November 20th, 2019 (1441ربيع الأول22)

وادی کی تقسیم قبول نہیں کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں،سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ کشمیر کی تقسیم قابل قبو ل نہیں، پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے، ہم کسی صورت بھی کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے، حکومت بھارت کو واضح پیغام دے کہ مقبوضہ کشمیر کی سابق پوزیشن کو قائم رکھنے کے لیے ہم آخری حد تک جائیں گے،حکومت فوری طورپراوآئی سی کا اجلاس بلا کر سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کرے اورعالمی برادری سے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کےمطابق حل کرنے پر زور دیا جائے۔ مودی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے شملہ معاہدے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی نفی کی ہے۔حکومت پاکستان اس کے خلاف ایک بین الاقوامی مہم شروع کرے ۔ فوری طور پر اسلام آباد میں اس مسئلے پر ایک بین الاقوامی کانفرنس بلائی جائےاوردنیا بھر میں موجود اپنے سفیروں کوخصوصی ٹاسک دیا جائے کہ سفارتخانوں میں خصوصی طور پر کشمیر ڈیسک بنا کر کشمیر میں بھارتی مظالم سے عالمی برادری کو آگاہ رکھا جائے۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم ، ڈپٹی سیکرٹر ی جنرل محمد اصغر ، امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب محمد جاوید قصوری اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کے ساتھ منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا ا قدام طے شدہ منصوبے کے تحت کیاہے ۔ ہماری حکومت کو بھی اس حوالے سے چوکس رہنا چاہیے تھا اور عالمی فورمز کو بھارت کے ان عزائم سے آگاہ کرنا چاہیے تھا ۔انہوں نے کہاکہ ٹرمپ نے کشمیر پر جس ثالثی کی پیشکش کی ہے اگر اس کا مقصد کشمیر کے دیرینہ اور بین الاقوامی موقف کے بجائے وادی کی بندر بانٹ ہے تو اسے خود کشمیری بھی تسلیم نہیں کریں گے ۔ کشمیر پر ثالثی کو اسی صورت تسلیم کیا جائے گا جب اس کا مقصد استصواب رائے کرانااور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیناہوگا ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کے اس اقدام سے پورا خطہ جنگ کے خطرے سے دوچار ہوگیاہے اور عالمی برادری نے فوری طور پر اپنا کردار ادا نہ کیا تو خطے میں جنگ کی آگ بھڑک سکتی ہے اور پھر یہ جنگ کسی ایک علاقے یا خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان افغانستان میں قیام امن میں تعاون کو کشمیر میں استصواب رائے سے مشروط کر ے ۔ آج تک امریکا پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کرتا رہاہے اب پاکستان کو آگے بڑھ کر امریکا سے مؤثر رول اد ا کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے یک طرفہ طو ر پر جنگ کا اعلان کردیاہے اب پاکستانی حکومت اور اداروں کو بھی پوری طرح تیار رہنا چاہیے ۔ پوری قوم اس مہم میں اپنی افواج کی پشت پر ہوگی ۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر کی تقسیم قابل قبو ل نہیں ۔ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے ۔ ہم کسی صورت بھی کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے خطے کی موجودہ غیر معمولی صورتحال پر جو جوائنٹ سیشن بلایاہے ، جماعت اسلامی اس میں شرکت کرے گی ۔ کشمیر کے مسئلے پرپوری قوم ایک پیج پر ہے ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر کے دفعہ 144 لگا رکھی ہے ۔ بھارت نے پہلے سے کشمیر میں موجود 7 لاکھ فوج کے باوجود ایک لاکھ فوج مزید داخل کر ادی ہے اور کشمیر کو ایک کروڑ مسلمانوں کے لیے جیل بنادیا ہے ۔ پوری کشمیری قیادت جیلوں میں بند ہے ۔ فرانس ، کینیڈا سمیت کئی ممالک نے اپنے سیاحوں کو فوری طور پر کشمیر سے نکلنے کی وارننگ دے دی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک بھر میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مظاہر ے ، جلسے ، جلوس اور ریلیاں کرے گی اور عید کے بعد کشمیر پر قومی کانفرنس اسلام آباد میں کی جائے گی ۔