May 26th, 2018 (1439رمضان11)

مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیاء میں امن کی توقع رکھنا نادانی ہے۔ دردانہ صدیقی

کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے،کشمیر اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔جب تک مسئلہ کشمیر حق و انصاف اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہو گا اس وقت تک جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کی توقع رکھنا نادانی ہے۔ان خیالات کا اظہار سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی حلقہ خواتین  دردانہ صدیقی نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے حکومتی سفارتکاری مسلسل ناکامیوں سے دو چار رہی ہے جبکہ دوسری جانب بھارتی سفارتکاروں نے کامیاب سفارتکاری کے ذریعے دنیا کو اپنے حق میں رام کر لیا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ آ ج تک اسلامی ممالک بھی کشمیر پر کوئی جاندار موقف اختیار نہ کرسکے۔سب سے ذیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ پاکستانی حکمران بھارت سے دوستی اور تجارت کے لیے کشمیریوں کے قتل عام سے ہمیشہ پہلو تہی کرتے رہے ہیں لیکن انہیں یہ جان لینا چاہیئے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کی بحالی کا تصور محض خام خیالی ہے۔انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام مصلحتوں سے بالاتر ہو کر کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے قرار واقعی اقدامات کرے کیونکہ کشمیری،پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہیں اس موقع پرہماری ہر طرح کی مدد اور حمایت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کشمیر کے مسئلہ پر انسانی حقوق کے ٹھیکیداروں اور اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے مسلم ممالک سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں اور او آ ئی سی کے ذریعے کشمیری عوام کو حق خودارادیت دلوانے اور بھارتی مظالم رکوانے کے لئے عالمی سطح پر دباؤ ڈالیں۔دردانہ صدیقی نے اپنے بیان میں اس بات کا عزم کیا کہ ہم ہر سال کی طرح اس سال بھی 5 فروری کو یومِ و یکجتئ کشمیر قومی جوش وجذبے سے منائیں گےاور کشمیریوں کو اس بات کا احساس دلائیں گے کہ پاکستانی قوم زندگی کے آخری لمحہ اور خون کے آخری قطرے تک ان کے ساتھ ہےاور ان شاءاللہ وادی کشمیر میں آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا۔