August 25th, 2019 (1440ذو الحجة24)

انتہاپسندی و دہشتگردی کیخلاف خواتین اہم کردار اداکرسکتی ہیں، سمیحہ راحیل قاضی

قومی اسمبلی کی سابق رکن ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا ہے کہ جنونی انتہا پسندی کے سدباب، دہشت گردی سے نجات اور معاشرتی امن و استحکام کے لیے خواتین اہم کردار اداکرسکتی ہیں،مساوات ویگانگت اور اخوت ورواداری پر مبنی پرامن و خوشحال معاشرے کی تشکیل اور قومی تعمیر نو کے مقاصد کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے خواتین کی شرکت موجودہ دور کا اہم ترین تقاضا ہے کیونکہ خواتین کی سماجی و معاشرتی اصلاح کے لیے پروگراموں میں عملی شرکت کے بغیر جنونی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے سدباب کے لیے ہونے والی کوششیں 100 فیصد کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار گورنمنٹ ویمن کالج مری میں پیغام پاکستان سینٹر فارپیس و مصالحتی مطالعات اور دارُالقوام فائونڈیشن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی5 روزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ورکشاپ میں ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی کے علاوہ زبیر منصوری، رحیم قادری، علی رضا اور مشتاق مانگٹ سمیت کئی نامور دانشوروں نے معاشرتی امن واستحکام میں خواتین کے اہم کردار کو اجاگر کرنے کے لیے لیکچرز دیے۔ اس5 روزہ ورکشاپ میں ملک بھر کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے طلبہ وطالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواتین جمہوری اور معاشی ترقی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں، اس لیے ان کو بااختیار بناکر انہیں معاشرے میں مساوی حیثیت دینا ہوگی تاکہ وہ ملک میں سیاسی، سماجی،جمہوری ومعاشی استحکام اورملک کو ترقی وخوشحالی کی منزل مقصودحاصل کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں صنفی مساوات قائم کرکے خواتین کو بااختیار بناکر ہی انتہاپسندی اور دہشت گردی کی لعنتوں کا سدباب اور معاشرے میں تشدد اور جارحیت کو فروغ دینے والے عوامل کا تدارک کیا جاسکتا ہے، ممتاز دانشورزبیر منصوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواتین خاندانی ماحول میں مائوں، بہنوں،بیٹیوں اور بیویوں کی حیثیت سے نہ صرف گھریلوں ماحول پر اثرانداز ہوتی ہیں بلکہ پیشہ ور خواتین اپنے کام کے مقامات پر ایک پیشہ ور عورت کی حیثیت سے مثبت اقدار کی تشکیل کرتی ہیں جوکہ پر امن معاشرے کی تشکیل کا بھی ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد سے پاک متوازن معاشرے کی تشکیل کے لیے خاندان اور برادری کی ایک خاص اہمیت ہوتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ خواتین کی معاشی امور میں شمولیت اور ان کی مالی آزادی کو یقینی بنایا جائے، دیگر مقررین نے کہا کہ پاکستانی معاشرے کو اس وقت سیاسی، نسلی، مذہبی، فرقہ ورانہ اور معاشرتی نوعیت کے متعدد اختلافات اورتنازعات کا سامنا ہے جس پر فوری توجہ دے کر منفی عوامل کے تدارک اور ازالے کے لیے منصوبہ بندی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں تنازعات کاحل اورامن کا استحکام پائیدار معاشی نمو اور جمہوریت کی ترقی کے لیے اہم ترین اور بنیادی شرط ہے، اس لیے ہمیں ان تمام عوامل پر غوروفکر کرتے ہوئے خواتین کے معاشرے میں اصلاحی کردار کو تسلیم کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں خاص طور پر دینی مدارس میں نوجوان لڑکیوں کو تعلیم و تربیت کا بہترین ماحول فراہم کرنا ہوگا تاکہ ہماری آج کی طالبات کو بنیاد پرستی اورانتہاپسندی کے تباہ کن اثرات کا شعور حاصل ہو سکے اور وہ اپنی آئندہ زندگی میں معاشرے کے منفی رجحانات کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کو فروغ دینے والے عوامل کا جائزہ لے کرخواتین کو بااختیار بنانے کی اہمیت اور افادیت کو سمجھنا ہوگا کہ تعلیم یافتہ اور باشعور خواتین بااختیار ہونے کے بعدگھروں اور معاشروں کی حرکیات یکسر بدل جائیں گی اورنفرتوں، انتہاپسندی، تشدد اور دہشت گردی کی لعنتوں سمیت معاشرتی بگاڑ کے دیگر عوامل کا خاتمہ کرنے کے لیے خواتین اپنا یادگارمثبت وتعمیری کردارادا کرنے کے قابل ہوسکیں گی۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان میں جنونی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے سدباب کے لیے مرتب ہونے والا متفقہ قومی بیانیہ پیغام پاکستان ایک بہترین لائحہ عمل اور مثالی دستور حیات ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ملک بھر میں خواتین کے تعلیمی اداروں اور خاص طور پرخواتین کی دینی درسگاہوں میں بھی پیغام پاکستان سیمینارز منعقد کرائے جائیں۔