October 20th, 2018 (1440صفر10)

وومن اسلامک لائرز فورم کے تحت مورخہ 6 اکتوبر 2018 کو ساتواں سالانہ کنونشن منعقد کیا گیا.

سالانہ کنونشن کا موضوع " فراہمی انصاف میں بینچ اور بار کا کردار" تھا۔ کنونشن کے مہمان خصوصی سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محترم جناب محمد علی مظہر تھے۔ جبکہ سندھ ہائی کورٹ کی جسٹس محترمہ مسز اشرف جہاں نے بھی خصوصی شرکت کی۔ کنونشن میں عدلیہ، بار ، وکلاء حضرات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ول فورم کی چیئرپرسن ایڈووکیٹ طلعت یاسمین صاحبہ نے کنونشن کے موضوع سے متعلق اسماء نواب کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ justice delayed justice denied کی اصطلاح سے ہم بخوبی واقف ہیں لیکن بدقسمتی سے ابھی تک فراہمئ انصاف سستا اور تیز ترین کرنے میں بہت پیچھے ہیں۔ اسی غرض سے ان کا کہنا تھا کہ قوانین، عدلیہ، بار کونسل، لاء کالجز اور وکلاء ایک ایسی مشین کی حیثیت رکھتے ہیں جس کا ہر پرزہ ٹھیک کام کرے تو صرف اسی وقت معاشرے میں سستا اور تیز ترین انصاف آئین پاکستان کے آرٹیکل . d 37 کی عکاسی کرے گا۔ صدر ملیر بار جناب شرف الدین جمالی صاحب کا کہنا تھا کہ انصاف فراہم کرنے کے لئے موثر گواہی کی ضروت ہوتی ہے ۔بار ایسوسی ایشن نے اس کے لئے ہمیشہ کام کیا ۔ بار کونسل 20 کڑوڑ لوگوں کی کی امید ہیں ۔ صدر کراچی بار جناب حیدر امام رضوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک مضبوط بار ہی مضبوط عدلیہ کی بنیاد ڈال سکتی ہے ۔ تنقید انتہائی ضروری ہے تاکہ غلطیوں اور خامیوں کا ازالہ ہو سکے ۔ سندھ ہائی کورٹ بار کے صدر جناب سلیم منگریو نے اپنے خطاب میں ول فورم کی کاوشوں کو سراہا ۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر جناب مشتاق لغاری صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ وکلا صاحبان ہماری بہترین رہنمائی کریں تو فریقین کو بہترین انصاف مل سکے گا۔ ممبر سندھ بار جناب نعیم قریشی کا کہنا تھا کہ بینچ میں وہ لوگ ہونے چاہئیں جن کو خوف خدا ہو۔ پولیس کے ادارے میں اصلاحات کی ضروت ہے تفتیش اور استغاثہ بلکل ناکام ہیں جس کی وجہ سے انصاف نہیں ہوپاتا۔ ممبر سندھ بار کونسل جناب محمد عاقل صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے پہلے بارکونسلز میں بہت کم شکایات ہوا کرتی تھیں ۔آج ایک دوسرے پہ الزام لگانا انتہائی آسان ہے ۔لیکن اس ماحول میں رہتے ہوئے صحیح تبدیلی لانا انتہائی مشکل کام ہے۔ لہذا وکلاءکو چاہیے کہ اپنی انتہائی قابلیت سے اپنا مقدمہ تیار کریں تاکہ انصاف ہوتا نظر آئے۔ سندھ ہائی کورٹ کی جسٹس مسز اشرف جہاں صاحبہ نے عدلیہ کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ فی زمانہ فراہمی انصاف ایک مشکل، طویل اور مستقل جدوجہد بن چکا ہے ۔انصاف لینےوالابھی مشکلات سے گزرتا ہے اور انصاف دینے والا بھی آزمائشوں کا شکار ہے۔ اگر ججز اور وکلاء میں خوف خدا ہو تو وہ انصاف کر پائیں گے ۔یہ وہ واحد کلیہ ہے کے جس کی بنیاد پہ انصاف کی فراہمی احسن طریقے سے کی جا سکتی ہے۔ کنونشن کے مہمان خصوصی محترم جناب جسٹس محمد علی مظہر نے کنونشن کے اختتامی خطاب میں ان مسائل کی طرف نشاندہی کی جس کے باعث مقدمات میں التواء ہوتا ہے ایک جج کے پاس ایک دن میں 80 سے 90 کیسز ہوتے ہیں معمولی نوعیت کے کیسز جیسا کہ نادرہ اور یونیورسٹی کے معاملات بھی عدالتوں میں لائے جا رہے حالانکہ یہ معاملات ان متعلقہ اداروں میں بھی حل کئے جا سکتے ہیں ۔ بینچ اور بار ایک سکے کے دو رخ ہیں ۔ صورت حال پر امید ہے باہمی معاملات باہمی تعاون سے حل کئے جا سکتے ہیں ۔ مایوسی کا اظہار نہ کریں مسائل کو صرف تقریر تک محدود نہ کیا جائے بلکہ تعاون کی ایک فضا پیدا کریں۔ کنونشن کے اختتام پہ قرارداد پیش کی گئی جسے کثرت رائے سے منظور کیا گیا ۔ قرارداد کے نکات درج ذیل تھے۔ 1۔ ججز کی تقرری اور اخراج کے عمل کو غیر جانبدار اور شفاف بنایا جائے تاکہ ججز بے خوف ہوکر فیصلہ کر سکیں ۔ ججز کے اخراج کے آرٹیکل 209 میں ترمیم کی جائے اور آئین سے ہر قسم کے استثناء کو ختم کیا جائے تاکہ قانون سب کے لئے برابر ہو۔ 2۔ مقدمات کو جلد نمٹانے کے لئے juvenile موبائل عدالتیں قائم کی جائیں۔ 3۔ مصالحت اور ثالثی قوانین کو موثر بنایا جائے۔خصوصا فیملی مقدمات alternate dispute Resolution (ADR )Act 2017 کے ذریعے مقدمات کو حل کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں ۔ 4۔وکلاء اور قانون کے طلبہ و طالبات کی ٹریننگ پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ بار کونسل طلبہ طالبات کے intimation period میں سینئر وکیل کی جانب سے کئے جانے والے استحصال کے سدباب کے لیے موثر اقدام اٹھائے۔ اس مدت میں ان کو کچھ معاوضہ بھی بار کونسل کی طرف سے دیا جائے۔ 5۔ حکومت بینچ اور بار مل کر ایک legal education channel کا آغاز کریں تاکہ عوام میں قانون سے متعلق آگاہی کو عام کیا جا سکے۔ 6۔ گواہان کے تحفظ کو ہر ممکن صورت میں یقینی بنایا جائے ۔ 7۔ بار، بینچ کے فیصلوں پر اثر انداز نہ ہو۔ مقدمات کا فیصلہ وکیل کی Bar status یا Face value کو مدنظر رکھ کر نہیں ہونا چاہئیے ۔ 8۔ وکلاء کو دی جانے والی سہولیات کا معقول اور موثر انتظام کیا جائے۔ 9۔ pauper suits کے حوالے سے بار کونسل مناسب اور مستقل بنیادوں پر منصوبہ بندی کرے۔