December 15th, 2018 (1440ربيع الثاني8)

مسلم خواتین کے حجاب کو قانونی تحفظ دیا جائے،حجاب کانفرنس

سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان دردانہ صدیقی کے زیر صدارت حجاب کانفرنس گزشتہ روزفلیٹیزہوٹل لاہور میں منعقد ہوئی۔حجاب کانفرنس میں ہونے والے فورم ”لباس تہذیب کی علامت” میں اہلیہ گورنر پنجاب بیگم پروین سرور چودھری نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ فورم میں ڈاکٹر فائزہ اصغر، ڈاکٹرثمینہ کھوکھر، صبا صادق،عائشہ عثمان، عائشہ فہیم، پروین خان، طاہرہ یوسف،ڈاکٹر حمیرا طارق، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، نبیرہ نعیمی، عائشہ بخش، مسرت مصباح اور ڈاکٹر امۃ اللہ زریں نے شرکت کی۔ناظمہ ضلع لاہور حلقہ خواتین جماعت اسلامی زرافشاں فرحین نے کانفرنس کے آخر میں مشترکہ ا علامیہ پڑھا ۔اعلامیے میں کہاگیا کہ ہر معاشرے کی تہذیب و تمدن، ان کی ترقی اور استحکام کا دارومدار اس کے نظریے اقداروروایات اور اس کے اہداف پر ہوتا ہے۔یہی اقدار اس تہذیب کی شناخت ہوتی ہیں، اس شناخت کو برقرار رکھنے اوردوام قائم رکھنے میں اہم ترین کردار وہ ادارے ہیں جو معاشرے کی عمارت کومضبوطی سے تھام کر ستون کا کردار ادا کرتے ہیں۔عہد جدید میں معاشرتی، اخلاقی زوال پذیری، انتشار اور بگاڑ کا فروغ، تمام تر سائنسی ترقی اور معاشی فراوانی کے باوجودانسانیت کی تنزلی کا سب سے بڑا سبب ہی یہ ہے کہ معاشرے کے اہم کرداروں اور اداروں نے اپنی ذمے داری سے تغافل اور اغراض برتنا شروع کر دیا ہے۔مغرب ہو یا مشرق ہر معاشرہ آج سکون کا متلاشی ہے اور اپنے گم شدہ عروج آدمیت کا طلبگارر ہتاہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ترقی ہر دور میں اس قوم نے کی ہے جس نے اپنے کلیدی کردار کو نبھایا اور زوال اور تنزلی کے ایام میں بھی قوت کے آخری منبع و پناہ کو ہاتھ سے نہ جانے دیا اور اپنی اخلاقی، تہذیبی اور بالخصوص نظریاتی سرحدوں کو پامال نہ ہونے دیا۔آج کی اقوام بالخصوص امت مسلمہ ایک فیصلہ کن دوراہے پر کھڑی ہے، ایک طرف مغربی تہذیب و ثقافت کا سیلاب ہے اور دوسری طرف قدامت اور روایت کے علمبردار حقیقی تقاضوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ماضی کے حصار میں مقید ہیں۔ وقت کی ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مغلوبیت اور تہذیبی جنگ میں شکست سے بچنے کے لیے راستہ اگر کوئی ہے تو صرف اور صرف وہی راستہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ؐ نے ہمارے لیے پسند فرمایا۔ موجودہ مغربی تہذیب نہ تو اخلاقی قدروں کی پرورش کرتی ہے نہ باوقار اسلوب حیات کو پروان چڑھاتی ہے، اس کے برعکس اسلام زندگی کے انفرادی اور اجتماعی تمام معاملات میں اخلاقی معیار قائم کرتا ہے اور لباس و انداز سے لے کر رسوم و رواج، اقدار و روایات اور قوانین اجتماعی کے ذریعے ایک ایسا پر امن، مہذب اور باوقار معاشرہ تشکیل دیتا ہے جہاں تحفظ ہے خوف نہیں، احترام و تقدس ہے ذلت و رسوائی نہیں، امن و سکون ہے انتشار و منافرت نہیں۔اسلام مرد اور عورت دونوں کے اخلاقی کردار کا تعین کرتا ہے، مسلم عورت کا کردار حتیٰ کہ اس کے لباس کو بھی عزت و وقار کی علامت قرار دیتا ہے، گویا لباس تہذیب کی علامت بن کر مسلمان عورت کو راہ عزت و تقدیس عطا کرتا ہے جس کی مغربی تہذیب آزادی و حریت کے تمام دعوؤں کے با وجود مثال پیش نہیں کر سکتی ۔اپنے حیا دار لباس میں ملبوس مسلم عورت معاشرے میں امتیازی شخصیت کی حامل قرار پاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ معاشرے کی ایک مکمل رکن اور مکمل انسان کا رتبہ عملاً حاصل کرتی ہے ۔عورت مستور ہو جانے کے بعد معاشرے میں اپنی ذہنی و روحانی صلاحیتوں کے ساتھ متعارف ہوتی ہے نہ کہ اپنی نسوانی دلکشی کے ساتھ۔یوں گویا مسلم عورت ماڈل بن کر اشتہارات میں اپنی تقدیس و ناموس کا سودا کرنے پر مجبور نہیں ہوتی بلکہ ایک انسان کی حیثیت سے معاشرے میں اپنے وجود کو منوا کر مکمل آزادی حاصل کرتی ہے اور پورے وقار اور فخر کے ساتھ زندہ رہتی ہے، یہ مسلم نازک صنف جنسی استحصال کا شکار نہیں ہوتی۔ اپنے وجود سے محروم نہیں ہوتی، نو عمری میں قصور کی زینب کی طرح زندہ درگور نہیں ہوتی۔دنیا کی ہر قوم ،ہر مذہب میں اشرافیہ کا ایک خاص لباس طے ہوتا ہے اور بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر قوم و مذہب میں یہ لباس فاخرانہ ساتر اور مکمل ہی باحجاب لباس اشرافیہ کی امتیازی پہچان ہوتا ہے، آج اگر حجاب کے 2 گز کے ٹکڑے کے خلاف مزاحمت شدید تر ہوتی جا رہی ہے تو یہ لمحہ فکر ہے ، کیا ہم آدم انسانی کو بے حجابی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں؟ گویا پتھر کے دور کاوہ انسان جو حیوانیت سے عروج انسانیت کی طرف گامزن رہا ہے ہم اس کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں؟ہر گز نہیں۔عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی کمیشن اس بات کے خواہاں ہیں اور حمایت کرتے ہیں کہ لباس تہذیب کی علامت ہے اور ترقی کی راہ میں ساتر باحجاب لباس کے ساتھ مرد ہی نہیں عورتوں کو بھی بھر پور طریقے سے شرکت کا حق ہے ۔ارباب اقتدار کی ذمے داری ہے کہ تعلیم، روزگار اور علاج معالجے کے لیے ہر میدان میں میڈیا اور حکومت ایسے مواقع فراہم کرے اور ایسا ماحول بنائے کہ جہاں عورت کی تقدیس و ناموس اور اس کی تہذیبی اقدار کے استحصال کو ختم کیا جا سکے۔آج اگر عورت کو بے لباسی اور بے حجابی کی دلدل فیشن اور ماڈرن ازم کے نام پر مارکیٹنگ کے میدان میں گھسیٹ لایا گیا ہے، بے حجاب لباس حسن کی دوڑ میں حوصلہ افزائی کا رویہ اخلاقی اقدار کو ختم کر کے جس قسم کے ہولناک نتائج ہمیں دکھا رہا ہے، یہ ایک لمحہ فکر ہے۔ عورت کے تقدس کے ساتھ ہونے والے دردناک واقعات نے اس فکر کو تقویت دی کہ ہم اس اہم اور حساس موضوع پر پُر زور آواز اٹھائیں اور اہل دانش خواتین اسلام کے سنہری ماضی سے اپنے اسلاف کی تعلیمات کی روشنی میں یہ جائزہ لیں کہ کیا آج ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حجابی و بے لباسی ہمیں ترقی کی طرف لے جا رہی ہے یا ہم انسانیت سے حیوانیت کے سفر پر گامزن ہیں۔ہم ایک عمیق اور پر مغز جائزے کے بعد درد مندانہ مطالبہ کرتے ہیں کہ دستور پاکستان کو پیش نظر رکھتے ہوئے معاشرے کے تمام ادارے میڈیا، تعلیمی ادارے، حکومتی و سرکاری قانون ساز ادارے اس حوالے سے اپناکردارادا کرتے ہوئے ایسے قوانین و ضابطے عملاً نافذ کریں جن کے تحت مسلم مرد اور عورت کو با حجاب اور با وقار لباس، تہذیب و اقدار کو اختیار کرنے کا مکمل حق اور تحفظ حاصل ہو۔ ہر فرد چاہے وہ استاد ہو، ڈاکٹر، وکیل، صحافی، ہر محاذ پر عورت اور مرد دونوں کی ذمے داری ہے کہ اپنی روایات اور مشرقی تہذیب کی پاسداری کرے اور اسلامی، مشرقی، فلاحی معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے۔