May 25th, 2019 (1440رمضان20)

پاکستان سے محبت جرم بن گئی

٭ مرحوم مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنے ہوئے 47 سال ہوگئے تا ہم مشرقی محاذ پر پاکستان کی مسلح افواج کے ساتھ مل کر پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑنے والے بنگلہ دیش کے 70 کیمپوں میں مقیم تین لاکھ پاکستانی تا حال پاکستان آنے کی خواہش لے کر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اپنی بقیہ زندگی کو انتہائی کسمپری کے عالم میں گذارنے پر مجبور ہیں۔ واضح رہے کہ ان پاکستانیوں کی ایک نسل 47 سال کی ہوگئی جبکہ ان کے بچوں کے بچے بھی جوان ہوگئے ہیں اس حالتِ زار کے باوجود وہ پاکستان کا دم بھرتے ہیں اورصرف پاکستان آنا چاہتے ہیں۔ آج بھی ان کے کیمپوں پر پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیںجس کو وہ صبح و شام حسرت بھری نگاہ سے دیکھتے ہیں پاکستان سے محبت کا یہ عالم ہے کہ وہ جشنِ آزادی پاکستان ہو یا یوم پاکستان اپنے اپنے کیمپوں میں جوش و جذبہ کے ساتھ ضرور مناتے ہیں۔ جن کے آبائو اجداد نے پہلے 1947 میں پاکستان کے قیام کیلئے قربانی دی اور اس کے بعد انہوں نے 1971 کی جنگ میں ہماری مسلح افواج کے ساتھ مل کر پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑی اور آج ان کا اپنا ملک پاکستان انہیں واپس لینے سے انکاری ہے۔ کیمپوں میں مقیم بعض نوجوان جذباتی انداز میں کہتے ہیں کہ ہمارا کیا قصور ہے؟ کیا ہم پاکستانی نہیں پاکستان سے محبت کرنے والوں کی حالت زار دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ وہاں کے نوجوان کیمپوں کا دورہ کرنے والے ہر پاکستانی سے یہ پوچھتے ہیں کہ ہمارا مستقبل کیا ہے؟ آپ بتائیں ہم کب پاکستان جائیں گے آپ ہمیں کب پاکستان بلائیں گے۔ کیمپوں کا دورہ کرنے والے پاکستانی انہیں سمجھاتے ہیں کہ جس پاکستان میں آپ جانا چاہتے ہیں جہاں جانے کیلئے آپ لوگوں نے 47سال انتظار کیا ہے دشمن مودی حکومت اس موجودہ پاکستان کو بھی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ دشمن اب اس کے پیچھے بھی پڑگیا ہے پاکستانی سرحدیں غیرمحفوظ ہوگئی ہیں اور بارڈر پر پاکستانی مسلمانوں کو خون میں نہلا رہے ہیں اس صورتِ حال میں پاکستان کی پوری قوم پریشانی کے عالم میں ہے۔ آپ جس ملک میں جانا چاہتے ہیں اس کا نام ہے پاکستان ۔ اللہ تعالیٰ سے پہلے اس پاکستان کی سلامتی کی دعا کریں جتنی قربانی آپ کے آبائواجداد نے اس کو قائم کرنے کے لئے دی تھی اب موجودہ پاکستان کی سلامتی کیلئے آپ کی دعائو ں کی اتنی ہی زیادہ ضرورت ہے اللہ تعالیٰ آپ کی دعائو ں کو ضرور سنے گا اور وہ دن دور نہیں آپ پاکستان ضرور جائیں گے پاکستان آپ کا اپنا ملک ہے آپ کا اس ملک پر زیادہ حق ہے آپ کو کسی سے پاکستانی ہونے کی سند لینے کی ضرورت نہیں صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ
چپ کر در وٹ دھیاڑے کٹ
بھلے دن آون گے
راقم الحروف نے چند سال قبل بنگلہ دیش کے متعدد شہروںڈھاکہ، رنگپور، سید پور، دیناج پوراور ایشرڈی کے کیمپوں کا دورہ کیا جہاں حمید ہ نامی ایک خاتون نے جب سنا کہ کوئی پاکستان سے آیا ہے تو روٹی توے پر چھوڑ کر وہ باہر آگئی اور کہا کہ بھائی صاحب پاکستان سے جو بھی آتا ہے ہم سے ہمدردی جتاتا ہے لیکن جانے کے بعد ہمیں بھول جاتا ہے آپ لوگ ایسے کیوں ہیں؟ راقم الحروف نے خاموشی سے سُنا اور جب اس کی اپنی کہانی جاننے کیلئے درخواست کی تو اس نے بتایا کہ وہ اسی کیمپ میں پیدا ہوئی یہیں جوان ہوئی اور اس کا شوہر بھی اسی کیمپ میں پیداہوا اور یہیں جوان ہوا اور اب اسی کیمپ میںتین بچے کی ماں ہوں ہماری قومی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ہم ان کو پوچھتے بھی نہیں۔ مختلف شہروں کے کیمپوںمیںمقسم ہزاروں کی نفوس کیلئے صرف چند لیٹرین ہیں نمازِ فجر سے پہلے آج بھی قطار یں لگتی ہیں اس صورتِ حال میں اگر کسی کو دست لگ جائے تو اس کااندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ سیکڑوں کی تعداد میں بوڑھے اور خواتین آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا اور خوراک کی عدم دستیابی کی وجہ سے لاغر نظر آتے ہیں کیمپ کے اکثر رہائشی کو ایک وقت کا کھانا بھی مشکل سے میسر ہوتا ہے۔ کسی بھی بیرونی امداد ا نہیں میسر نہیںَ ہزاروں بچے تعلیم کی سہولت سے محروم ہیں ( ایس پی جی آر سی ) کی کوششوں سے کچھ بچوں کو تعلیم دینے کا اہتمام کیا گیا ہے جبکہ بیرونِ ممالک بعض لوگ ان محب وطن پاکستانیوں کی حالتِ زار سے دنیا کو آگاہ کر کے ان سے امداد میں ملنے والی رقم میں سے بعض افراد کبھی کبھار ان کی تھوڑی بہت کوئی مدد بھی کر دیتے ہیں۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر اہل پاکستان اگر کچھ نہیں کرسکتے تو کم از کم ان کو سردیوں میں گرم کپڑے ، ادویات اور غذائی اجناس کے علاوہ کیمپوں میں اجتماعی لیٹرین ہی بنوادیں تاکہ جب تک ہم پاکستانی انہیں پاکستانی ہونے کی سزا دیتے رہیں وہ کم از کم اس سزا کو بھگتنے کے تو قابل ہوجائیں۔ جہاں تک بنگلہ دیشی سپریم کورٹ کی جانب سے محصورین پاکستان کو بنگلہ دیشی شہریت دینے کے اعلان کا تعلق ہے در اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک دھوکا ہے۔ بنگلہ دیشی سپریم کورٹ نے 1971 کے بعد پیدا ہونے والے محصورین کی اولادوں کو شہریت دینے کا جو اعلان کیا تھا وہ محض دھوکہ تھا آج تک اس اعلان کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا۔ اگر محصور پاکستانیوں کی اولادوں کو شہریت مل بھی جائے تو اس سے انہیں کیمپوں سے بے دخلی کے سوا کچھ نہیں ملے گا اور ان کے والدین محصور پاکستانیوں کو کبھی وطن واپس لایا بھی گیا تو ان نوجوانوں کا کیا بنے گا؟ اس طرح بچے بنگلہ دیشی ہوں گے اور ان کے والدین تو پہلے ہی پاکستانی ہیں اس صورتِ حال سے خاندان درخاندان ایک بار پھر منقسم ہوجائے گا۔ وہ بنگلہ دیشی شہریت اختیار کیسے کریں غور طلب بات یہ ہے کہ محصورین مشرقی پاکستان کے آبا وء اجداد نے قیام پاکستان کیلئے جدوجہد کی تھی اور بعدازاں بقائے پاکستان کیلئے قربانی دی جس کی سزا وہ آج بھی بھگت رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے نارتھ بنگال کے شہر ایشرڈی کے کیمپ کے دورے کے موقع پر خواتین نے بتایا کہ وہاں کے متعصب لوگ طعنہ دیتے ہیں کہ پاکستان نے 47 سال تک نہیں پوچھا تو اب کیا پوچھے گا؟ تمہیں پاکستان کی پنجابی فوج کا ساتھ دینے کی سزا مل رہی ہے جو تادم مرگ ملتی رہے گی تمہیں دفن ہونے کیلئے پاکستانی قبرستان بھی نصیب نہیں ہوگا اور پاکستان جانے کے انتظارمیں تمہاری موت بھی واقع ہوجانے کی صورت میں بنگلہ دیشی شہریت کے بغیر بنگلہ دیش کے قبرستان میں جگہ نہیں ملے گی اور سڑکوں پر مزدوری تو کجا تمہیں بھیک مانگنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ ان حقائق کے پیشِ نظر اہل پاکستان کو چاہئے کے وہ اس جانب بھی تھوڑی سی توجہ دیں اور ان کی مشکلات کا نوٹس لیں اور ان کی وطن واپسی کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی خدارا وطن سے محبت کرنے والوں کو اب مزید پریشانیوں سے بچالیں کیونکہ محصورین کا پاکستان سے محبت جرم بن گیا ہے۔