کورٹ کے سامنے اسٹیٹ بنک آف پاکستان اور ۱۲ماہرین کی تازہ ترین رپورٹ کی روشنی میں ہرسال تقریباً ۱۵؍ارب ڈالر ملک سے سرکاری طور پر باہر بھیجے جارہے ہیں اور تقریباً اتنی ہی رقم سالانہ ہنڈی کے ذریعے باہر جارہی ہے۔ ملک کو لوٹنے اور عوام کو اپنے ہی ملک کے وسائل سے محروم کرنے کے جرم میں ایک جماعت نہیں، گذشتہ ۴۰برس میں حکمران رہنے والی سبھی سول اور فوجی حکومتیں___ اور خصوصیت سے گذشتہ دس برس کے دوران حکمرانی کرنے والی حکمران جماعتیں اور ان کی قیادتیں شامل ہیں:
بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں
کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے

انتخابات یا فیصلے کی گھڑی!
وقت کی سب سے بڑی ضرورت اس خودپسند، مفادپرست اور کوتاہ اندیش قیادت سے نجات حاصل کرنا ہے، جس نے ملک و قوم کو اس حال میں پہنچا دیا ہے۔ انتخاب کا موقع ہی وہ راستہ فراہم کرتا ہے جس پر قوم اپنی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ اور اپنے وسائل کولٹیروں سے واپس لینے اور خود اپنے تصرف میں لانے کا کارنامہ انجام دے سکتی ہے۔ اس فیصلے کی گھڑی میں ضروری ہے کہ قوم ایک ایسی قیادت کو سامنے لائے، جس کا دامن داغ دار نہ ہو، جو اسلامی نظریے پر یقین رکھتی ہو اور حقیقی، اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست کو قائم کرنے کے جذبے اور صلاحیت سے مالا مال ہو۔ اگر قوم اس وقت اپنے اس اختیار کو استعمال نہیں کرتی تو محض روایتی آہ و بکا سے حالات ہرگز تبدیل نہیں ہوسکتے۔ یہ ہمارے اپنے مفاد اور ہماری آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کا تقاضا ہے اور یہی ان بے تاب روحوں کی پکار ہے، جنھوں نے تحریک ِ پاکستان کے دوران اپنے جان ومال اور عزت و آبرو کی قربانی دی۔ آج وہ پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ پاکستان کو بچانے اور اس کو مقصد ِ وجود کے مطابق بنانے کے لیے بھی اسی طرح جدوجہد کریں، جس طرح اسے قائم کرنے کے لیے کی تھی۔
ووٹ ایک امانت ہے اور اس امانت کو اس کے صحیح حق داروں کو سونپنے کے ہم ذمہ دار ہیں۔ ووٹ ایک شہادت اور گواہی ہے کہ ہم ایک شخص کو پاکستان کے اقتدار کی امانت کے باب میں امین تصور کرتے ہیں اور یہ امانت اس کے سپرد کر رہے ہیں۔ ووٹ کا غلط استعمال جھوٹی گواہی اور شرعی اعتبار سے امانت میں خیانت کے مترادف ہے، جس کے لیے دُنیا میں بھی ہمیں نتائج بھگتنا ہوں گے اور آخرت میں بھی جواب دہی ہوگی:
اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا۝۰ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِہٖ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا۝۵۸ (النساء ۴:۵۸) مسلمانو، اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو، اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے، اور یقینا اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔
مذکورہ بالا معروضات کا حاصل یہ ہے کہ:
    ۱-    قومی انتخابات قومی زندگی میں ایک فیصلہ کُن لمحے کی حیثیت رکھتے ہیں اور ووٹ کے صحیح استعمال کے ذریعے ہم اور آپ ملک میں حقیقی تبدیلی لاسکتے ہیں۔
    ۲-    جمہوریت کے حقیقی فروغ کے لیے بہت سے اقدام ضروری ہیں جن میں قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، بنیادی حقوق کی ضمانت اور پاس داری، دستوری اداروں کا استحکام اور اس میں طے کردہ حدود (check and balance) کا اہتمام، شخصی حکمرانی سے اجتناب اور اصول و ضوابط کی پابندی اور احترام کے ساتھ ریاستی ذمہ داریوں کی ادایگی اور امانتوں کی حفاظت بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے لیے مقررہ وقت پر انتخابات کا انعقاد اور انتخاب کے موقعے پر ووٹر کا کردار مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔
    ۳-    ضروری ہے کہ ووٹر: (الف) اپنے حق راے دہی کو استعمال کرے۔(ب) دوسروں کو بھی ترغیب دے کہ وہ نکلیں اور اپنی ذمہ داری ادا کریں، اور(ج) اس ذمہ داری کو اللہ اور عوام دونوں کے سامنے جواب دہی کے احساس کے ساتھ امانت داری سے استعمال کریں۔ خاندان، برادری، قومیت، گروہی عصبیت ، مفاد، ہر ایک سے بالاہوکر صرف ایک معیار پر فیصلہ کرے کہ پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی، جمہوری اور فلاحی مملکت بنانے کی خدمت کون سا فرد اور جماعت انجام دے سکتی ہے۔ ووٹ صرف اور صرف اس شخص اور جماعت کو دے، جو اپنے نظریے، کردار اور عملی کارکردگی (performance) کی بنیاد پر مطلوبہ معیار پر پورے اترتے ہوں، یا اس سے قریب تر ہوں۔ آزمائے ہوئے کو آزمانا کوئی دانش مندی نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔
پاکستان میں ووٹ کے استعمال کا تناسب بڑا غیرتسلی بخش ہے اور بدقسمتی سے برابر کم ہورہا ہے۔ ۱۹۷۰ء کے انتخاب میں ۶۴ فی صد ووٹرز نے ووٹ کا حق استعمال کیا تھا۔۱۹۷۷ء میں   یہ ۶۲ فی صد ہوگیا۔جو ۱۹۹۰ء کے عشرے میں کم ہوکر۴۰ فی صد پر آگیا، یعنی نصف سے بھی کم، جب کہ اس زمانے میں بھارت میں یہ اوسط ۶۰ فی صد رہا ہے اور ترکی کے انتخابات (۲۴جون ۲۰۱۸ء)میں یہ تناسب ۸۷ فی صد رہا ہے۔ آج پاکستان میں نوجوان ووٹرز کا تناسب ۶۰ فی صد تک پہنچ چکا ہے۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ نوجوان بڑی تعداد میں ووٹ کے لیے نکلیں، دوسروں کو نکالیں، تاکہ ووٹ کی قوت کو تبدیلی کے لیے مؤثرانداز میں استعمال کیا جاسکے۔

انتخابی مہم : مثبت پہلو
۲۰۱۸ء کے انتخابات کے ماحول پر نگاہ ڈالی جائے تو ان میں سے کچھ مثبت اور کچھ منفی چیزیں سامنے آئی ہیں، اور دونوں ہی کی روشنی میں ووٹر کو متحرک اور صحیح کردارادا کرنے کے لائق بنانے کی صحیح حکمت عملی اور پروگرام کی ضرورت ہے۔ بمشکل چند ہفتوں پر مشتمل اس وقت میں  تحریک ِ اسلامی کے کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ ایک ایک لمحہ اس فیصلہ کن مہم کے لیے وقف کردیں۔
٭    مثبت پہلوئوں میں ہماری نگاہ میں نوجوانوں کی بیداری اور متحرک ہونا سب سے اہم ہے۔ تحریک پاکستان کے دوران میں نے یہی کیفیت دیکھی تھی۔ طالب علم اور نوجوان اس میں  پیش پیش تھے۔ قائداعظم جو ہمیشہ طلبہ کو تعلیم کو اوّلیت دینے کی تلقین کرتے تھے، انھوں نے اس موقعے پر صاف فرمایا کہ یہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے زندگی اور موت کا لمحہ ہے، اور اس موقعے پر آپ تعلیم کو چھوڑ کر تحریک میں شرکت کریں اور نوجوانوں نے ان کی اپیل پر لبیک کہا۔ تقریباً دوتین مہینے ہم نے دن رات ایک کردیے اور اللہ تعالیٰ نے اس کے نتائج بھی دکھائے۔ اگلے چند ہفتے بھی اسی طرح اہم ہیں۔
٭    دوسرا مثبت پہلو میڈیا کی نسبتاً آزادی اور سوشل میڈیا کا متحرک ہونا ہے۔ اگرچہ اس کے منفی پہلو بھی سامنے آرہے ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا جہاں کچھ پابندیوں اور دخل اندازیوں کے باوجود ماضی کے ہر دور کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور زیادہ آزاد ہیں، وہیں ان میں گروہ بندی اور مخصوص مفادات اور اشتہارات کا کھیل صاف نظر آتا ہے۔ ہمیں اس سے دل گرفتہ ہونے کے بجاے ، جو اور جتنا موقع میسر ہے، اس سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ اسی طرح سوشل میڈیا بھی ایک بڑا مؤثر ہتھیار اور الیکٹرانک میڈیا کے لیے نگران و محتسب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے محنت، شوق اور حکمت کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ جعلی، جھوٹی اور گمراہ کن خبروں یا اطلاعات کے طوفان کا مقابلہ بڑے بھرپور انداز میں دیانت اور دلیل سے کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اشتعال سے بچا جائے، دلیل کو برتا جائے، اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں بلکہ کلمۂ حق، توازن اور شائستگی سے دیا جائے۔ ان شاء اللہ سچ جھوٹ پر غالب ہوکر رہے گا۔

انتخابی مہم: منفی پہلو
اسی طرح جو چیز بڑی پریشان کن ہے، وہ بحث و گفتگو کی سطح، انداز اور سیاسی جوڑ توڑ کا   وہ آہنگ ہے، جو گذشتہ چند مہینوں میں تیزی سے پروان چڑھا ہے۔ انتخابات میں صرف چند ہفتے ہیں، مگر متحدہ مجلس عمل کے علاو ہ کسی ایک جماعت نے بھی ان سطور کے تحریر کیے جانے کے وقت  (۲۸ جون ۲۰۱۸ء) تک اپنا منشور قوم کے سامنے پیش نہیں کیا ہے۔ ایک پارٹی نے منشور کی جگہ پہلے ایک سو دن کے پروگرام کا اعلان کیا۔ حالاں کہ سیاسی جماعتیں انتخابات سے پہلے منشور پیش کرتی ہیں اور کامیابی کے بعد کامیاب جماعت پہلے ۱۰۰ دن کا پروگرام دیتی ہے، لیکن اس مثال میں  تو گھوڑا اور گاڑی دونوں گڈمڈ ہوکر رہ گئے ہیں۔
سیاسی قائدین کی تقریریں الزام تراشیوں سے پُر اور نظریے، پالیسی اور پروگرام کے ذکر سے خالی ہیں۔ جس سطحی بلکہ بازاری انداز میں تنقید اور مکالمہ ہو رہا ہے، اسے دیکھ ، سن اور پڑھ کر نگاہیں شرم سے جھک جاتی ہیں۔ جس رفتار اور انداز سے سیاسی وفاداریاں تبدیل کی جارہی ہیں، اور پھر پارٹیوں میں اس کے نتیجے میں جس طرح کے ٹکرائو وجود میں آرہے ہیں، اور ایک دوسرے کی پگڑیاں اُچھالی جارہی ہیں وہ نہایت تکلیف دہ مشاہدہ ہے۔ بڑے فخر سے کہا جارہا ہے کہ ’نظریاتی سیاست کا دور ختم ہوگیا اور اب سارا کھیل منتخب ہونے والے چہروں (electables )کا ہے‘۔   اس سوچ کی پذیرائی جمہوریت کے مستقبل کے لیے کوئی نیک شگون نہیں ہے۔
ہم تمام سیاسی جماعتوں کی قیادتوں سے دل سوزی کے ساتھ اپیل کرتے ہیں کہ قومی سیاست کو اس سطح پر نہ گرائیں کہ یہ طرزِفکروعمل جمہوریت کے مستقبل کے لیے بڑا خطرناک ہوگا۔ بحث کا محور ملک کے حالات اور اس کو درپیش چیلنج ہونے چاہییں۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے پالیسی اور پروگرام توجہ کا مرکز ہونے چاہییں۔ جن چیزوں پر قومی اتفاق راے پایا جاتا ہے ان ایشوز کو متنازع بنانا، یا انھیں محدود سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنا دُور رس انتشار اور نقصان دہ نتائج کا باعث ہوسکتا ہے۔
ہربات کے کہنے کا ایک موقع اور محل ہوتا ہے، جس کو نظرانداز کرکے بات کہنا بڑے نقصان کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ پارٹیوں کے اندر مشورے کی محفلوں کی باتوں کو پبلک میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے طشت ازبام کرنا، کسی مہذب معاشرے کا شیوہ نہیں ہوسکتا۔ اسلام نے ہمیں  نہ صرف تجسس اور بدگمانی سے منع کیا ہے، بلکہ محفل اور مجلس کی بات کو امانت سمجھنے کی تلقین بھی کی ہے اور تحقیق کے بغیر خبر پھیلانے کو افترا اور بدمعاملگی قرار دیا ہے۔ سورۃ الحجرات ان آداب کی تعلیم سے مالا مال ہے۔ یہ آیات اللہ کے احکام اور مسلم معاشرے کے آداب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آج ان ہدایات کو جس طرح پامال کیا جارہا ہے، اس پر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہم کہاں جارہے ہیں؟

دو ناگزیر قومی تقاضے
دو مسائل اور بھی ہیں، جن کی طرف ہم توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں۔ لیکن ان پر گفتگو کرنے سے پہلے ہم چاہتے ہیں کہ چندا اُمور کو واضح کردیں، جن کی حیثیت پاکستانی قوم کے لیے مسلمات کی ہے اور ان کو متنازع بنانا ملک وقوم کے لیے تباہ کن ہوگا:
٭    اس سلسلے کی سب سے پہلی چیز پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور سیاسی و تہذیبی تشخص ہے۔ ہم دُنیا کے دوسرے تمام ممالک، بشمول اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے دوستی اور خیرسگالی کا رشتہ چاہتے ہیں، لیکن اسے برابری اور ایک دوسرے کے مکمل احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔بین الاقوامی تعلقات میں برابری اور ادلے کا بدلہ (reciprocity) ایک مسلّمہ اصول ہے۔ دوسرا ملک بڑا ہو یا چھوٹا، ایک دوسرے کے احترام اور ایک دوسرے کے مفادات کے بارے میں حساسیت، وہ بنیادیں ہیں جن پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا: چاہے وہ امریکا ہو یا بھارت، سعودی عرب ہو یا ایران۔
٭    دوسری چیز پاکستان کی نظریاتی اساس اور شناخت ہے۔ پاکستان اسلام کی بنیاد پر  قائم ہوا ہے اور اسی بنیاد پر قائم رہ سکتا ہے اور ان شاءاللہ رہے گا۔ اسلام جہاں توحید اور سنت نبویؐ کی بنیاد پر انفرادی زندگی کی تشکیل اور اجتماعی نظام کا قیام چاہتا ہے، وہیں انسانی حقوق کی پاس داری اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی بھی مکمل ضمانت دیتا ہے۔ پاکستان کی اجتماعی زندگی کی بنیاد اسلام ہے اور تحریک ِ پاکستان میں ان مقاصد کو دو اور دو چار کی طرح بیان کردیا گیا تھا۔ ’قراردادِ مقاصد‘ اور پاکستان کے ہر دستور نے، خصوصیت سے ۱۹۷۳ء کے دستور اور خصوصیت سے ’۱۸ویں دستوری ترمیم‘ (۸؍اپریل ۲۰۱۰ء) نے ان مقاصد اورحدود کو بڑی قوت سے واضح کر دیا ہے۔ غیرمسلموں کو ملک کے شہری کی حیثیت سے تمام بنیادی حقو ق حاصل ہیں، اور دستور کی بنیادوں اور اصول و ضوابط پر مبنی فریم ورک وہی ہے، جن پر مملکت قائم ہے۔ اس کے تمام شہری اس سے وفاداری اور اس کی اطاعت کے عہد کی بنیاد پر اس ملک کے شہری قرار پاتے ہیں۔ علمی گفتگو اور اختلاف زندگی کا حصہ ہیں، لیکن آزادی کے نام پر اجتماعی زندگی کی بنیاد پر تیشہ چلانے کا حق کسی کو نہیں دیا جاسکتا۔ جو بھی اپنے کو پاکستان کا شہری کہتا ہے، اس کا فرض ہے کہ دستور کا پابند اور وفادار ہو۔ دستور یہ صاف اعلان کرتا ہے کہ ’’پاکستان عدل کے اسلامی اصولوں پر مبنی ایک جمہوری مملکت ہوگی‘‘ اور ’’اسلام مملکت کا مذہب ہوگا اور قراردادِ مقاصد احکام کا مستقل حصہ ہوگی‘‘۔
اس کی روشنی میں دستور کی دفعہ۴  ہر شہری کو قانون کا تحفظ اور قانون کے مطابق سلوک کی ضمانت دیتی ہے۔ لیکن اس کے فوراً بعد دفعہ۵ یہ مطالبہ کرتی ہے کہ: ’’مملکت سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی فرض ہے‘‘ اور یہ کہ ’’دستور اور قانون کی اطاعت ہر شہری، خواہ وہ کہیں بھی ہو اور ہروہ شخص جو فی الوقت پاکستان میں ہو (واجب التعمیل) ذمہ داری ہے‘‘۔
ایک طبقہ بڑے سوچے سمجھے انداز میں پاکستان کی اساس کو مشتبہ بنانے، اور اس کے بارے میں متنازع سوالات اُٹھانے کی مذموم کوشش کر رہا ہے اور خصوصیت سے انگریزی پریس  کا ایک حصہ یہ کام بڑے تسلسل کے ساتھ کر رہا ہے۔ اس ضمن میں یہ شوشا بھی چھوڑا جارہا ہے کہ ’اب نظریاتی دور ختم ہوگیا ہے اور مادی ترقی، زندگی کا اصل ہدف ہے‘۔ آزادیِ اظہار سر آنکھوں پر اور علمی بحث و مباحثہ کا دروازہ بھی ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے، لیکن ریاست کی بنیادوں پر تیشہ زنی اور انھیں پامال کرنے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی۔

بے لاگ احتساب ، انصاف کا تقاضا
دوسرا اہم مسئلہ احتساب کا ہے۔ احتساب جمہوریت کی روح اور حالات کو بگاڑ سے بچانے کے لیے ’سیفٹی والو‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’دین خیرخواہی کا نام ہے‘‘۔اور احتساب اس خیرخواہی کا لازمی حصہ ہے۔ آپؐ کا ارشادِ مبارک ہے: ’’اپنا احتساب کرلو، قبل اس کے کہ تمھارا احتساب کیا جائے‘‘۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کے اجتماعی نظام میں خوداحتسابی اور اجتماعی احتساب کا خودکار انتظام موجود ہیں۔ ’احتساب سب کا اور احتساب انصاف کے مسلّمہ اصولوں کے دائرے میں‘ اسلام کا تقاضا اور جمہوریت کی روح ہے۔ انصاف ہونا بھی چاہیے اور انصاف ہوتا نظر بھی آنا چاہیے۔ یہ ہیں وہ بنیادی مسلّمات، جن کے بارے میں اختلاف کی کوئی گنجایش موجود نہیں۔
بدقسمتی سے اس وقت وطن عزیز میں ایک ایسی فضا بنائی جارہی ہے کہ جس سے احتساب کا پورا عمل مشتبہ ہوکر رہ جائے۔ نیب (NAB: قومی احتساب بیورو) کی کارکردگی اور طریق پر ہمیں اور دوسرے بہت سے افراد کو شدید تحفظات ہیں۔ اس ادارے کو جس طرح جنرل پرویز مشرف نے شروع کیا اور پھر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکمرانی کے اَدوارمیں استعمال کیا گیا، وہ نہایت غیرتسلی بخش تھا۔ اگرچہ اِس وقت پہلے کے مقابلے میں صورتِ حال بہتر ہے، اس کے باوجود پُرانی بُری روایات کا سایہ نظر آتا ہے اور بلاتفریق احتساب کے دعوئوں کے باوجود جس طرح مرضی اور ترجیح کی بنیاد (pick and choose) پر احتسابی سلسلہ جاری ہے، وہ ناقابلِ اطمینان اور اصلاح طلب ہے۔ تاہم، سپریم کورٹ نے احتساب کے عمل کو متحرک کرنے کے لیے جو اقدامات کیے ہیں، وہ لائق تحسین اور وقت کی ضرورت ہیں۔
اس پس منظر میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف صاحب اور ان کے خاندان کی جو گرفت ہورہی ہے، وہ صحیح سمت میں ایک قدم ہے، مگر بہت تاخیر سے اُٹھایا گیا ہے۔ احتساب کے اس عمل کو کسی خاص فرد یا جماعت تک ہرگز محدود نہیں ہونا چاہیے اور بلاتفریق ان تمام افراد اور خاندانوں کو قانون کی گرفت میں آنا چاہیے، جو گذشتہ برسوں میں حکمران رہے ہیں اور ان کا دامن داغ دار گردانا جاتا ہے۔ بہت سے مقدمات جو شروع تو کیے گئے،مگر پھر ان کو منطقی نتائج تک پہنچائے بغیر داخل دفتر کردیا گیا۔ درجنوں مقدمات ایسے ہیں، جو برسوں سے زیرغور ہیں، حتیٰ کہ کچھ لوگوں کو قیدوبند کے مراحل سے بھی گزرنا پڑا، لیکن صدافسوس کہ نہ تو یہ تفتیش مکمل ہوئی اور نہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا ۔ یہ انصاف کا خون ہے اور احتساب کے ساتھ مذاق۔
جہاں یہ ضروری ہے کہ احتساب کا عمل لازمی اور مؤثر انداز میں آگے بڑھنا چاہیے،  تفتیش پوری دیانت اور محنت اور پیشہ ورانہ انداز میں ہونی چاہیے، وہیں مقدمات کا فیصلہ بھی متعین وقت میں اور انصاف کی روح کے مطابق ہونا چاہیے۔ اس سے احتسابی عمل پر بھروسا اور اعتماد بڑھے گا۔  اس کے نتیجے میں بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کا دروازہ بند ہوسکے گا، اور عوام کے وسائل محفوظ ہوسکیں گے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف ٹیکس کے بارے میں کم از کم چار ہزار ارب روپے سالانہ چوری ہورہے ہیں۔ عالمی بنک اور ہمارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اندازے کے مطابق موجودہ ٹیکس نظام کے تحت، جو سالانہ ٹیکس ۸کھرب روپے ہونا چاہیے، وہ اس سے نصف ہے۔    یہ اس صورت میں ہے، جب کہ ٹیکس نیٹ میں ۲۲کروڑ کی آبادی میں بلاواسطہ ٹیکس ادا کرنے واے صرف ۸لاکھ افراد ہیں،جب کہ موبائل ٹیلی فون استعمال کرنے والوں کی تعداد۱۵کروڑ ہے اور سمارٹ فون استعمال کرنے والے ساڑھے ۹ کروڑ ہیں، جن میں سے ۵۰ لاکھ کا سالانہ ٹیلی فون کا بل ۳۰ہزار سے زیادہ ہے۔ اندازاً ان کی سالانہ آمدنی ۲۰لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔ پاکستانیوں نے جو جایدادیں دبئی اور دوسرے مغربی ممالک میں خریدی ہوئی ہیں اور جو بنک اکائونٹ سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور دبئی میں ہیں، ان کا کوئی حسا ب کتاب نہیں۔ حالیہ انتخاب کے موقعے پر جو نمایندے کھڑے ہوئے ہیں، ان میں ۲۷۰۰ اُمیدوار ایسے ہیں، جن پر بدعنوانی، کرپشن، اس نوعیت کے الزامات پر مقدمے چل رہے ہیں اور ۸۰۰؍ارب روپے کے خرد برد کے الزامات ہیں، مگر کسی احتساب کے بغیر انھیں انتخاب میں شرکت کی اجازت دینا عدل و انصاف کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔

عدلیہ اور فوج نشانہ ٔ  تنقید
اس پس منظر میں ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نوازشریف صاحب اوران کے خاندان پر جو الزامات ہیں، بار بار موقع ملنے کے باوجود اپنی صفائی پیش کرنے میں نہ صرف یہ کہ وہ ناکام رہے ہیں بلکہ انھوں نے اس احتساب کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کھلی کھلی کوشش کی ہے۔ ان کے وکلا نے عدالت کے واضح سوالات اور اپنے متضاد بیانات کی وضاحت کرنے کے بجاے بات کو اُلجھانے کی کوشش کی ہے۔ حد یہ ہے کہ انھوں نےاپنی صفائی میں دستاویزات یا گواہ لانے سے بھی احتراز کیا ہے۔
پارلیمنٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہر چیز کا ریکارڈ موجود ہے، ریکارڈ تو کیا اس کا ایک حصہ بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔ دو بار انھوں نے خود قوم اور پارلیمنٹ کے سامنے اپنی تقریروں میں کہا کہ ایون فیلڈ کے فلیٹ ابوظہبی سے حاصل ہونے والی رقم سے خریدے گئے۔ لیکن خریداری کا کوئی ریکارڈ بار بار کے مطالبے کے باوجود پیش نہیں کیا گیا۔ کوئی منی ٹریل نہیں دی گئی۔ نیب عدالت کے نصف سے زیادہ سوالوں کے جواب میں ’مجھے نہیں معلوم‘ یا ’مجھ سے نہیں، میرے بیٹے سے پوچھو‘ ارشاد فرمایا۔ دستاویزات اور ثبوت فراہم کرنے میں ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے بے جا طور پر عدلیہ اور فوج دونوں کو نشانہ بنانے اور اپنی مظلومیت کا بے جا غلغلہ بلند کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح سول قیادت اور ’اسٹیبلشمنٹ‘ جس سے مراد فوج اور اعلیٰ عدلیہ ہے، انھیں نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ ایک بڑی مذموم حرکت اور قومی مفادات کے خلاف جسارت ہے۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ فوج اور عدلیہ دستوری ادارے ہیں اور ملک کی سلامتی کا ستون ہیں۔ دوسرے اداروں کی طرح وہ بھی دستور کے تحت وجود میں آئے ہیں اور دستور کے دائرے ہی میں ان کی کارکردگی کو محدود ہونا چاہیے۔ دستور نے عدلیہ کو انسانی حقوق کے تحفظ، دستور کی پابندی اور عدلیہ کی آزادی اور اسلامی دفعات اور اسلامی قانون سازی کی پاس داری کے سلسلےمیں جو اختیارات دیے ہیں، ان کے دائرے میں ان کو اپنے فرائض انجام دینے چاہییں اور ’عدالتی مہم جوئی‘ (Judicial activism)  اور ’عدالتی ضبط و احتیاط‘ (Judicial restrain) کے درمیان توازن قائم رکھنا چاہیے۔
اسی طرح فوج، ملک کی سلامتی اور سرحدوں کے تحفظ اور دستور کے تحت اپنی دوسری ذمہ داریوں کی ادایگی کی پابند ہے۔ ملکی سیاست میں مداخلت اور دستور سے ماورا کسی کارروائی کا اختیار اسے حاصل نہیں ہے۔ البتہ قومی سلامتی کے سلسلے اور خارجہ پالیسی کے امور کے بارے میں اس کی راے، احساسات اور تحفظات پر اسی طرح غور ضروری ہے جس طرح پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور تحقیقی اداروں کے خیالات سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ البتہ اس قومی ضرورت سے ماورا، ریاست میں فوج کی بلاواسطہ یا بالواسطہ مداخلت، اس کے فرائضِ منصبی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ البتہ یہ بات مستحسن ہوگی کہ فوج اور سول قیادت کے درمیان مشاورت اور  قومی سلامتی کے اُمور کو مسلسل، مستقل اور اداراتی انداز میں انجام دیا جائے۔ قومی مفاہمت اور یک رنگی سے معاملات کو چلایا جائے۔ تمام ہی جمہوری ممالک میں اس کا اہتمام ہوتا ہے۔ تاہم، اس کی بنیاد پر سیاسی نظام میں مداخلت کا کوئی حق اور جواز نہیں۔
پروفیسر سیموئیل ہن ٹنگٹن نے فوج کے کردار کے بارے میں بڑی اہم کتاب ۱۹۵۷ء میں The Soldier and the State کے نام سے لکھی تھی۔ اس کتاب میں امریکا کی تاریخ اور خصوصیت سے دوسری جنگ ِ عظیم اور اس کے بعد فوج اور سول حکومت کے تعلقات پر بڑی گہرائی میں جاکر بحث کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ خود امریکا میں دوسری جنگ عظیم کے دوران فوج کا جو سیاسی کردار نمودار ہوا تھا، اسے جنگ کے بعد کس طرح، کس ترتیب سے اور کس حد تک قابو میں کیا گیا۔ اس طرح قومی سلامتی سے متعلق مختلف اُمور پر، فوج کی سوچ کے حوالے سے سیاسی ماہرین نے engagement (مشارکت)کا دل چسپ لفظ استعمال کیا ہے،جو جمہوری ممالک میں ایک معروف عمل ہے۔ ہن ٹنگٹن کے الفاظ میں یہ رشتہ کچھ اس طرح ہے:
A healthy society must preserve the autonomy of the military, while simultaneously integrated it into an important decision making role.
ایک صحت مند معاشرے کو فوج کی خودمختاری کا اس طرح تحفظ کرنا چاہیے کہ وہ اسے ساتھ ساتھ ایک اہم فیصلہ کرنے والے کردار کا حصہ بنادے۔
امریکا کی نیشنل سیکورٹی کونسل یہ اداراتی کردار ادا کرتی ہے اور پاکستان میں بھی یہ ادارہ کابینہ کی کمیٹی کی شکل میں ذمہ داری ادا کر سکتا ہے، جو ماضی میں مناسب انداز میں متحرک نہیں رہا۔
سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے جس طرح عدلیہ اور فوج کے خلاف محاذ کھولا ہے، وہ اپنے دُور رس مضمرات کے اعتبار سے بہت نقصان دہ اور خطرات سے بھرپور ہے۔بالکل اسی طرح فوج نے بھی پاکستان کی تاریخ میں سیاسی مداخلت کی بڑی بُری مثال قائم کی ہے۔ جس میں چار بار فوجی حکومت کا قیام ہماری تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ اگرچہ دستور کی دفعہ۶ میں آیندہ کے لیے فوجی مداخلت کا دروازہ بند کیا گیا ہے، لیکن اصل دروازہ بند کرنے کا طریقہ محض قانون سازی نہیں ہے بلکہ مناسب اداروں کا قیام اور صحیح رویوں (attitudes) کا اختیار کیا جانا ہے۔ اس سلسلے میں   سول اور فوجی قیادت دونوں کو نہ صرف سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے بلکہ مناسب مشاورت اور مشارکت  کے ذریعے طریق کار اور حدودِ کار طے کرنی چاہیے۔


فوج اور ریاست کا کردار
مَیں جہاں تک حالات کا تجزیہ کرسکا ہوں، فوج کی قیادت نے ابتدا ہی سے اپنا ایک کردار بنانے کی کوشش کی۔ اوّلیں دور میں یہ صرف فوجی قیادت کی اپنی سوچ تھی اور اس میں فوجی قیادت اور   سول انتظامیہ (خصوصیت سے گورنر جنرل ملک غلام محمد اور اسکندر مرزا) میں سازباز تھی۔ جنرل محمد ایوب خاں اور جنرل آغا محمد یحییٰ خان دونوں کا فوج نے ساتھ دیا، لیکن بظاہر فیصلہ صرف اُوپر کے چند جرنیل حضرات کا تھا، اور نظامِ حکومت میں فوج کا عمل دخل (involvement) محدود اور صرف اُوپر کی سطح تک محدود رہا۔
جنرل محمد ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے اَدوار میں محسوس ہوتا ہے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت بحیثیت فوجی قیادت اور فوج بحیثیت ایک ادارہ ان کے فیصلوں میں شریک ہوگئی۔ دوسرے دواَدوار میں فوج کی قیادت نے سیاست، انٹیلی جنس اور بڑے کاروباری منصوبوں میں بھی اپنے قدم جمالیے اور اس طرح ایک خاموش اداراتی تبدیلی واقع ہوئی۔جنرل محمد ضیاء الحق نے کئی مواقع پر خود مجھ سے اور دوسرے افراد سے کہا کہ: ’’فوج میرا حلقۂ انتخاب (constituency) ہے اور مجھے اس کی سوچ کا لحاظ رکھنا ہوتا ہے‘‘۔ گذشتہ دس برسوں میں الحمدللہ فوج کی کوئی براہِ راست سیاسی مداخلت تو سامنے نہیں آئی، لیکن بالواسطہ اثرانداز ہونے سے انکار ممکن نہیں۔ البتہ غورطلب مسئلہ  یہ ہے کہ اس کردار کو کس طرح اور کس حد تک تبدیل کیا جائے اور اس میں مشارکت کا طریق کار کیا ہو؟
بلاشبہہ یہ کام اس براہِ راست ٹکرائو سے نہیں ہوسکتا، جو اس وقت نوازشریف نے اختیارکیا ہے اور یہ اس طریقے سے بھی نہیں ہوسکتا جو انھوں نے اپنے اقتدار کے اَدوار میں تسلسل سے اختیار کیا۔ جس طرح ہم فوج کی قیادت کے کردار کو قابلِ گرفت سمجھتے ہیں، اسی طرح ہم سمجھتے ہیں کہ نوازشریف صاحب نے بھی منتخب وزیراعظم کی حیثیت سے سول اور فوجی تعلقات کو صحیح سمت میں رواں دواں نہ رکھ کر فاش غلطیاں کی ہیں۔ آصف علی زرداری صاحب نے بھی اپنی صدارت کے دوران اپنی نام نہاد مفاہمتی حکمت عملی اور اپنی دوسری کمزوریوں کی وجہ سے حالات کو اصلاح کی سمت لانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
نواز شریف صاحب پہلے دن سے اپنے ہاتھوں میں مکمل اختیارات کے ارتکاز کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ان کے اس طرزِفکر کا اندازہ اور تجریہ مجھے خود ان کے وزیراعظم بننے کے بعد ہی ہوگیا تھا، جب بارھویں دستوری ترمیم (۲۸جولائی ۱۹۹۱ء) میں انھوں نے یہ اختیار حاصل کرنا چاہا کہ وہ دستور کی جس شق کو جب چاہیں اور جتنے عرصے کے لیے چاہیں معطل کرسکتے ہیں۔ میں نے اور محترم قاضی حسین احمد مرحوم نے صاف لفظوں میں اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اوریہی ہمارے اور ان کے درمیان گہرے اختلاف اور بے اعتمادی کا آغاز تھا۔ لیکن ہم نے اس سلسلے میں مضبوط موقف اختیار کیا حالاں کہ وہ اس ترمیم کو کابینہ سے منظور کرا چکے تھے۔
نواز شریف صاحب سے دو دن اس امر کے بارے میں ہمارے تلخ و ترش مذاکرات ہوتے رہے۔ پھر ان کی کابینہ کے ارکان بھی اس میں شریک ہوئے۔ ہماری حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہی کہ مسلم لیگ کے بڑے بڑے لیڈرانِ کرام نواز شریف صاحب کے سامنے تو اس مجوزہ ترمیم کی تائید کرتے یا زیادہ سے زیادہ خاموش رہے، لیکن جنھیں اختلاف تھا، وہ بھی کھل کر بات کرنے سے احتراز کرتے تھے۔ کم از کم تین افراد نے بعد میں مجھ سے کھل کر کہا کہ: ’’ہم آپ حضرات کے ممنون ہیں کہ آپ اس پر ڈٹ گئے۔ ہم بھی ناخوش تھے مگر مخالفت نہ کرسکے۔ جنرل مجید ملک مرحوم نے سب سے پہلے یہ بات مجھ سے کہی،اور پھر وسیم سجاد صاحب اور حامد ناصر چٹھہ صاحب نے ملاقاتوں میں دُہرائی۔ یہ دونوں حیات ہیں اور ان شاء اللہ گواہی دیں گے کہ پنجاب ہائوس میں انھوں نے یہ بات کہی تھی۔ بہرحال صدر غلام اسحاق خاں صاحب بھی اس کے مخالف تھے،   اس طرح بارھویں ترمیم سے نواز شریف صاحب کے من پسند حصے نکال دیے گئے۔
اس سے نواز شریف صاحب کے ذہن کو سمجھا جاسکتا ہے۔وزیراعظم کی حیثیت سے ہر دور میں ان کے اس مزاج کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ان میں بہت سی خوبیاں ہیں جن کا اعتراف نہ کرنا ناانصافی ہوگی، لیکن انانیت اور ہرچیز کو اپنی ذات کے گرد محصور کرلینا، ذاتی وفاداری کو اہمیت دینا اور فیصلوں میں من مرضی پر اڑ جانا ان کا امتیازی وصف ہے، جو شورائیت اور جمہوریت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ سول اور فوجی تعلقات کو ان کے دور میں خراب کرنے میں اگر فوج کی قیادت کے رجحانات کا عمل دخل ہے، تو سول قیادت کی اس ذہنیت کا بھی اس میں کردار کچھ کم نہیں۔
محمد نوازشریف صاحب وہ واحد وزیراعظم ہیں، جنھوں نے چھے فوجی سربراہ مقرر کیے،اور پہلے سے ذمہ داری ادا کرتے ہوئے تین سربراہانِ فوج کے ساتھ بھی انھیں کام کرنا پڑا (سواے چند گھنٹوں کے لیے ضیاء الدین بٹ کے) ان کے تعلقات کسی بھی فوجی سربراہ سے خوش آیند نہیں دیکھے گئے۔فوجی سربراہ کے انتخاب میں بھی ذاتی پسند اور متوقع وفاداری کو اہمیت دینا خرابی کی  بڑی وجہ بنی___اسی طرح فوجی سربراہ کو اس کی متعین مدت کے بعد توسیع دینا بھی بہت سے فتنوں کا باعث بنا ہے۔ میں نے اٹھارھویں ترمیم کے وقت بہت کوشش کی تھی کہ اس مدت (term) کو’ناقابلِ تجدید‘ (non-renewable) سے بدلوا لوں، لیکن مسلم لیگ (ن، ق) اور پیپلزپارٹی اس کے لیے تیار نہیں ہوئیں۔
 اصلاحِ احوال کے لیے دونوں جانب سے پُرخلوص اور حکمت آمیز کوششوں اور تعاون کی ضرورت ہے۔ اور اس میں بھی کرپشن سے پاک، پُرعزم اور تعصبات سے بالاتر قیادت کا وجود ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ترکی کی مثال بڑی چشم کشا ہے۔ فوج جس نے ترکی کی آزادی کی جنگ لڑ کر عوامی جمہوریہ کو قائم کیا تھا۔ پھر تحریری طور پر اسے دستور کے محافظ ہونے کا کردار دیا گیا تھا۔ وہاں بھی فوج کے بار بار مارشل لا لگانے اور سول حکومت کو ناکوں چنے چبوانے، کھلی اور ڈھکی چھپی مداخلت کے باوجود، ایک اچھی سول قیادت نے اپنی کارکردگی اور حکمت عملی کے ذریعے فوج کو دستوری کردار سے فارغ کردیا، لیکن اسے سول نظام کی قیادت میں باعزت اور فعال (participting) انداز میں نظام کا حصہ بنالیا۔ جب جولائی ۲۰۱۶ء میں فوج کے ایک عنصر نے بغاوت کی کوشش کی تو جہاں عوام نے جان دے کر جمہوری اور سول نظام کا دفاع کیا، وہیں فوج کی عظیم اکثریت نے بھی سول نظام کا ساتھ دیا اور اس کے تحت کام کرنے کے راستے کو قبول کیا۔
مناسب حکمت ِعملی اور اداراتی اصلاح کے ذریعے اس نوعیت کا کام انجام دیا جاسکتا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کی سیاسی قیادت بدقسمتی سے ہردور میں ناکام رہی ہے۔ موجودہ انتخابات اس پس منظر میں ہورہے ہیں اور نئی قیادت کو اس نازک مسئلے کو بڑی حکمت اور مشاورت سے حل کرنا ہوگا۔

سیاسی جماعتوں کا مطلوبہ کردار
ان انتخابات کے سلسلے میں ایک اور پریشان کن پہلو سیاسی جماعتوں کے کردار کا ہے،  جس میں متعدد پہلو ایسے ہیں جن پر تفصیل سے بحث کرکے اور قومی سطح پر باہم مشاورت سے حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ یہاں ہم چند اہم ترین پہلوئوں کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کریں گے:
۱-  سیاسی جماعتوں میں جو خرابیاں اور کمزوریاں نمایاں ہوکر سامنے آرہی ہیں، ان میں سب سے اہم چیز نظریات، افکار اور وژن کی بنیاد پر پالیسیوں اور پروگراموں کی کمی ہے۔ علمی محاذ تو سبھی میں کمزور ہے اور تحقیق ناپید ہے۔ ماہرین سے استفادہ اور علم و تجربے کی بنیاد پر مسائل کا ادراک، ان کے مختلف حل کا جائزہ، عالمی حالات و رجحانات اور ملکی وسائل اور مسائل کا بے لاگ جائزہ لینے کی روایت موجود ہی نہیں ہے۔
۱۹۸۰ءکے عشرے تک کسی نہ کسی شکل میں نظریات پر مبنی پالیسیاں اور ان کے بارے میں بحث و مباحثہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے بعد یہ رجحانات کمزور پڑتے گئے۔ بلاشبہہ عالمی سطح پر بھی اس دور میں نظریات میں بڑا اُتار چڑھائو نظر آتا ہے اور مباحث کے رُخ بھی بدلتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں، حکومتی اداروں، حتیٰ کہ پلاننگ کمیشن تک نظر آتا ہے کہ  فکری اور نظریاتی اعتبار سےیہ غیرمؤثر ہوگئے ہیں۔ کچھ برسوں سے وژن اور مستقبل بینی کے نام پر بھی جو دستاویزات پیش کی گئی ہیں، ان میں سرے سے حقیقی وژن ہی کا فقدان ہے۔ نظریے کے مقابلے میں شخصیت اور خاندان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس طرح اپنی فطرت اور اصل کے اعتبار سے بڑی پارٹیاں سیاسی، جماعتی اور فکری تحریکات کے بجاے ’پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں‘ بن کر رہ گئی ہیں۔
دینی جماعتوں کا معاملہ کچھ بہتر ہے، لیکن ان کے باب میں بھی اس امر کا جائزہ لینا چاہیے کہ شریعت کا نفاذ اور پارلیمنٹ سے اسلامی، جمہوری، فلاحی ریاست کا قیام تو ایک تسلسل سے ان کی ترجیح رہا ہے، لیکن ان اصولی اور آفاقی تصورات کو اپنے ملکی احوال اور عوام کے حالات، مسائل کے اُلجھائو اور توقعات کے پس منظر میں قابلِ عمل پروگرام کی ایسی شکل میں پیش کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ پروگرام ان کے دل کی آواز اور ان کو اجتماعی جدوجہد اور قربانی پر آمادہ کرنے کا ذریعہ بن جائے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک مثبت قوت اور ایک واضح منزل کا شعور اور پروگرام رکھنے کے باوجود، دینی قوتوں کے سامنے اس اخلاقی اور نظریاتی وژن (vision)کو سیاسی وزن (political weight & power) میں ڈھالنے کے لیے بڑے پیمانے پر ابلاغ (communication) اور پیش کاری (projection) کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
اس وقت قوم کو سب سے زیادہ توقع دینی جماعتوںاور خصوصیت سے تحریک اسلامی سے ہے کہ اس نے جس طرح دستور کی حد تک ایک جدید اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست کے بنیادی خدوخال کو دستور کا حصہ بنوایا، اسی طرح وہ اسے زندگی کے پورے نظام انفرادی، اخلاقی، اجتماعی، معاشی، معاشرتی اور تہذیبی، سب میدانوں میں واضح اہداف اور پالیسیوں کے ذریعے قائم کرنا چاہتی ہے۔
اصولی اور بنیادی باتیں بہت واضح انداز میں پیش کی گئی ہیں، لیکن جس تفصیل کے ساتھ، جس انداز میں اور جس زبان میں آج پیش آنے والے سوالات کی تشریحِ نو کی ضرورت ہے،    اس باب میں اسی تسلسل سے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔
۲-  دوسرا سانحہ یہ ہے کہ قومی جماعتیں اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے سکڑ کرمقامی جماعتوںمیں تبدیل ہوگئی ہیں۔ بڑی جماعتوں کا ارتکاز کسی ایک صوبے یا علاقے تک ہی محدود نظر آتا ہے، جب کہ علاقائی جماعتیں توہیں ہی مخصوص مفادات یا علاقوں کے لیے۔فیڈریشن کے مستقبل کا بڑا انحصار اور قومی یک جہتی کی بنیادی ضرورت قومی جماعتوں پر منحصر ہے، جن کے ہر علاقے میں اثرات ہوں اور وہ تمام صوبوں، علاقوں اور گروہوں کو مربوط اور منظم رکھ سکیں۔
۳-  تیسری بنیادی چیز سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت اور شورائیت کا فقدان یا کمی ہے، دھڑے بندیاں ہیں،شخصیات یا خاندان وفاداریوں کے محور بن گئے ہیں۔جماعتیں نہ عمودی (vertical ) طور پر منظم ہیں اور نہ اُفقی (horizontal) سطح پر مربوط۔تنظیمی ڈھانچا اُوپر سے نیچے تک موجود نہیں ہے اور تربیت کا کوئی نظام نہیں ہے۔نئے لوگوں کو فکری اور تنظیمی اعتبار سے ضم کرنے کا عمل خام ہے۔ احتساب کا نظام مفقود ہے۔ لیڈرشپ سے ذاتی وفاداری کے نتیجے میں میرٹ اور اہلیت غیرمتعلق ہوکر رہ گئے ہیں، جس سے کارکنوں میں بددلی پیدا ہوئی ہے۔
۴- چوتھی چیز کرپشن کے موضوع پر پارٹیوں کا رویہ ہے۔ معاشرے میں شدید اخلاقی انحطاط ہے اور پارٹیوں کے اندر بھی کرپٹ عناصر کو نہ صرف برداشت کرنے بلکہ افسوس ناک حد تک انھیں پُرکشش (glamourize) کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ ذاتی اخلاق و کردار اور اجتماعی کردار اگر غیرمتعلق نہیں ہوگئے ہیں تو غیراہم ضرور سمجھے جارہے ہیں۔یہ بڑا ہی افسوس ناک اور خطرناک پہلو ہے۔ سیاست میں اصل قوت اخلاقی برتری اور کردار کی پختگی ہے۔ ہر دوسری کمی پوری کی جاسکتی ہے لیکن اگر امانت اور دیانت کا جوہر موجود نہ ہو تو اس کا کوئی متبادل نہیں۔     آج ہماری سیاست، سیاسی جماعتوں اور اجتماعی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ کرپشن اور بدعنوانی نہ صرف عام ہے بلکہ اس کا بُرا اور ناپسندیدہ سمجھا جانا بھی رفتہ رفتہ معدوم ہوتا جارہا ہے۔ یہ بہت بڑا سانحہ ہے۔ اگر اب بھی اس کی فکر نہ کی گئی تو پھر کوئی چیز ملک کو تباہی سے نہیں بچاسکتی۔ اگر ’ناخوب‘ ہی ’خوب‘ بن جائے تو پھر زندگی میں باقی رہ کیا جاتا ہے؟

تحریکِ اسلامی کا فریضہ
ان حالات میں دینی جماعتوں اور خصوصیت سے تحریک ِ اسلامی کی ذمہ داری ہے کہ  ایک صالح معاشرے کے قیام اور ایک صالح قیادت کو بروے کار لانے کے لیے مؤثر قومی اور کلیدی کردار ادا کرے۔ الحمدللہ، جماعت اسلامی کا دامن اس جدوجہد میں آج تک پاک رہا ہے۔ اس میں شخصیت پرستی اور موروثی سیاست کا کوئی وجود نہیں۔ جماعت کے اندر جمہوریت ہرسطح پر موجود اور مشاورت کا نظام قائم ہے۔ قیادت کا انتخاب ارکان کے آزادانہ انتخاب سے ہوتا ہے۔ غیر جانب دار محققین کے جائزے، اندرونی طور پر جماعت میں جمہوری اور شورائی نظام کی کارفرمائی کے  معترف ہیں۔ حکومت یا حکومت سے باہر جہاں بھی جس حد تک بھی ذمہ داری اس پر آئی ہے، اس کے کارکنوں نے دیانت اور امانت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے ہیں۔ قومی اسمبلی، سینیٹ، صوبائی اسمبلی، صوبائی وزارتیں جہاں بھی ان کو ذمہ داری دی گئی ہے، ان کا ریکارڈ نمایاں اور بے داغ رہا ہے۔ جس پر ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور مزید کی توفیق طلب کرتے۔
اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے سابق گورنر اور مشہور ماہر معاشیات ڈاکٹر عشرت حسین کی تازہ ترین کتاب: Governing the Ungovernable: Institutional Reforms for Democratic Government  ابھی حال ہی میں اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس نے شائع کی ہے۔ اس سے دو اقتباس ہدیۂ ناظرین ہیں:
دو بڑی مذہبی سیاسی جماعتیں، جماعت اسلامی اور جمعیت علماے اسلام مختلف اطراف (sideline) سے آکر سیاسی منظر پر غالب آجاتی رہی ہیں، لیکن یہ دونوں قومی سطح پر کبھی کامیابی حاصل نہیں کرسکیں۔ بہترین نتائج انھوں نے اس وقت حاصل کیے جب تمام کی تمام چھے مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد نے ۲۰۰۲ء میں متحدہ مجلس عمل (MMA) بنائی اور صوبہ سرحد میں انتخابات جیت کر حکومت بنالی، اور بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ساتھ اتحاد کر کے حکومت میں شامل ہوگئی۔
فی الوقت جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کی حکومت کا حصہ ہے، جب کہ جمعیت علماے اسلام وفاقی حکومت میں چند وزرا شامل کرانے میں کامیاب رہی ہے۔ جماعت اسلامی سب سے زیادہ منظم اور ضابطے کے تحت چلنے والی جماعت رہی ہے۔
افتخار ملک کے مطابق، پاکستان میں سیاسی جماعتوں کا امتیازی وصف ان کی ’موقع پرستی کی سیاست‘ رہی ہے، جہاں ذاتی مفاد کو باہم شادیوں اور کاروباری مہم جوئی کے ذریعے مستحکم کرلیا گیا اور نظریہ پچھلی نشستوں پر دھکیل دیا گیا، سواے جماعت اسلامی کے، جو کہ ریاست کو اسلامی بنانے کے نصب العین سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔
’پاکستانی سیاسی جماعتیں اتحاد اور جوابی اتحاد بناتے ہوئے ان اخلاقی تقاضوں کا خیال نہیں رکھتیں۔ نسل در نسل حکومت کرتے، ۵۰ کے قریب خاندانوں کے ذاتی مفادات نے، جنھیں باہمی شادیوں اور کاروبار نے استحکام بخشا ہوا ہے، ہمیشہ موقع پرستی کی سیاست کو مسلط کیا ہے۔ یہ نظریاتی اختلافات، مسائل کا جائزہ اور اس کے حوالے سے رویے کا تعین، اور نظریات کا مقابلہ سیاسی جماعتوں سے پہلو بچاکر گزر جاتے ہیں، سواے جماعت اسلامی کے، جو ریاست کو اسلامی بنانے کا واضح نصب العین سینے سے لگائے ہوئے ہے۔
کراچی کے سابق امیر جماعت اور کراچی کے سابق میئر نعمت اللہ خاں کے بارے میں ڈاکٹر عشرت حسین لکھتے ہیں:
جماعت اسلامی کے ۸۱ سے ۸۹ سال کے بوڑھے میئر نعمت اللہ خاں، ایک ایسے  ایمان دار فرد تھے جو زیرتکمیل کاموں کی مستعدی اور باقاعدگی سے نگرانی کرتے تھے، ان پر نظر رکھنے کے ساتھ لوگوں کی شکایات اور تکالیف کا ازالہ کرنے، اُن کی سیاسی وابستگیوں سے قطع نظر، دانش مندی اور انصاف سے معاملہ کرتے تھے۔
اچھے لوگ بلاشبہہ، ہر جماعت اور ہرطبقے میں موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جماعتی اور گروہی عصبیت سے بلند ہوکر اصول، صلاحیت،کردار اور میرٹ کی بنیاد پر اچھی قیادت کو برسرِاقتدار لایا جائے، تاکہ زندگی کا نقشہ بدل سکے اور پاکستان کو صحیح معنوں میںایک جدید اسلامی، جمہوری، فلاحی ریاست بنایا جاسکے۔ یہ کام ایک دن میں نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے اور اس سمت میں ایک مؤثر قدم اپنے ووٹ کے ذریعے ۲۵جولائی کو اُٹھایا جاسکتا ہے۔ آج پاکستان کو اُسی جذبے اور اسی نوعیت کی تحریک اور جدوجہد کی ضرورت ہے جیسی قائداعظم کی قیادت میں ۴۷-۱۹۴۰ء میں مسلمانانِ پاک و ہند نے کی تھی۔ کیا پاکستانی قوم اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار ہے؟ مستقبل کا انحصار آپ کے اور ہمارے آج کے فیصلے پر ہے:
یا مُردہ ہے یا نزع کی حالت میں گرفتار
جو فلسفہ لکھا نہ گیا خونِ جگر سے
اور:
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دُنیا کی امامت کا