November 15th, 2018 (1440ربيع الأول6)

62,63 اورقراردادِ مقاصد

 

حبیب الرحمن

اگر میں کسی بھری پری مجلس، ریلی، جلوس یا جلسے میں یہ کہہ دوں کہ پاکستان کے آئین سے قرارداد مقاصد اور آئین کی شق 62 اور 63 کو کھرچ کر نکال دیا جائے تو پورے پاکستان کی غیرت ایمانی جاگ جائے گی اور نتیجتاً میرے جسم کی بوٹیاں چیل کوں کو کھلائی جا رہی ہوں گی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میرے ساتھ یہ سلوک ظالمانہ ہو گا بلکہ ظلم تو یہ ہوگا کہ مجھے اس گستاخی پر کچھ نہ کہا جائے۔ ہمارا عالم یہ ہے کہ خواہ عملاً اسلام کے وضع کردہ خطوط پر چلیں یا نہ چلیں اور رات دن اپنے عمل سے اللہ اور اس کے رسول کی ہدایت سے بغاوت اپنا شعار بنالیں پھر بھی ہمارا ضمیر ہم پر ملامت کرتا ہے اور نہ ہی غیرت ایمانی جوش میں آتی ہے لیکن اگر کوئی اپنے ہی بنائے ہوئے کسی دستور میں ترمیم کی بات کرے تو پورے پاکستان میں آگ لگ جاتی ہے۔
آئین کی شق 62۔ 63 اور قرارداد مقاصد ہمارے آئین میں فرشتوں نے یا جنوں نے شامل نہیں کی تھی یہ ہم نے از خود اسلامی تعلیمات کی روشنی میں وضع کی تھی اور اس کو اپنے آئین کا جزوِلاینفک قرار دیا تھا۔ یہ اس بات کا اظہار تھا کہ ہمیں اللہ نے یہ ملک جسے پاکستان کہا جاتا ہے اپنے فضل خاص سے عنایت کیا ہے اور اس میں کوئی ایک قانون بھی ایسا نہ تو بنایا جائے گا اور نہ چلنے دیا جائے گا جو ذرہ برابر بھی اسلام کے وضع کردہ اصول سے ٹکراتا ہو اور اس کا کوئی حکمران بھی ایسا نہیں ہوگا جس کی وضع قطع، بودوباش، رہن سہن، لباس کی تراش خراش، شکل و صورت، گفتار، کردار الغرض اس کی زندگی کا کوئی ایک پہلو بھی ایسا نہیں ہوگا جو اللہ اور اس کے رسول (ص) سے بغاوت کی جانب اشارہ کرتا ہوا نظر آئے۔ قرارداد مقاصد کا مقصد ہی یہ تھا کہ پاکستان کے آئین کی کوئی ایک بھی شق اسلام کے خلاف نہیں ہونا چاہیے اور اگر سہواً ایسا ہو بھی جائے تو اس کی فوراً اصلاح کی جائے۔ آئین میں 62 اور 63 کو بھی اسی لیے شامل کیا گیا تھا کہ مملکت خداداد کا کوئی حاکم اور چنے گئے افراد بھی اس قانون پر پورا اترتے ہوں جس کا تقاضا ہم سے اللہ اور اس کے رسول (ص) کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ تو ہم ایک طویل عرصہ قبل کرچکے تھے لیکن اس پر عمل کرنے کے لیے ہم آج تک تیار وآمادہ نظر نہیں آتے البتہ اگر کوئی اسی طرز عمل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہہ دے کہ جب ان قوانین پر عمل کرنا ہی نہیں ہے تو کیوں نہ اس کو اپنے آئین اور دستور سے خارج ہی کردیا جائے تو پورے پاکستان کی ایمانی غیرت و حمیت جاگ جاتی ہے اور گلی گلی محلے محلے آگ لگ جاتی ہے۔
ہم بحیثیت قوم و ملت اس حد تک دو عملی کا شکار ہیں۔ سامنے کی مثال ہے کہ ’’الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2018 میں شراب اور منشیات استعمال کرنے والے امیدواروں کو انتخابی عمل سے روکنے سے انکار کر دیا ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق کراچی کے ایک شہری نثار احمد شیخ نے ایک مکتوب کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا سے درخواست کی تھی کہ الکحل اور منشیات کے استعمال کا پتا لگانے کے لیے تمام امیدواران کے لیے خون اور پیشاب کے لیبارٹری ٹیسٹ لازمی قرار دیے جائیں۔ جن امیدواران کے یہ ٹیسٹ مثبت آئیں انہیں عام انتخابات کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔ اس مکتوب کا الیکشن کمیشن نے تقریبا ایک ماہ کے بعد معذرت کی صورت میں جواب دیا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر (الیکشن) عاطف رحیم نے الیکشن کمیشن کی جانب سے بھیجے گئے جواب میں کہا ہے کہ منشیات اور الکحل کے لیے کسی ٹیسٹ کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ چوں کہ الیکشن کمیشن قانون سازی نہیں کرسکتا اس لیے اس ٹیسٹ کے لیے مناسب فورم سے رجوع کیا جائے۔ درخواست گزار نثار احمد شیخ نے ڈپٹی ڈائریکٹر (الیکشن) عاطف رحیم کے جواب میں واضح کیا ہے کہ اس کے لیے کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لیے پہلے سے ہی آئین میں حکم موجود ہے۔ آئین کے آرٹیکل 62 کی کلاز’’سی‘‘ کے مطابق رکن پارلیمنٹ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اچھے کردار کا مالک ہو اور اس کی شہرت ایسی نہ ہو کہ وہ اسلامی شعائر کی خلاف ورزی کرتا ہو۔ اسی آرٹیکل 62 کی کلاز ’’ڈی‘‘ کے مطابق رکن پارلیمنٹ کے کو اسلامی تعلیمات کی موزوں و مناسب معلومات رکھتا ہو اور گناہ کبیرہ سے اجتناب کرتا ہو۔ نثار احمد شیخ نے کہا ہے کہ شراب پینا اور منشیات کا استعمال آئین کے آرٹیکل 62 کے خلاف ہے اس لیے شراب اور منشیات کے استعمال کے لیے لیبارٹری ٹیسٹ لازمی قرار دیا جائے‘‘۔
اندازہ لگائیے کہ کہا جا رہا ہے کہ ہم شراب پینے والے پر یہ پابندی نہیں لگا سکتے کہ وہ الیکشن میں حصہ نہ لے۔ گویا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ شراب پینا نہ صرف یہ کہ گناہ کبیرہ نہیں بلکہ (نعوذ باللہ) عین اسلام ہے اور اس پر اسلام کوئی حد جاری نہیں کرتا۔ یہ بات اسلامی جمہوریہ پاکستان کا الیکشن کمیشن کا ایک نہایت ذمے دار فرد کہہ رہا ہے اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ شرابیوں کو اجازت دے رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو صادق اور امین مانتے ہوئے شراب کے ڈرم میں ڈوب کر بھی الیکشن میں حصہ لینے کا اہل ہے بلکہ کہ نااہل، نادان اور جاہل وہ لوگ ہیں جو ایسا نہیں کرتے اور ہر وقت اللہ ہو اللہ ہو کی گردان میں لگے رہتے ہیں۔
بات شراب ہی پر کیا موقوف ہے یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ یہاں اس بات کی تو پکڑ ہوتی ہے کہ کس کے پاس لوٹی ہوئی کتنی دولت ہے لیکن میں نے آج تک یہ نہیں دیکھا اور نہ سنا کہ کسی کی دولت، جائداد، اثاثوں کے حساب کتاب کے بعد یہ دریافت کیا گیا ہو کہ ان کھرب ہا کھرب کے مال و اسباب پر تم نے زکوٰۃ بھی ادا کی یا نہیں؟ البتہ ٹیکس کے متعلق ضرور سوال کیا جاتا ہے۔ جس اسلامی ملک میں ملک کے قوانین کے متعلق ٹیکس نہ دینے والا تو مجرم اور لائق سزاوار ہے لیکن اسی اسلامی ملک میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے والے سے سوال تک نہ پوچھنا کیا عجیب سا نہیں لگتا؟۔
کسی کی آمدنی سے اس کے اخراجات خواہ ہزارگناہ ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، پاکستان کا کوئی ادارہ اس کی جانب آنکھ بھرکر دیکھنے کے لیے بھی تیار نہیں یہاں تک کہ اگر کوئی عدالت پہنچ کر کسی کے آمد خرچ کے متعلق سوال کر لے تو کہا جاتا ہے کہ تم ثبوت بھی لاؤ۔ یہ وہ انداز ہے جس سے چوروں اور ڈاکوؤں کو ایسا تحفظ ملا ہوا ہے کہ وہ کبھی قانون کی گرفت میں آہی نہیں سکتے۔
بات فقط اتنی ہے کہ ترتیب کو صرف الٹنا ہے۔ ثبوت مدعی کے بجائے مجرم سے مانگے جائیں تو پاکستان میں نہ جانے کتنے امیرزادوں بلکہ حرام خورزادو کے کلیجے پانی ہو جائیں۔ ہر وہ فرد جس پر شک ہو کہ اس کے اخراجات اس کی آمدنی سے زیادہ ہیں، اس کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے آمدوخرچ کے گوشوارے عدالتوں میں جمع کرائے تو یہ سارے حرام خور حرام کی موت مر جائیں گے۔
وہ کون مقتدر شخصیت ہے جس کی آمدنی سے اس کے اخراجات کئی ہزار گنا زیادہ نہیں۔ حد یہ ہے کہ 22 کروڑ انسانوں میں سے ایک صادق اور امین ملک کا عبوری وزارت عظمیٰ کے لیے چنا گیا تھا تو وہ بھی الامان و الحفیظ قارون کا چچا نکلا۔ مصدقہ اطلاع کے مطابق ’’نگراں وزیراعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک بھی بیرون ملک جائدادوں کے مالک نکلے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعظم کی سنگارپور اور برطانیہ میں کروڑوں روپے مالیت کی املاک ہیں جو بیوی کے نام پر لی گئیں۔ ناصرالملک کے اسلام آباد میں 3 پلاٹ اور ڈپلومیٹ انکلیو میں اپارٹمنٹ بھی ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق نگراں وزیراعظم 3 لاکھ 80 ہزار ڈالر کے مقروض ہیں جب کہ 4مختلف بینکوں میں ان کی 10 کروڑ 25 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بھی موجود ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ناصر الملک کی سوات میں 45 دکانیں جب کہ فلور مل اور سی این جی اسٹیشن میں شیئرز بھی ہیں۔
بتایا گیا کہ نگراں وزیراعظم کے نام پر پاکستان میں 14جائداد ہیں، ان کی سوات میں 8 مختلف اراضی گفٹ ظاہر کی گئیں جب کہ پشاور میں اراضی بھی والد کی طرف سے گفٹ ظاہر کی گئی ہے جب کہ ناصر الملک کے اثاثوں میں 31لاکھ روپے کے زیورات اور 65لاکھ روپے مالیت کا فرنیچر بھی شامل ہے۔ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ناصر الملک کی ہونڈا سوک 2012ء ماڈل کی کار کی مالیت 10لاکھ روپے ہے جب کہ ٹویوٹا 2012ء ماڈل کی مالیت 48لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے‘‘۔ جب ہمارے 22 کروڑ افراد میں سے چھان پٹک کر چنا جانے والا صادق و امین ایسا ہوگا تو پھر باقیوں کی مثال تو سورج کے سامنے رکھے ہوئے چراغوں کی سی ہوگی۔
اس تمام تر صورت حال کو سامنے رکھنے کے بعد امیر جماعت اسلامی کے اس بیان کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے کہ: ’’الیکشن کمیشن 62/63 کی روشنی میں تمام امیدواروں کی جانچ پڑتال مکمل کر کے عوام کو دیانت دار قیادت کے انتخاب کا موقع دے۔ الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ کرپٹ اور بدعنوان لوگوں کا راستہ روکے۔ اگر 62/63 پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کو یقینی نہ بنایا گیا تو ایک بار پھر وہی چور لٹیرے دولت کے بل بوتے پر ایوانوں پر قابض ہو جائیں گے۔ ہم فرد اورخاندانوں کی بادشاہت کے بجائے ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کا محاسبہ چاہتے ہیں جنہوں نے 70 سال میں پاکستان کو مقروض بنایا اور پاکستان کے وسائل لوٹ کر باہر منتقل کیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان سے لوٹی دولت واپس آجائے تو نہ صرف ملک کا قرضہ اتر سکتا ہے بلکہ تعلیم، صحت، روزگار اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل بھی حل ہوسکتے ہیں‘‘۔
یہاں جو سوچنے کی بات ہے وہ یہ ہے کہ وہ ساری قوتیں جو کسی قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنا سکتی ہیں جب ساری کی ساری کرپٹ اور خرام خور ہوں تو پھر بار بار دیواروں سے ٹکریں مارنے والوں کو پاگل ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ جس کا حاکم خواہ وہ منتخب ہو یا عبوری، سول ہو یا عسکری چور ہو، ڈاکو ہو، قاتل ہو، اپنی بہو بیٹیوں کا دلال ہو، زمین کا سودا کرنے والا ہو اس سے خیر کی توقع لگانا ایسا ہی ہے جیسے کسی شیطان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ انصاف کی میزان قائم کردے گا۔
ان ساری باتوں کو سامنے رکھنے کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے ساتھ مزید مذاق جاری رکھنے کے بجائے اس کے نام کے ساتھ ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ اور اس کے آئین اور دستور سے ’’قرارداد مقاصد‘‘ اور شق 62 اور 63 کو نکال دیا جائے یا پھر آئین اور دستور کو مکمل اسلام کا پابند اور منتخب نمائندوں اور حاکموں کو شق 62 اور 63 کا پابند بنایا جائے۔ یہی آخری حل ہے ورنہ ’’تحلیل‘‘ مقدر ہے۔
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہوجا
سراسر موم ہو یا سنگ ہوجا