November 24th, 2017 (1439ربيع الأول5)

کرپٹ نظام کے خاتمے کیلیے اجتماعی جدوجہدناگزیر ہے،دردانہ صدیقی

صرف آرزؤں اور امیدوں سے حالات میں سدھار ممکن نہیں ،چہروں کے بجائے نظام بدلا جائے ۔اجلاس سے خطاب .سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان حلقہ خواتین دردانہ صدیقی نے دو روزہ دورہ لاہور کے دوران صوبہ پنجاب کی ناظمات اضلاع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اْمت مسلمہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر جن آزمائشوں کا شکار ہے اور جس طرح معاشی و معاشرتی کرپشن ،اخلاقی اور تمدنی زوال پذیری کا فتنہ عروج پر ہے اس تناظر میں داعی کی حیثیت سے ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنائیں اور اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے ہمیں عوام الناس میں یہ شعور بیدار کرنا ہو گا کہ محض آرزوؤں اور امیدوں سے ملک وقوم کے حالات میں سدھار ممکن نہیں ۔موجودہ حالات اور وقت چہروں کے بجائے نظام کو بدلنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ان حالات میں کرپٹ اور ظالمانہ نظام کو بدلنے کی اجتماعی جدو جہد کرنا ہر ذی شعور پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کے ذریعے ملک خداداد پاکستان میں اسلام کے نظام کا نفاذچاہتی ہے اور جماعت اسلامی کے بے لوث،مخلص کارکنان ہی جماعت کا سرمایہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ذرائع ابلاغ ریاست کا چوتھا ستون اور نسل نو کی تعمیر و تربیت میں اہم کردارکے حامل ہیں۔لیکن اشتہارات اور ڈراموں نے تعمیر و تربیت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ذرائع ابلاغ کو ضابطہ اخلاق کا پابندبناتے ہوِئے عورت کے تقدس اور احترام کو عملاً ہر سطح پر ممکن بنایا جائے۔دردانہ صدیقی نے کارکنان پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات دعوت دین کے پھیلاؤ کے لیے سازگار ہیں۔عوام الناس کو گھٹن اور محرومیوں سے نکالنے لیے امید و عزم کے ساتھ میدان عمل میں اترنے کی ضرورت ہے اور وہ دن دور نہیں جب اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔علاوہ ازیں دردانہ صدیقی نے انفاق ونگ کے ساتھ نشست میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکریٹریز رعنا فضل اور ڈاکٹر حمیرا طارق بھی ان کے ہمراہ تھیں۔بعد ازاں دردانہ صدیقی ایگزیکٹیو ڈائیریکٹر دنیا نیوز سلمان غنی کے بہنوئی اور نائب نگران شعبہ فلاح خاندان عاصمہ غنی کے شوہر کے انتقال پر ان سے تعزیت کرنے ان کے گھر گئیں اور مرحوم کی مغفرت اور بلند درجات کے لیے دعا کی۔