December 11th, 2018 (1440ربيع الثاني4)

عورت کے لیے اسلام کا متعین دائرہ کار رحمت ہے‘ رخسانہ جبیں

اسلام نے عورت کو ماں ، بہن ، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے قابل فخر مقام ومرتبہ دیا ہے اور نسل نو کی تعمیر و تربیت سپرد کر کے اس کو کائنات کی معتبر ہستی بنادیا ۔ نسل انسانی کی تخلیق کا گرانبار فریضہ عورت کے بلند مقام کی دلیل ہے ۔ حضور ؐ عورت کے لیے جو نظام لے کر آئے اسی میں اس کے لیے دائرہ کار کا تعین رحمت ہے ،فطرت نے نسل انسانی کی تخلیق کے گر انبار فریضے کی ادائیگی کے لیے معاشی تک و دو سے عورت کو آزاد کر کے اسے اپنی تخلیق کی حفاظت کرنے کا مو قع دیا مگر اس کے ساتھ ساتھ عورت کو کام کر نے کی آزادی بھی دی گئی اور مردکو پابند کیا گیا کہ وہ معاش اور کفالت کا ذمے دار بنے ۔ان خیا لات کا اظہار ویمن اینڈ فیملی کمیشن کی صدر ڈاکٹر رخسانہ جبیں نے ’’یومِ خواتین ‘‘ کے حوالے سے اپنے بیان میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ خواتین اسلام اللہ کا شکر اداکریں، جس نے مسلمانوں میں پیدا کیا ۔ بحیثیت مسلمان خاتون اپنے مقام سے بھی واقفیت حاصل کریں اور اپنی ذمے داریوں کو بھی جانیں ۔آج پاکستانی قوم کو بہترین خواتین خصوصاً ایسی ماؤں کی ضرورت ہے جو اپنی ایسی نسل پروان چڑھا سکیں کہ مسائل میں گھرا ہوا پاکستان صحیح معنوں میں خوشحالی اور امن کا گہوارہ بن جائے ۔عورت ایک طاقت ہے ، اگروہ اپنی اس ذمے داری کے منصب سے واقف ہو تو معاشرے میں انقلاب بر پا ہو سکتا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسلامی معاشرے میں عورت کو وہ حقوق حاصل نہیں جو نبی مہر بان ؐ نے متعین کیے تو اس کے لیے قصور وار اسلام کی تعلیمات نہیں یہ قصور ہمارا ہے ۔ہمیں اعتدال پر مبنی معاشرہ قائم کر نے کے لیے عورت کو محبت کے ساتھ حفاظت اور احترام کا ماحول فراہم کر نا چاہیے تاکہ نسلِ انسانی کی تعمیر باوقار انداز میں ہو سکے ۔انہوں نے کہا کہ عورت ہر دور میں ابتلاو آزمائش کا شکار رہی ۔تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمان عورت اپنے کلیدی کردار کو پہنچانتے ہوئے نسل نو کی تربیت کے محاذ پر ڈٹی رہی تب تک ہماری تاریخ بھی فروزاں تھی اور ہمارا جغرافیہ بھی پھیل رہا تھا ۔آج ہمارے اندر بگاڑ کے اسباب میں سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ عورت کے کردار میں واضح تبدیلی آگئی ہے مگر موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ مسلمان عورت کے کردار کی وضاحت میں مسلمان معاشرے اور دانشوروں نے پہلو تہی سے کام لیا ۔اسلام نے صنف نازک کے حقوق و مرتبے کا استحصال کر نے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کیں ہیں ۔اس کے ساتھ ہی حقِ مہر ،وراثت ،ملکیت ،نان نفقہ کے واضح احکامات کے ذریعے عورت کے جائزحقوق کو اس کے لیے وقف کر دیا ۔مگر آج کی عورت مغربی چکا چوند کے پیچھے بھاگنے کی بنا پر اپنے فرائض سے غافل ہوئی تو نتیجے کے طور پر حقوق سے محروم ہوئی ۔اسلام کی تعلیمات عورت کے لیے سراسر سلامتی لے کر آئیں ۔