November 17th, 2018 (1440ربيع الأول8)

عملی زندگی میں تنظیم وقت

 

محمد بشیر جمعہ
حسن بصریؒ فرماتے ہیں: اے ابن آدم!دن تمھارے پاس مہمان ہوکرآتا ہے اس لیے اس کے ساتھ بہتر سلوک کرو۔ اگر تم بہتر سلوک کرو گے تو وہ تمھاری تعریف کرتے ہوئے چلا جائے گا۔ اگر بدتر سلوک کرو گے تو تمھاری مذمت کرتے ہوئے چلا جائے گا۔ اسی طرح رات کا بھی معاملہ ہے۔
ان ہی کا قول ہے: ابن آدم پر آنے والا ہر دن کہتا ہے اے ابن آدم! میں نئی مخلوق ہوں، تیرے کاموں پر گواہ ہوں، اس لیے مجھ سے فائدہ اُٹھا کیوں کہ جب مَیں چلا جائوں گا تو قیامت تک واپس نہیں آئوں گا۔ تم جو چاہو اگلی زندگی کے لیے پیش کرو، تم اس کو اپنے سامنے پائوگے اور جو چاہو پیچھے کرو وہ لوٹ کر دوبارہ تمھارے پاس نہیں آئے گا۔

تنظیمِ وقت کے بارے میں ہدایات
منصوبہ بندی اور فہرست اُمور کی تکمیل کے بعد اور ان کے نفاذ کے دوران رکاوٹوں سے بچنے اور بہترین نتائج و ثمرات حاصل کرنے کے لیے چند ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:
    ٭    اپنے یومیہ کاموں کی فہرست پر نظر رکھیں اور اس فہرست کو بنانے کی عادت ڈال لیں اور اس پر عمل کریں۔
    ٭    کاموں کو جلدی انجام دینے والے بنیں اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ سب سے اہم قدم ابتدائی ہوتے ہیں۔ میزائل اپنے بارود کا ۸۰ فی صد حصہ پہلے لمحات میں پھینکتا ہے۔
قرآن کریم نے مسابقت اور جلدی کرنے پر ہم کو اُبھارا ہے:
    ٭    وَسَارِعُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ۝۰ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِيْنَ۝۱۳۳ۙ (اٰل عمرٰن۳:۱۳۳) اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف لپکو  جس کی وسعت آسمان اور زمینوں کے برابر ہے جو متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان پر پیش آنے والے سب سے زیادہ سخت ترین حالات میں بھی ہم کو مسابقت کا حکم دیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’اگر قیامت آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہو اور اس کو بو سکتا ہو تو بوئے۔ کیا تم نے اس سے زیادہ مسابقت کی خواہش دیکھی ہے کہ پودا بویا جائے اور اس کے نتیجے کا انتظار نہ کیا جائے۔
    ٭    ہمیشہ مشکل یا طبیعت پر بار کاموں سے ابتدا کریں اور ان کو نشاط و چُستی کے اوقات میں انجام دیں۔ یہ اصول اچھی طرح سمجھ لیں کہ ابتدا جس طرح ہوگی انتہا بھی اسی طرح ہوگی، یعنی جتنے اچھے اور بہتر انداز میں کام کی ابتدا ہوگی اسی اچھے انداز میں وہ کام انجام پائے گا۔
    ٭    بڑے کاموں پر زیادہ توجہ دیں۔ اس کو اجزا میں تقسیم کریں یا متعدد کاموں میں بانٹ دیں، اور ان کو انجام دینا شروع کردیں، ان شاء اللہ وہ کام پایۂ تکمیل تک پہنچیں گے۔
کاموں کو انجام دینے والے بنیں، اس طور پر کہ:
    ٭    ایک ہی کام پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ اپنی محنت اور دماغ کو تقسیم نہ کریں۔ ایک ہی وقت میں ایک سے زائد کام نہ کریں،اور اللہ کا فرمان یاد رکھیں:
        مَا جَعَلَ اللہُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِيْ جَوْفِہٖ ۝۰ۚ (الاحزاب ۳۳:۴) اللہ تعالیٰ نے  کسی شخص کے دھڑ میں دو دل نہیں بنارکھے۔
    ٭    تردّد نہ کریں، جو کام اپنے سامنے ہو اسے انجام دیں۔ اس کو مکمل کرنے سے پہلے دوسرا کام ہرگز شروع نہ کریں: اگر تم صاحب الراے ہو تو پختہ ارادے والے بنو، کیوں کہ راے کے بگاڑ کی وجہ سے تردّد ہوتا ہے۔
    ٭    اپنے کاموں میں پختگی پیدا کریں۔ کاموں کو انجام دینے کے لیے بہترین طریقہ اپنائیں۔ کاموں میں پختگی دینی فریضہ ہے جس کو اللہ پسند کرتا ہے اور اس سے آپ کی محنت اور وقت کی بچت ہوتی ہے۔ اپنے کیے ہوئے کام کی طرف دوبارہ رجوع کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی (اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کو انجام دے تو پختگی کے ساتھ انجام دے)۔
    ٭    حتی الامکان وقت ِ مقررہ پر کام پورا کرنے کی کوشش کریں۔
    ٭    معذرت کرنا اور ’نہ‘ کہنا بھی ایک فن ہے جسے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں، وہاں ’نہ‘ کا لفظ استعمال کرنا مشکل کا باعث بن جاتا ہے اور اس سے کبھی ذمہ دار کو غصہ آسکتا ہے۔ اس لیےکبھی ’نہ‘ نہ کہو، لیکن نفی اس انداز میں کریں کہ کسی کو غصہ نہ آئے، یعنی سلیقے سے معذرت کریں، مثلاً آپ اپنے ذمہ دار کے پاس جائیں اور اپنی ذمہ داریوں اور پہلے انجام دیے جانے والے ضروری کاموں کی تفصیل بتائیں تاکہ اس کو اطمینان ہوجائے کہ آپ مشغول ہیں۔
    ٭    اپنے کاموں کو منقطع نہ کریں بلکہ مکمل کرنے کی عادت ڈالیں۔
    ٭٭     حافظ عینی نے اپنی کتاب عمدۃ القاری میں لکھا ہے کہ امام محمد بن سلام املا کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اور شیخ الحدیث بیان کر رہے تھے کہ محمد بن سلام کا قلم ٹوٹ گیا۔ انھوں نے اعلان کرنے کا حکم دیا کہ ایک دینار میں ایک قلم چاہیے۔ ہر طرف سے قلموں کی بارش ہوگئی۔ انھوں نے ایک قلم کے لیے ایک دینار کی قربانی دی تاکہ اپنے شیخ کا جاری کام منقطع نہ ہو (دینار اس دور میں بہت بڑی رقم تھی)۔
    ٭٭     خطیب بغدادی نے جاحظ کے بارے میں نقل کیا ہے کہ جب بھی کوئی کتاب اس کے ہاتھ لگتی تو اس کو شروع سے آخر تک پڑھتے، لیکن آج کے دور میں سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی کتاب کو خریدنے والے ۱۰ فی صد لوگ بھی پہلی فصل سے آگے نہیں بڑھتے۔ کیا آپ نے سنجیدہ قوم اور بیکار قوم کے درمیان فرق دیکھ لیا؟
    ٭    وقت ضائع کرنے والی چیزوں کا مقابلہ مہارت سے کیجیے۔ وقت ضائع کرنے والے بعض اُمور شخصی ہوتے ہیں، مثلاً منصوبہ بندی اور کاموں کی حوالگی کی ضرورت، انتشار، ٹال مٹول، انکار کی عدم صلاحیت، دل چسپی کا فقدان اور اُکتاہٹ، زائد مثالیت، مناقشہ اور جدل سے دل چسپی اور لگائو۔وقت ضائع کرنے والے بعض اُمور ہنگامی ہوتے ہیں، مثلاً ملاقاتی، فون، ٹی وی، میٹنگوں کی کثرت، انتظار، ہنگامی حالات، خطوط کی کثرت، روٹین اور تجاویز،  یہ بات صرف آپ پر ہی موقوف ہے کہ آپ ان اُمور کے ساتھ کیسے پیش آتے ہیں۔
    ٭    دورِ حاضر کی ایجادات جس میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں، ان کے فوائد بھی بہت ہیں مگر اس میں احتیاط کی بہت ضرورت ہے۔
        p   ٹیلی وژن ___ اس کا استعمال کسی ایک چینل کی خبروں تک تو معلومات کی ضرورت پورا کرتا ہے مگر اہتمام کے ساتھ روز کے چند گھنٹے اس پر خرچ کرنا اپنے ساتھ ظلم ہے۔ یہ کچھ لوگوں کا ایک کاروبار ہے جس کے نفع میں ہمارا وقت، توانائی اور پیسہ خرچ ہوتا ہے۔
        p   انٹرنیٹ، ای میل اور ٹیکسٹ میسجز میں توازن رکھیں کہ یہ آپ کے وقت کو کھا جاتے ہیں۔
        p   سوشل میڈیا پر اتنا ہی وقت خرچ کریں جس کا آپ کو فائدہ ہو اور غیرضروری طور پر اپنا وقت ضائع نہ کریں۔
    ٭    ہنگامی افکار و خیالات سے بچنا۔ کاموں کے دوران بہت سے افکار ذہن میں آتے ہیں، جن کو ہم اس وقت اہم سمجھتے ہیں ۔ کبھی ہم اس کی خاطر اپنا کام منقطع کرتے ہیں یا کم از کم تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی ان میں مشغول ہوجاتے ہیں، مثلاً فلاں سے رابطہ، کسی گم شدہ چیز کی تلاش اور دوسرے کام کو شروع کرنا وغیرہ۔ اس وقت آپ پر مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے:
        p   ان افکار کو قبول نہ کریں کیونکہ یہ وقت برباد کرنے والے ہیں۔
        p   اپنا کام منقطع نہ کریں ، مگر یہ کہ کوئی واقعی ضرورت ہو۔
        p   ان افکار کو بعد میں غور کرنے کے لیے کسی کاغذ پر لکھ لیا کریں۔ پھر اپنا کام مکمل کرنے کے بعد اس فہرست پر نظر ڈالیں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔
    ٭    اپنے کاموں کو پانچ منٹ کے نسخے سے انجام دیں۔ بہت سے کام پانچ منٹ سے زیادہ کے نہیں ہوتے، مثلاً کسی کی راے معلوم کرنا، مختصر رپورٹ تیار کرنا وغیرہ۔ ان کاموں کو  فی الفورانجام دے کر ان سے چھٹکارا پانا چاہیے۔ اسی انداز سے ٹیلی فون اور موبائل پر اپنی پچھلی ملاقات سے اب تک کا حال بیان نہ کریں۔
    ٭    انتظار کے باعث ضائع ہونے والے اوقات سے فائدہ اُٹھایئے، مثلاً سواری کے انتظار میں گزرنے والا وقت اور کاموں کے درمیان ملنے والے اوقات وغیرہ۔ یہ انتظار کے اوقات ہمارے تصور اور گمان سے زیادہ ہیں۔ اگر ہم ان اوقات سے استفادہ کریں گے تو ہمیں بہت فائدہ ہوگا۔ہم ان کاموں کی فائل تیار کرسکتے ہیں جن کو ضائع ہونے والے اوقات میں انجام دیا جاسکتا ہے، مثلاً اخبارات کا مطالعہ، قرآن کی تلاوت، کسی کتاب کا مطالعہ، کیسٹس سننا، فون پر کسی سے رابطہ کرنا، اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے حالات دریافت کرنا وغیرہ۔ دورِحاضر میں موبائل فون پر موجود سہولتوں سے خاص کر ای میل ڈرافٹ کی جاسکتی ہیں۔
    ٭    ایک کام ختم ہونے کے بعد اپنے دوسرے کام کی طرف منتقل ہوجائیں۔ کاموں کے درمیان کا اپنا وقت ضائع نہ کریں۔
        قاضی شریح کا گزر جولاہوں کی قوم سے ہوا، وہ کھیل رہے تھے۔ قاضی صاحب نے ان سے پوچھا: تم کھیل کیوں رہے ہو؟ انھوں نے جواب دیا: ہم اپنے کاموں سے فارغ ہوگئے ہیں۔ اس پر قاضی صاحب نے فرمایا: کیا فارغ شخص کو اسی کا حکم دیا گیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ہے:
        فَاِذَا  فَرَغْتَ فَانْصَبْ O (الم نشرح ۹۴:۷) جب تم فارغ ہوجائوتو میری عبادت کے لیے کھڑے ہوجائو۔
    ٭    ایک کام اور دوسرے کام کے درمیان وقت کو ضائع نہ کریں۔
    ٭    اپنے وعدوں کا خیال رکھیں۔ جس سے کسی بھی قسم کا وعدہ کریں اسے کاغذ، کارڈ یا موبائل پر ریکارڈ کرلیں۔
    ٭    اپنے مقررہ اوقات کو اچھی طرح ترتیب دیں۔
    ٭    وقت، جگہ اور مقررہ جگہ پہنچنے کے وسائل سے اچھی طرح واقفیت حاصل کرلیں۔
    ٭    پہلے سے وقت کے تعین کے بغیر کسی سے ملاقات کے لیے نہ جائیں۔ دوسروں سے ان کے اپنےاوقات سے استفادہ کرنے میں تعاون کریں۔
    ٭    ملاقات کے آداب کا خیال رکھیں۔
    ٭    اُکتاہٹ سے بچیں، راحت اور آرام کے لیے بھی ایک وقت متعین کریں، لیکن اس کی بھی حد ہو۔
    ٭٭     شیخ یوسف القرضاوی فرماتے ہیں: ’’ہماری زندگی سنجیدہ ہونا ضروری ہے جس کے دوران کچھ راحت کا وقت ہو، نہ کہ ہماری زندگی راحت بن جائے اورسنجیدگی کے لیے کچھ وقت دیا جائے‘‘۔
    ٭٭     سیّدنا علیؓ نے فرمایا: ’’دلوں کو راحت دو کیونکہ دل جب تھک جاتے ہیں تو اندھے ہوجاتے ہیں‘‘۔
    ٭    ہماری مشکل یہ ہے کہ راحت اور آرام اپنے حق سے زیادہ وقت لے لیتے ہیں۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ راحت کے لیے مناسب وقت ہو اور اس کی مناسب حدود ہوں اور یہ گناہ کی حد تک نہ پہنچ جائے، بلکہ اگر انسان مفید چیزوں کے ذریعے اپنے نفس کو راحت پہنچائے تو آرام کے مقابلے میں یہ زیادہ بہتر ہے۔
    ٭    ابن عباسؓ جب گفتگو سے تھک جاتے تو کہتے: ’’شعرا کا دیوان لے آئو‘‘۔محدث ابن شعبہؒ جب حدیث کو اِملا کرا کے تھک جاتے تو اشعار گنگنانے لگتے۔ بہتر یہ ہے کہ ہمارے منصوبے کے ضمن میں راحت بھی ہو۔ اس طرح اُکتاہٹ کا احساس بھی ختم ہوجائے گا اور راحت کے اوقات بھی متعین ہوجائیں گے۔
    ٭    اُکتاہٹ کے اسباب کو معلوم کر کے اس کا علاج بھی کرنا چاہیے۔ اسی طرح اپنے کام کرنے کی جگہ یا اپنی ڈائریوں کی تبدیلی سے بھی اُکتاہٹ دُور ہوجاتی ہے۔
    ٭    ورزش: اپنے جسم کو چست و توانا بنانے کے لیے ورزش پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور پر انجام دے سکیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو ہمیشہ یاد رکھیں: ’’طاقت ور مومن بہتر اور پسندیدہ ہے، کمزور مومن کے مقابلے میں‘‘۔
    ٭    پرانی کہاوت ہے: ’’صحیح و سالم جسم میں عقلِ سلیم ہونی چاہیے‘‘۔
    ٭    محمد بن ابی حاتم امام بخاری کے بارے میں کہتے ہیں: ’’میں بہت سالوں تک ان کے ساتھ رہا لیکن میں نے صرف دو مرتبہ ان کے تیر کا نشانہ خطا ہوتے دیکھا۔ دوڑ میں ان کے مقابلے میں کوئی کامیاب نہیں ہوتا تھا‘‘۔
    ٭    امام بخاری علم میں اپنی مشغولیات کے باوجود نشانہ بازی اور دوڑ میں حددرجہ مشق کرتے تھے۔ سوچنا چاہیے کہ ہمارے لیے ان لوگوں کی پیروی کرنا کتنا ضروری ہے۔
    ٭    اپنے وقت کی ترتیب کی پابندی کیجیے،اپنے مقصد تک پہنچ جائیں گے۔ اپنے آپ کو صبر اور پابندی کے ہتھیار سے مسلح رکھیں اور ہروقت ذہن میں یہ آیت کریمہ مستحضر رہے:
        وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا  لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا(العنکبوت ۲۹:۶۹) جو ہم میں کوشش اور مجاہدہ کرتے ہیں، ہم ان کے لیے اپنے راستے کھول دیتے ہیں۔

اہم ہدایات
    ٭    مؤثر (effective)بننے کی کوشش کریں۔ وہ کام کریں جو آپ کا فریضہ ہے۔
    ٭    جو کام آپ کا ہے اس کے لیے مستعد (efficient) بننے کی کوشش کریں۔ یعنی سلیقے سے، بہتر انداز سے اور کم وقت میں کرنے کی کوشش کریں۔
    ٭    اپنے یومیہ اوقات کی پابندی کریں۔
    ٭    کاموں کو جلدی انجام دینے والے بنیں۔
    ٭    مشکل کاموں سے ابتدا کریں۔
    ٭    اپنے پرائم ٹائم یا نشاط کے اوقات کا خیال رکھیں اور اس میں اہم ترین کاموں کو کرنے کی کوشش کریں۔
    ٭    بڑی ذمہ داریوں پر خصوصی توجہ دیں۔
    ٭    کاموں کو انجام دینے والے بنیں۔
    ٭    اپنے کاموں میں پختگی پیدا کریں۔
    ٭    مقررہ وقت پر کام مکمل کریں۔
    ٭    کبھی کام کرنے سے انکار نہ کریں۔
    ٭    اپنے کام کو منقطع نہ کریں۔
    ٭    وقت ضائع کرنے والی چیزوں سے بچیں۔
    ٭    ہنگامی افکار و خیالات سے بچیں۔
    ٭    پانچ منٹ کا نسخہ اپنائیں۔
    ٭    انتظار کے باعث ضائع ہونے والے وقت سے استفادہ کریں۔
    ٭    ایک کام مکمل کرکے اپنی دوسری ذمہ داریوں کی طرف منتقل ہوجائیں۔
    ٭    اپنے وعدوں کی پابندی کریں۔
    ٭    اُکتاہٹ سے بچیں۔
    ٭    ورزش کی پابندی کریں۔
    ٭    اپنے وقت کی ترتیب کی پابندی کریں۔
نگرانی اور جائزہ
نگرانی اور جائزے کا مطلب سابقہ منصوبے کے نفاذ کا موازنہ اس مقصد سے کرنا کہ غلطیوں کا تعین کیا جائے اور مثبت اُمور سے فائدہ اُٹھایا جائے اور منفی اُمور سے بچا جائے۔
فعال نگرانی کرنے کے اوصاف مندرجہ ذیل ہیں:

 نگرانی کی نوعیت:مفہوم
٭فوری:نگرانی اور جائزہ منصوبے کے نفاذ کے ساتھ ہی الاوّل فالاول کے اعتبار سے کی جائے تاکہ وقت نکلنے سے پہلے کوتاہیوں اور خامیوں کا علاج کیا جاسکے۔
٭استمراری:نگرانی مسلسل جاری رہے اور تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد نتائج کو جمع کیا جائے۔
٭اقتصادی:وقت اور محنت فائدہ سے زیادہ نہ خرچ کیے جائیں۔
٭اصلاحی:صرف غلطیوں کو لکھنے اور نفس کو ڈانٹنے کے مقصد سے نہ ہو۔
٭مضبوط:صرف حقیقت سے ہٹ کر جامد کارروائیاں نہ ہوں بلکہ منصوبہ اور اس کو نافذ کرنے کے حالات بھی مناسب ہوں۔