June 25th, 2019 (1440شوال21)

انسداد دہشتگردی و فرقہ واریت کیلیے ملی یکجہتی کا فروغ ناگزیر ہے، سمیحہ راحیل

وطن عز یز کو جنونی انتہا پسندی فرقہ وارانہ تعصبات اور دہشت گردی کی لعنتوں سے مستقل طور پر نجات دلانے کے لیے حکومت پاکستان کی کوششوں سے مرتب کردہ متفقہ قومی بیانیہ پیغام پاکستان اور دختران پاکستان ایجنڈے کی تشہیر و ترویج کے جاری پروگراموں کے سلسلے میں لاہور میں 3 مختلف مقامات پر خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا جن میں فیکلٹی ممبران، سول سوسائٹی کے نمائندوں، ماہرین تعلیم، دانشوروں، قانون دانوں اور طلبہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ پیغام پاکستان بیانیہ کی ترویج کے سلسلے میں پہلی تقریب یونیورسٹی کنسورشیم برائے ترقی سوشل سائنسز و آرٹ کے تعاون سے لاہور کالج فار وومن میں ہوئی، جماعت اسلامی کی سابق ایم این اے ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بہترین ثقافت عطا کی ہے، ملک بھر میں آباد لوگ مختلف عقائد، کلچر اور مذاہب کا پس منظر ر کھنے کے باوجود آپس میں متحد ہیں اور عقائد کے اختلافات کے باوجود مملکت کے تمام شہریوں میں مادر وطن سے عقیدت و محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس لیے ہمارے ملک کے تمام شہری اپنی ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر اپنے پاک وطن کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام دینی مسالک کے علما کرام اور مفتیان عظام سمیت تمام اقلیتوں کے پادری اور راہب بھی متفقہ قومی بیانیہ پیغام پاکستان کو امن و سلامتی کا بہترین لائحہ عمل قرار دے چکے ہیں جبکہ امام کعبہ اور مصر کے مفتی اعظم نے بھی پاکستان کے متفقہ قومی بیانیہ کو قرآن و سنت کی بہترین تشریح و توضیح قرار دیا ہے۔ اس لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دانشوروں پر لازم ہے کہ وہ پیغام پاکستان بیانیہ کی تبلیغ کرکے جنونی انتہا پسندی کے سدباب کے لیے حکومتی اداروں کے ساتھ ملکر کام کریں کیونکہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہمارا اسلامی فریضہ بھی ہے۔ نامور کالمنسٹ منور صابر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پنجابی، سندھی، بلوچ اور پختون یہ تمام پا کستان کے خوبصورت رنگ ہیں۔ ریاست کے تمام شہریوں کا فرض ہے کہ وہ تمام تر نسلی لسانی، علاقائی اور مذہبی تفریقات و تعصبات سے بالاتر ہوکر ملت واحدہ کے تصور کو عملی جامہ پہنائیں اور اپنے قول و فعل سے پوری دنیا کو باور کرائیں کہ ملت پاکستان جنونی انتہا پسندی کے سدباب کے لیے پوری طرح متحد اور یک آواز ہے۔ متفقہ قومی بیانیہ پیغام پاکستان کی ترویج کے سلسلے میں دوسرا سیمینار یونیورسٹی آف لاہور میں ہوا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر ڈاکٹر راغب نعیمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیغام پاکستان بیانیہ قرآن و سنت کی بہترین تشریح اور جنونی انتہا پسندی کے سدباب کے لیے موثر ترین لائحہ عمل ہے۔ اس کے عملی نفاذ سے مختلف الخیال مکاتب فکر میں ہم آہنگی کو فرو غ ملے گا اور ہمارے معاشرے میں مثبت رجحانات پروان چڑھیں گے۔ ڈاکٹر نعمان جالندھری نے کہا کہ پیغام پاکستان بیانیہ عصر حاضر کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے قرآنی تعلیمات کے عین مطا بق بہترین لائحہ عمل ہے اس لیے نوجوانوں اور خصوصاً طلبہ کو انسداد دہشت گردی کے قومی بیانیہ کی کامیابی و کامرانی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ دختران پاکستان قومی بیانیہ کے عنوان سے جمعرات کے روز یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور میں بھی سیمینار ہوا۔ سمینار سے خطا ب کر تے ہو ئے صوبائی اسمبلی کی رکن نابیرہ عندلیب نعیمی نے کہا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق خواتین کو بھی مردوں کے مساوی شہری حقوق حاصل ہیں۔ اس لیے انہیں بھی اصلاح معاشرہ کی قومی تحریک میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے اور انہیں اپنی نئی نسل کی صیح تعلیم و تربیت کرتے ہوئے ان کی کردار سازی پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ہمارے ملک کی آبادی کا نصف حصہ ہیں اور کوئی بھی ملک اپنی نصف آبادی کو نظرانداز کرکے ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکتا۔ جماعت اسلامی کی سابق ایم این اے ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ خواتین کو اپنے گھروں میں قید ہونے کے بجائے معاشرے میں امن و استحکام کی خاطر تبدیلی کا ہراول دستہ بننا ہوگا۔ اس موقع پر دوسرے مقررین نے کہا کہ ملک سے انتہا پسندی، نفرتوں اور دہشت گردی کو مستقل طور پر شکست دینے کے لیے ملی اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ جس کے لیے پیغام پاکستان ایجنڈا ملک میں پائیدار خوشیوں اور ترقی و خوشحالی کا ضامن ہوگا۔