September 19th, 2018 (1440محرم8)

عاطف میاں کی بطور مشیر تقرری اور جماعت اسلامی کا مؤقف

جماعت اسلامی کے مرکزی ذمہ داران کے منصورہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں ناموس رسالت کے حوالے سے مغربی ممالک کی بے احتیاطی اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس معاملے پر عالمی اداروں سے بات چیت اور عالمی قانون سازی کے لیے قانونی ماہرین سے مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا گیا- اجلاس میں حکومت کی طرف سے قادیانی مبلغ عاطف میاں کی بطور اقتصادی مشیر تقرری سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی مشاورت کی گئی-
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ا میر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ عاطف میاں کی بطور مشیر تقرری سے عوام کے اندر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ ہالینڈ نے توہین آمیز خاکوں کے مقابلے منسوخ نہیں ، ملتوی کیے ہیں ۔ عالم اسلام کو ان مقابلوں کو روکنے کے لیے متحد ہو کر ایکشن لینا ہوگا۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت نے ایک قادیانی مبلغ اور آئین پاکستان اور قانون تحفظ ختم نبوت کے خلاف لابنگ کرنے والے عاطف میاں کو اقتصادی مشیر بنا کر ملک میں انتشار پیدا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئین پاکستان اقلیتوں کے حقوق کی مکمل ضمانت دیتا ہے لیکن قادیانی بطور اقلیت اپنی اس آئینی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کی کتب، لٹریچر، تقاریر اور عبادت گاہوں میں بھی آج بھی اس آئینی حیثیت کو چیلنج کیا جاتا ہے، اور بین الاقوامی فورمز میں اس کے خلاف لابنگ کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسی کوشش کے طور پر وہ قومی اداروں اور حکومتی مشینری میں نفوذ پذیر ہو رہے ہیں جو ملک و قوم کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آئین پاکستان ملک میں انتشار کے خاتمے اور عقائد کے ٹکراﺅ کو روکنے کی ضمانت دیتا ہے، اس کی روشنی میںایک پرامن اور مضبوط معاشرے کا رخ دھار کر ملکی ترقی وخوشحالی کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے مشورہ کیا کہ حکومت ایسے متنازعہ اقدامات سے باز رہے اور اپنی غلطی کو ایسے جواز مہیا نہ کرے جس سے ملک میں انتشار اور عوامی غصے میں اضافہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے عاطف میاں کے حق میں بیان نے شکوک و شبہات میں اضافہ کیا ہے۔ ایسی جرات آج تک کسی حکومت نے نہیں کی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت قادیانی مشیر عاطف میاں کی تقرری کو فوری طور پر منسوخ کرے۔ 
سینیٹر سرا ج الحق نے کہاہے کہ آئین پاکستان اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتاہے مگر قادیانی نہ تو اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ ہی پاکستان کے آئین کو مانتے ہیں بلکہ قادیانی مسلمانوں کو مسلمان ہی نہیں مانتے ۔ قادیانیوں نے خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت میں شب خون مارا ۔ جب سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیاہے یہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کی سازشوں میں مصروف ہیں اور خفیہ طور پر اعلیٰ عہدوں تک پہنچنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ وزیر اطلاعات حکومت کی بجائے قادیانیوں کی وکالت کررہے ہیں حکومت کو عقل کے ناخن لیتے ہوئے اقتصادی مشاورتی کونسل سے ایک قادیانی کی تقرری کو فوری ختم کرنا ہوگا ۔انہوںنے کہاکہ ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہوںنے معیشت اور اقتصادیات میں بین الاقوامی شہرت حاصل کی ہے ۔