June 25th, 2017 (1438رمضان30)

بجٹ میں عوام پر کسی قسم کا نیا ٹیکس نہ لگایا جائے،سراج الحق

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نےحکومت سے مطالبہ کیاکہ آئندہ بجٹ میں حکومتی اخراجات کم کر کے عوام کو ریلیف دیا جائے اور کسی قسم کا نیا ٹیکس نہ لگایا جائے ۔ حکومت اپنے وعدے کے مطابق چار سال میں لوڈشیڈنگ ختم نہیں کر سکی اس لیے ضروری ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کی جائے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا واضح اعلان کیا جائے۔ای او بی آئی کے ریٹائرڈ ملازمین اور پنشنرز کی پنشنز میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے اور واجبات فوری ادا کیے جائیں۔ مزدوروں ، کسانوں اور نان رجسٹرڈ لیبر کو رجسٹرڈ کر کے انہیں لیبر قوانین کے تحت تعلیم اور صحت کی سہولتیں دی جائیں۔ ایڈہاک ازم ختم کر کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کیا جائے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت اپنے چار سالہ دور میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دے سکی جس کی وجہ سے عام آدمی مہنگائی اور غربت کی چکی میں پس رہاہے اور لوگو ں کے لیے اپنے بچوں کا پیٹ پالنا مشکل ہوگیا ہے ۔ حکومت غیر ملکی اداروں سے قرض پہ قرض لیتی چلی جارہی ہے ۔ اندرون ملک بنکوں سے بھی ہزار ہا ارب روپے قرض لے چکی ہے اس وقت ہر شہری لاکھوں روپے کامقروض ہے ۔ دوسری طرف عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کیا جارہاہے ۔ بجلی پر چھ قسم کے ٹیکس وصول کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے اور چار سال میں حکومت تمام تر دعوے کے باوجود بجلی پوری نہیں کر سکی مگر بجلی کے بے تحاشا بل وصول کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اپنے آخری سال میں اگر بجلی نہیں دے سکتی تو بجلی کے بلوں میں ہی کمی کر دے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت رمضان المبارک میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں پر دو ارب روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کر کے اب اس میں کمی کرنے کے بہانے تراش رہی ہے حالانکہ بیس کروڑ آبادی کو محض دوارب روپے کی سبسڈی دینا اونٹ کے منہ میں زیرا دینے کے مترادف ہے ۔ حکومت کو چاہیے تھاکہ کم از کم دس ارب روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کرتی۔