March 25th, 2019 (1440رجب18)

داغ ندامت کی بھرمار

ہرسال 16دسمبر کو وہ زخم ہرے ہو جاتے ہیں جو46سال کی طویل مدت کے باوجود بھر نہیں پائے۔ ان کوبھرنا بھی نہیں چاہیے کہ زندہ قومیں ایسے زخموں کو سینے سے لگا کر رکھتی ہیں اور سبق حاصل کرتی ہیں کہ آئندہ ایسا کوئی سانحہ نہ ہو کہ بھائی بھائی سے جدا ہو جائیں ، قربانیاں رائیگاں جائیں ۔ لیکن اجتماعی طور پر پاکستانی قوم اس سانحۂ عظیم کوبھلانے میں لگی ہوئی ہے اور دلیل یہ کہ ماضی کو بھلا کر مستقبل کی فکر کریں ۔ لیکن مستقبل بھی تو ماضی ہی کا تسلسل ہے ، وقت کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا ۔ پھر اس زخم پر نمک چھڑکنے کا عمل بھی تو جاری ہے ۔ بنگلا دیش کی خونخوار حسینہ واجد ہر روز ایک نیا زخم لگاتی ہے ، زخموں پر انگور آنے لگتا ہے تو اپنے پنجوں سے کھرچ ڈالتی ہے ۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے کتنے ہی قیمتی نفوس کو پھانسی پر چڑھا چکی ہے اور ابھی اس کی خونیں فہرست میں ایسے کئی لوگ ہیں جن کو سزائیں سنائی جاچکی ہیں ۔ ان میں ایسے بھی ہیں جو1971ء میں نو عمر تھے یا نو نہال۔ خانہ جنگی میں ان کا کوئی حصہ نہیں تھا مگر آتش غضب کسی طرح ٹھنڈی نہیں ہو رہی ۔ اس کی ایک بنیادی وجہ بھارت کی پشت پناہی اور دینی جماعتوں کا خوف ہے ۔مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنانے میں بھارت کا جو کردار تھا وہ پہلے بھی پوشیدہ نہیں تھا کہ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے اعلان کیا تھا کہ ہم نے دو قومی نظر خلیج بنگال میں غرق کر دیا اور ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا ۔ دو قومی نظریہ تو اب بھی زندہ ہے کہ بنگلا دیش بہر حال ایک مسلم ملک کی شناخت رکھتا ہے اور بھارت میں ضم ہوا نہ بنگلا دیشیوں نے اپنا نظریہ دلا ۔ اندرا گاندھی کے اس دعوے پر کہ ہم نے ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا، خود بنگالیوں کو اس پر احتجاج کرنا چاہیے تھا کیونکہ بھارت پر مسلمانوں کی حکومت میں بنگالیوں کا بھی اہم کردار تھا ۔ انگریز کے دور میں جب مشرقی بنگال کے مسلمانوں نے حقوق کا مطالبہ کیا تھا اور ہندوؤں کے تسلط سے نکلنے کی کوشش کی تھی تو انگریز حکمرانوں نے بنگال کی تقسیم کر دی تھی اور مشرقی بنگال کو مغربی بنگال سے علیحدہ کر کے اس خطے کے مسلمانوں کا مطالبہ پورا کیا تھا ۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ مغربی بنگال کا ہندو زیادہ خوش حال اور ترقی یافتہ تھا جب کہ مشرقی حصے کے مسلمان نہ صرف پسماندہ رکھے گئے بلکہ ان پر ہندوؤں کا غلبہ تھا ۔ اپنے مفادات پر پڑنے سے ہندوؤں نے احتجاج شروع کر دیا اور انگریز کو اپنا فیصلہ واپس لے کر ’’تنسیخ تقسیم بنگال‘‘ کا حکم جاری کرنا پڑا ۔ یہی وجہ تھی کہ تشکیل پاکستان میں مشرقی بنگال کے شہریوں نے پاکستان کا ساتھ دیا اور مشرقی بنگال مشرقی پاکستان کہلایا ۔ اندرا گاندھی نے پاکستان کو دو لخت کر کے بنگالیوں سے پرانا بدلہ چکایا مشرقی پاکستان میں ہندو بنگالیوں نے ہمت نہیں ہاری ۔ ستم یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بھی ہندو چھائے ہوئے تھے حتیٰ کہ دینیات پڑھانے والے بھی اکثر ہندو تھے ۔ یہ اساتذہ نئی نسل کے ذہن میں زہر گھولتے رہے اور پھر انہیں شیخ مجیب الرحمن کی شکل میں ایک ایجنٹ مل گیا ۔ لیکن اس غدار کے کئی ہمدرد مغربی پاکستان میں بھی تھے ۔ جب صدر ایوب خان نے اگر تلہ سازش مقدمے میں شیخ مجیب کو ثبوتوں کے ساتھ گرفتار کیا تو مغربی پاکستان کے کچھ سیاستدانوں نے ایوب خان پر دباؤ ڈال کر اسے رہا کروایا۔ اور پھر یہ جن بوتل سے باہر آگیا ۔ مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنوانے میں بھارت کے کردار اور سازشوں کا اعتراف خود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈھاکا میں کھڑے ہو کر کیا اوربنگالیوں پر واضح کیا کہ یہ کام بنگالی تنظیم مکتی باہنی کا نہیں تھا بلکہ بھارتی فوج اور خفیہ تنظیم را کا تھا ۔ گویا اس نے بنگالیوں کو طعنہ دیا کہ تمہاری کیا مجال تھی کہ بنگلا دیش بنا سکتے ۔ یہ تو مکتی باہنی کے نام پر بھارتی فوجی اور را کے ایجنٹ سرگرم تھے ۔ اس اعتراف کے بعد بھی حسینہ واجد اور اس کے ٹولے کو غیرت نہیں آئی ۔ لیکن کوئی بھی حادثہ ایک دم نہیں ہوتا بلکہ بقول شاعر وقت اس کی برسوں پرورش کرتا ہے ۔ مشرقی پاکستان میں جو سازشیں پل رہی تھیں اور نفرتیں پھیلائی جا رہی تھیں مغربی پاکستان کی طرف سے ان کا کوئی توڑ نہیں کیا گیا ۔ پاکستانی سفراء اپنے کمروں سے باہر نہیں نکلے اور محب وطن بنگالیوں کی حوصلہ افزائی، پشت پناہی نہیں کی۔ ایک الزام یہ بھی ہے کہ مشرقی پاکستان کے لیے افسر شاہی مغربی پاکستان سے بھیجی جاتی تھی جن کا سلوک بنگالیوں سے توہین آمیز تھا۔سقوط مشرقی پاکستان میں اندرا گاندھی ہی نہیں، ذوالفقار علی بھٹو اور فوجی صدر یحییٰ خان کا کردار بھی ناقابل فراموش ہے۔1970ء کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن کو دونوں حصوں سے مجموعی طور پر برتری حاصل ہوگئی تھی لیکن بھٹو نے اقتدار کے لالچ میں ادھر ہم، اُدھرتم کا نعرہ لگاکر علیحدگی کے پودے کو تناور درخت بنادیا اور جب فوج نے ایکشن لیا تو فرمایا’’خدا کا شکر ہے پاکستان بچ گیا۔‘‘جب 23مارچ 1971ء کو مدہوش فوجی صدر یحییٰ نے ڈھاکا میں قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا تو یہی بھٹو صاحب تھے جنہوں نے مغربی پاکستان کے ارکان اسمبلی کو دھمکی دی کہ جو جائے وہ ایک طرف کا ٹکٹ لے کر جائے، واپس آیا تو ٹانگیں توڑ دیں گے۔ شاید اسی جرم میں ڈیرہ غازی خان سے جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی اور ایک مقبول ترین ڈاکٹر کو سزا دی گئی کہ انہیں قتل کروادیا گیا۔ سب باتیں ریکارڈ پر ہیں اور یہ ریکارڈ پیپلزپارٹی کے نوخیز چیئرمین بلاول زرداری کو ضرور پڑھ لینا چاہیے۔لیکن پھر خدا کی لاٹھی حرکت میں آئی اور تمام اہم کردار اپنی اولاد سمیت مارے گئے۔ اندرا گاندھی کا بڑا بیٹا ان کی زندگی میں حادثے کا شکار ہوا۔ دوسرا بیٹا راجیو گاندھی بھی بم دھماکے میں مارا گیا اور اس سے پہلے اندرا گاندھی ایوان وزیراعظم میں سکھ باڈی گارڈ کے ہاتھوں ماری گئیں۔ بھٹو کو پھانسی ہوئی،ان کے دونوں بیٹے غیر فطری موت مارے گئے اور خود بے نظیر بھی قتل کی گئیں۔شیخ مجیب الرحمن اپنے گھر میں پورے خاندان سمیت قتل کردیے گئے اور یہ کام جماعت اسلامی کے کسی کارکن یا البدر الشمس کے جیالے نے نہیں بنگالی فوجی افسران نے کیا تھا۔ حسینہ واجد ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے بچ گئیں۔ وہ جس راہ پر جارہی ہیں کہیں خود ان کے ساتھ کوئی سانحہ اندرہی سے نہ ہوجائے۔ پاکستان کے حکمران توآج تک ان محب وطن بہاریوں کو بھی پاکستان نہیں لاسکے جو متحدہ پاکستان اور پاک فوج کا ساتھ دینے کے جرم میں حب الوطنی کی سزا گزشتہ 46سال سے بھگت رہے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کی آہیں کوئی نیا عذاب لائیں۔ کچھ بے شرم پاکستانی شخصیات ایسی بھی ہیں جو حسینہ واجد کے خون آلود ہاتھوں سے اعزازات وصول کرکے پھولی نہیں سماتیں ۔فیض نے کہا تھا کہ ہر داغ ہے اس دل پربجز داغ ندامت۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ داغ ندامت کا احساس ہی جاتا رہا ورنہ’’تن ہمہ داغ داغ شد۔