November 15th, 2018 (1440ربيع الأول6)

سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی دردانہ صدیقی کا ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ کی طرف سے گستاخانہ خاکوں کے مقابلہ کے اعلان پر غم وغصے کا اظہار اور شدید مذمت

* کارٹون اور توہین آمیز خاکوں کا مقابلہ درحقیقت امن عالم کے خلاف سازش ہے ۔
*بد طینت لوگوں کی جانب سے بار بار مسلمانوں کی غیرت و حمیت دینی کو للکارا جاتا ہے تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ امت مسلمہ کے مضمحل جسم سے روح محمدی صلی علیہ واٰلہٖ مسلم نکالی جاسکتی ہے یا نہیں۔
* آزادی اظہار رائے کی آڑ میں پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی اور شعار اسلام کو نشانہ بناکر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ابلاغی دہشت گردی اور انتہا پسندی کا ثبوت اور ذہنی پر شکست خوردگی کی علامت ہے ۔
*انبیاء کرام اور مذہبی ہستیاں ہر ایک مذہب کے لیے محترم ہیں ان کی شان میں گستاخیوں سے نہ صرف دینی جذبات مجروح ہوتے ہیں بلکہ یہ بنیادی انسانی اخلاقیات اور انسانی حقوق کی بھی نفی ہے 
*مذکورہ مقابلے کا اعلان مغرب کے ذہنی خلجان کا اظہار ہے۔ 
*مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے مگر اپنے نبی کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا
*توہین آمیز خاکے دراصل مذہبی منافرت پھیلانے کی سازش ہے۔ 
*مغرب ایک جانب امن اور رواداری کا درس دیتا ہے مگر دوسری جانب خود ایسے اقدام کر رہا ہے جس سے پوری دنیا کا امن خطرے سے دوچار ہے۔ 
*توہین آمیز خاکوں کے حوالے سے موجودہ اعلان اور اس سے پیشتر گزشتہ تمام واقعات اس بات کا کھلا ثبوت ہیں کہ فساد پسند دنیا پر عالمگیر شیطانی نظام قائم کرنے کے خواہاں یہ نہ تو دنیا میں قیام امن چاہتے ہیں اور نہ ہی دین فطرت کو فروغ کا کوئی موقع دینا چاہتے ہیں۔ *ستم ظریفی یہ ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب ان افراد اور ممالک کے خلاف بطور احتجاج کسی بھی مسلمان حکمران کی طرف سے کبھی بھی کوئی صدا بلند نہیں ہوئی 
*ہمارے حکمران مسلسل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کی طرف سے غافل ہیں ان حالات میں جب کہ مغرب اپنی شر انگیزیوں میں مصروف ہے مسلم حکمرانوں کی توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اسلام پر پابندیوں پر خاموشی قابل مذمت اور باعث شرم ھے۔ 
*ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں اورسول سوسائٹی، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اس گھناؤنی سازش کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو جائیں۔ *حکومت پاکستان فوری طور سے یہ مقابلے رکوانے کی کوشش کرے ،ہالینڈ کا سفارتی بائیکاٹ کیا جائے اور قانون ناموس رسالت ختم کرنے کے بجائے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا جائے کہ Blasphamy کا قانون منظور کرے تاکہ آئندہ کوئی ایسی نازیبا حرکت کرنے کی جرات نہ کر سکے