December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

جمعیت طالبات کی اسلامک یوتھ کانفرنس میں 10اسلامی تنظیموں کی شرکت

اسلامی جمعیت طالبات پاکستان کے زیر اہتمام پہلی اسلامک یوتھ کانفرنس برائے طالبات کا کراچی کے مقامی ہوٹل میں انعقاد کیا گیا، کانفرنس میں 10 سے زائد مہمان اسلامی تنظیموں نے شرکت کی۔ شریک مہمان خواتین کا کہنا تھا کہ خاندانی نظام کی اہمیت سے صرف نظر ممکن نہیں، بچوں اور والدین کے درمیان فاصلہ برے اثرات مرتب کر رہا ہے، اگر زندگی بعدالموت کا تصور ختم ہوجائے تو نا انصافی جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں، موبائل، لیپ ٹاپ، ٹیب لیٹس اور انٹرنیٹ کا منفی استعمال ہمارے خاندانی نظام کو متاثر کر رہاہے، یہ کانفرنس پاکستان میں طالبات کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی پہلی کانفرنس ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور یہ طالبات کی تربیت کا پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔ اسلامی جمعیت طالبات کے زیر اہتمام پہلی اسلامک یوتھ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الہدیٰ انٹرنیشنل کی رہنما اور ماہر امراض اطفال ڈاکٹر کنول قیصر نے کہا کہ خاندانی نظام کی اہمیت سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا، والدین اور بچوں کے تعلقات کے درمیان بڑھتاہوا فاصلہ بچوں پر برے اثرات مرتب کرتا ہے، بچوں کا والدین اور والدین کا بچوں پر اعتماد بڑھانے کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارا خاندانی نظام مغرب کا ہدف ہے اور وہ اس پر کاری ضرب لگا چکا ہے، موبائل، لیپ ٹاپ، ٹیب لیٹس اور انٹرنیٹ کا منفی استعمال ہمارے خاندانی نظام کو متاثر کر رہاہے۔ اسلامی جمعیت طالبات پاکستان کی ناظمہ اعلیٰ عائشہ فہیم نے کہا کہ یہ کانفرنس پاکستان میں طالبات کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی پہلی کانفرنس ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور یہ طالبات کی تربیت کا پلیٹ فارم ثابت ہوگی، یہ کانفرنس نیکی اور تقویٰ کے کاموں پر تعاون کا ایک ذریعہ ہے، کانفرنس کا مقصد نوجوان طالبات کی دینی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنا اور مل کر بدلتی دنیا میں درپیش چیلنجوں کا حل نکالنا ہے۔ کانفرنس طالبات کے مسائل کے حل اور دینی تنظیمات کے لیے سنگ میل ثابت ہو گی۔ جماعت اسلامی حلقہ خواتین پاکستان کی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی نے کہا کہ مغرب چاہتا ہے کہ مسلم ممالک میں خاندانی نظام ختم ہوجائے، انہوں نے کہا کہ امت کی یہ بیٹیاں اتحاد و یگانگت کے ساتھ اسلام کی بہترین پشتیبان ثابت ہوں اور یہ کانفرنس اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا سنگ میل بنے گی۔ جماعت اسلامی یوتھ خواتین ونگ کی رہنما اور ماہر نفسیات ماہ رخ اختر نے کہا کہ اپنی زندگی کے مختلف شعبوں میں توازن پیدا کرنے اور ترجیحات کا درست تعین کرنے سے بہت سے مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے، یوتھ کلب کی رکن مس ماہم نے کہا کہ کائنات کی تخلیق،خالق کی موجودگی کی دلیل ظاہر کرتی ہے اور اگر زندگی بعدالموت کا تصور نہ ہو تو یہ انصاف کی بے بنیادی کو ظاہر کرتی ہے۔ نیہا مبین نے کہا کہ ہمارے روز مرہ معاملات میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ مختلف الرائے ہونا غلط نہیں ہے۔ رائے کا تصادم خطرناک ہوتاہے۔ دین کسی پر بھی اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔