August 4th, 2020 (1441ذو الحجة15)

روہنگیا مسلمان

 

ذبیح اللہ قریشی

پچیس اگست کو ’’روہنگیا نسل کشی‘‘ کے دن کے طور پر منایا گیا۔ برما میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی 1784 سے جاری ہے جس کے نتیجے میں اب تک ساڑھے تین ملین سے زائد روہنگیا مسلمان چوبیس سے زائد ممالک میں ترک وطن کر کے جا بسے ہیں۔ صوبے ریکھائین (اراکان) میں پچیس اگست 2012 تک ایک اعشاریہ 9 ملین مسلمان آباد تھے۔ بچے کھچے ان مسلمانوں کو بھی نکالنے کے لیے 2012 میں فوجی حکومت نے بودھسٹ انتہا پسند تنظیم ’’مباتھا‘‘ کو مسلح کرکے مسلمانوں کا منظم قتل عام کرایا جس میں کم از کم 12 ہزار افراد قتل ہوئے سیکڑوں بستیوں اور ریکھائین کے دارالحکومت ستوے (اکیاب) کی دو لاکھ کے قریب آبادی کو جلا کر خاکستر کردیا تھا۔ تاریخی شہر کیوکٹو، ممبیا اور راتھی ڈونگ کو کئی مہینے محاصرے میں رکھا گیا تھا۔ سال 2012 میں متاثرہ قصبوں اور گائوں سے سمندر اور پہاڑوں کے راستے دو لاکھ کے قریب روہنگیا مسلمان جان بچا کر ملک سے فرار ہوئے تھے۔ جان بچانے کر بھاگنے والے سیکڑوں لوگ تھائی لینڈ کے خطرناک پہاڑوں اور خلیج بنگال کے سمندر میں اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ برما میں ہمیشہ سے میڈیا پر پابندیاں اور سنسر شپ رہی ہے بالخصوص ارکان (جسے اب ریکھائین کہا جاتا ہے) مسلمان نوجوانوں کے ہاتھوں میں اسمارٹ فون ہونا کسی بہت بڑے جرم سے کم نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر اس وقت بیرون ملک رہنے والے روہنگیا نوجوانوں نے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ ابتدا میں عالمی میڈیا اور عالمی اداروں نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔ دنیا کو حالات کی سنگینی کا ادراک اس وقت ہوا جب ہزاروں لوگ بنگلا دیش تھائی لینڈ انڈونیشیا اور ملائشیا پہنچنا شروع ہوگئے اور ان ممالک نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے کو متحرک کیا اور مزید ہجرت کو روکنے کے لیے برما پر دباو ڈالا۔ روایتی بیان بازی اور مذمت شروع ہوئی اور پھر ایک سال بعد ہر طرف خاموشی… اتنے بڑے قتل عام اور ہجرت پر ٹھوس رد عمل نہ ہونے کی وجہ سے برما کو شہ ملی اور روہنگیوں میں شدید مایوسی پھیلتی گئی۔
سولہ اکتوبر 2016 کو کچھ نوجوانوں نے لاٹھیوں ڈنڈوں کی مدد سے علم بغاوت بلند کیا جس کے رد عمل میں برمی فوج نے منگڈو میں درجنوں گائوں کو جلایا دیا۔ نوے ہزار لوگوں کو بنگلا دیش میں پناہ لینی پڑی تھی۔ اکتوبر سے نومبر تک پانچ سو سے زائد خواتین کی ابروریزی اور کئی ہزار لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ دنیا کے بڑے ملکوں اور عالمی ادارے ایک بار پھر رسمی بیان تک ہی محدود رہے۔
2017 پچیس اگست کو دوبارہ برمی فوج نے آپریشن کلین اپ کے نام پر بدترین درندگی کا مظاہرہ کیا ایک محتاط اندازے کے مطابق اس آپریشن میں پندرہ ہزار لوگوں کو قتل کیا گیا اور ہزاروں عورتوں کو بے آبرو کیا۔ تین شہروں منگڈو بوتھی ڈونگ اور راتھی ڈونگ کو صف ہستی سے مٹادیا گیا تھا۔ ایک مہینے کے قلیل وقت میں سات لاکھ سے زائد لوگ بنگلا دیش پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ انسانیت کے خلاف بدترین جرائم پر بھی دو سال گزرنے کے باجود برما کے خلاف کوئی ٹھوس عملی قدم دیکھنے میں نہیں آیا۔ اقوام متحدہ سے او ائی سی تک یورپی یونین سے آسیان تک سب ہی رسمی بیانات سے کام چلاتے رہے۔ برمی حکومت طویل عرصے تک روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کرتی رہی اور ایک پوری قوم ختم ہوگئی جس قوم نے ساڑھے تین سو سال اراکان میں حکومت کی اس قوم کو اسی کی سرزمین سے نکال باہر کیا۔ بحیثیت مسلمان ہر روہنگیا یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ امت مسلمہ کی خاموشی اور مصلحت پسندی کی کیا وجہ ہے؟ آج کل ایسی ہی صورتحال کا سامنا مقبوضہ کشمیر کے کشمیری عوام کر رہے ہیں۔ روہنگیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم پر سب ہم آواز ہوتے تو آج شاید کشمیریوں کو اس سنگین صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
روہنگیوں کے حالات پر میڈیا میں کئی پروگرام ہوئے تھے جہاں میں نے تفصیل کے ساتھ صورت حال سے آگاہ کیا تھا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے اس وقت بھی کئی نامور مبصرین نے اس ظلم کی شدت کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی۔ روہنگیا کا مسئلہ ایک ایسا انسانی المیہ یے جو فوری حل طلب ہے۔