December 17th, 2017 (1439ربيع الأول28)

بنگلا دیش میں گرفتاریاں‘ پاکستان سہ فریقی معاہدے کو عالمی فورم پر اٹھائے‘ سراج الحق

امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کے نو منتخب امیر سمیت 8مرکزی قائدین کی بغیر الزام گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پاکستان سہ فریقی معاہدے کو بین الاقوامی فورم پر اٹھائے جو شیخ مجیب الرحمن ، اندرا گاندھی اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان طے پایا تھا کہ 1971 ء کے جنگی جرائم کے بارے میں کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی انہوں نے کہاکہ حسینہ واجد کی حکومت جماعت اسلامی کے خلاف ایک عرصےسے انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے ۔ اب تک نام نہاد جنگی ٹریبونل سے جماعت اسلامی کے سابق امیر مطیع الرحمن نظامی سمیت کئی رہنما پھانسی پاچکے ہیں ۔ اس بات کا خطرہ ہے کہ ان رہنماؤں کو بھی انتقام کا نشانا بنایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بنگلا دیش 1971 ء کی جنگ میں پاکستانی فوج کا ساتھ دینے کے جرم میں سزا بھگت رہی ہے ۔ افسوس کا مقام ہے کہ پاکستانی حکومت اس کو بنگلا دیش کا اندرونی معاملہ قرار دے کر عالمی فورم پر اس مسئلے کو اجاگر نہیں کر رہی ۔ حکومت پاکستان اس سہ فریقی معاہدے کو بین الاقوامی فورم پر پیش کر کے جو شیخ مجیب الرحمن ، اندرا گاندھی اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان طے پایا تھا کہ 1971 ء کے جنگی جرائم کے بارے میں کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی ، جماعت اسلامی کو ریلیف دلاسکتی تھی ۔
دوسری جانب سینیٹ اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہمارا مطالبہ سب کا احتساب ہے۔ نیب کے نئے چیئرمین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بلاامتیاز سب کا کڑا احتساب کریں گے۔ ہم کسی ایک فرد یا خاندان نہیں بلکہ بلاامتیاز سب کا احتساب چاہتے ہیں، ہم نے اس مقصد کے لیے عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کردی ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ قانون امیر و غریب سب کے لیے برابر ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں امیر کے لیے قانون الگ اور غریب کے لیے الگ ہے۔ امیر اربوں کی کرپشن کرکے بھی ملک سے فرار ہوجاتا ہے، اور غریب 200روپے کے مقدمے میں بھی جیل چلاجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسا قانون ہے کہ امیر سرخ بتی کو توڑے تو کوئی نہیں پوچھتا، غریب سرخ بتی کو توڑدے تو فوراً چالان ہوجاتا ہے۔ 5فیصد کرپٹ مافیا 95فیصد عوام کا خون نچوڑنے میں لگی ہے۔ جمہوری نظام کے نام پر تماشا لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہر طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا جائے۔ عوام کی خدمت کے نام پر ووٹ لینے والے عوام کو جوابدہ ہونگے تو ملک کا نظام درست سمت میں گامزن ہوگا۔ ملک کو امن، ترقی، انصاف کی راہ پر گامزن کرنے اور اسے صحیح معنوں میں کرپشن، بے روزگاری، غربت، جہالت، دہشت گردی اور اس جیسی دیگر بیماریوں سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسی قیادت کا انتخاب کیا جائے جو حقیقی معنوں میں دیانتدار اور ملک و قوم کا درد رکھنے والی ہو۔ جماعتِ اسلامی پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کا عزم اور بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔