October 22nd, 2017 (1439صفر1)

نقشِ پا



نقشِ پا

بواسطة Admin / 0 Comment

برسہا برس سے امت کے کڑوروں مرد اس ایک “عورت ” کے نقش پا پر دوڑ رہے ہیں اور جو قدم وہاں تک نہیں پہنچے وہ اس کی حسرت رکھتے ہیں وہ سینہ بھی کیا جو اس خواہش سے خالی ہو –رہتی دنیا تک انسانوں کے قافلے لبیک اللھم لبیک کی صداؤں کے ساتھ “سعی” کرتے رہیں گے، طواف کرتے رہیں گے۔

ایک عورت کے نقش پا۔۔۔ جس پر انسانیت کے قافلے شرف کے ساتھ دوڑ رہے ہیں دیوانہ وار لپک رہے ہیں۔۔۔ منزل مراد پا رہے ہیں۔۔۔ پیروں کی وہ دھول کیسی معتبر ٹہھری۔۔۔ مشقت کی وہ ادا کیسی پسند آئی۔۔۔ کیسا اکرام دیا گیا ان قدموں کے نشان کو۔۔۔ حکم دیا گیا امت کو کہ جب تک دنیا قائم ہے شرف ہے، اکرام ہے، توقیر ہے، رضا ہے، ثبات ہے دوام ہے، تو اسی ادا میں ہے جو محبوب رب ہو گئی!

آخر ایسا کیا تھا اس ادا میں جو قبولیت کی اس معراج کو پہنچی کہ شرف انسانیت و نسوانیت قرار پائی۔۔۔ کمال نسوانیت قرار پائی۔۔۔ رکنا ہوگا ٹہھرنا ہوگا۔۔۔ کچھ پیچھے پلٹنا ہوگا۔۔۔ جاننا ہوگا اور دیکھنا ہوگا۔۔۔ محسوس کرنا ہوگا کہ کیا تھی ایک عورت کی قربانی جس نے صدیوں کو منور کردیا۔۔۔ ان قدموں کی وہ تابناکی۔۔۔ وہ ضوفشانی کہ انسانیت راہ راست پر رہے گی جب تک ان قدموں کے نشانات کو سنگ میل بنائے رکھے گی۔

صدیوں کی گرد جھاڑیئے۔۔۔ چشم تصور کو وا کیجئے۔۔۔ ذرا سا پیچھے کی سمت دیکھئے تو سہی۔۔۔

نہ آدم۔۔۔ نہ آدم زاد۔۔۔ نہ سبزہ نہ پانی۔۔۔ نہ دور دور تک کسی انسانی قدموں کے نشان۔۔۔ ایسا ویران ایسا سنسان جنگل کہ اپنی سانسوں کی آہٹ بھی محسوس ہو جہاں۔۔۔ نومولود ہے اور اسکی ماں ہے۔۔۔ یہاں بسیرا کرنا ہے آباد کرنا ہے اس جگہ کو۔۔۔ یہ کام وہ نومولود اور اسکی ماں انجام دیگی؟ امکانات اور نتائج پر نظر رکھنے والے تو سر جھٹک کر اسے دیوانے کی بڑ کہیں گے۔۔۔ ماں اور بیٹا وہاں بیٹھ گئے۔۔۔ اس ویرانے میں زاد راہ انکو سونپا گیا۔۔۔ کیا تھا وہ توشہ۔۔۔ بس چمڑے کا تھیلا کھجوروں سے بھرا۔۔۔ چھوٹا سا مشکیزہ پانی کا۔۔۔ ماں اور بچے پر نظر ڈالی اور حضرت ابراہیم بنا کچھ کہے پلٹ گئے۔۔۔ مستقبل کی کوئی صورت گری نہیں۔۔۔ کسی پلان سے آگہی نہ دی۔۔۔ اب کیا ہونا ہے؟ اب کیا کرنا ہے؟

اس ویرانے میں کون پرسان حال ہوگا؟ اک انسانی ذات۔۔۔ لاکھ تحفظات۔۔۔ پھر اپنی جان ہی نہیں وہ ننھی جان۔۔۔ وہ دعائے خلیل۔۔۔ کچھ تو بتایا ہوتا۔۔۔ اعتماد کا رشتہ ہوتا ہے میاں بیوی کے بیچ میں۔۔۔ بیابان سراب میں کوئی یوں چھوڑا کرتا ہے محبت کرنے والی بیوی اور اپنے نور العین کو؟

اب ملنا ہو تو کہاں جاؤنگی؟ مدد کی ضرورت ہوئی تو کسے پکارونگی؟ کوئی جنگلی درندہ ادھر آنکلا تو نومولود کو لیکرکہاں کس کوہ۔۔۔ کس غار میں پناہ لینی ہے؟

اندیشے ہیں۔۔۔ وسوسے ہیں۔۔۔ خطرات ہیں۔۔۔ ام اسمٰعیل نے پدر اسمٰعیل کو جو یوں جاتے دیکھا تو پیچھے لپکیں، اسی جنگل میں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ پیچھےسے محبوب بیوی پکار رہی ہے۔۔۔ روک رہی ہے۔۔۔ لیکن ابراہیم لمحے بھر کو رک جاتے تو تاریخ ٹھہر جاتی۔۔۔ زماں و مکان کی گردش رک جاتی۔۔۔ کہ تاریخ اپنا اہم ترین باب رقم کر رہی تھی۔۔۔ ایک لازوال داستان۔۔۔ تب ہی تو پلٹ کر نہ دیکھا۔۔۔ ہاں حضرت ہاجرہ کی بیچارگی۔۔۔ انکی آوازیں۔۔۔ صدائیں ضرور سماعتوں سے ٹکراتی رہیں۔

حضرت ابراہیم میں یارا نہ تھا کہ پلٹ کر دیکھتے آخر ایک انسانی دل رکھتے تھے۔۔۔ ایک باپ کا دل۔۔۔ ایک شوہر کا دل۔۔۔ ایک رقیق القلب جسکی قرآن مدح سرائی کرتا ہے جب تیار ہی نہیں ابراہیم کسی صدا پر کان دھرنے کو تو پیچھے سے دوڑتی ہاجرہ یکایک ایک سوال کرتی ہیں۔۔۔ وہ سوال جس سے گردش افلاک ایک لمحہ کو ٹھہر سی گئی۔۔۔ کیا تھا بھلا وہ سوال؟ بس وہ سوال ہی انسانیت کی تاریخ کا سب سے بنیادی سوال تھا، سب سے اہم سوال تھا۔ اسی سوال کے صحیح جواب میں‌ آج بھی انسانیت کی فلاح مضمر ہے، بقا مضمر ہے، وہی سوال جو انسانیت کی معراج ٹہرا، اسی سوال کے جواب میں پیغمبر بھیجے گئے شریعتیں اتاری گئیں۔۔۔ کیا تھا وہ سوال جو حضرت ہاجرہ کے پریشان، بے حال، غمگین دل میں یکایک پیدا ہوا کہ “کیا اللہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے؟” اب اسی ایک سوال کے جواب پر رہتی دنیا تک انسانیت کی صورت گری ہونا تھی۔۔۔ باقی ماندہ منصوبہ رب تشکیل پانا تھا۔۔۔ تیز تر چلتے ہوئے۔۔۔ بن پیچھے دیکھے حضرت ابراہیم نے فقط ایک لفظ میں اس سوال کا جواب دیا اور لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گئے۔۔۔ اور وہ کیا لفظی جواب جس نے خوف اور وحشت کے سب سائے نگل گئے۔۔۔ ڈولتے وجود کو جیسے قرار آگیا۔۔۔ رستے زخموں پر جیسے پھاہا رکھ دیا کسی نے۔۔۔ تپتے ریگستان میں جیسے رحمت کی بدلیا ں برسنے لگی ہوں۔۔۔ سب خوف امید میں بدل گیا۔۔۔ نڈھال وجود کو تھا م لیا کسی نے۔۔۔ مردہ قدموں میں جان پڑ گئی۔۔۔ امید اور آرزو نے اس نسوانی وجود کو حصار میں لے لیا۔۔۔

کیسا یقین۔۔۔ کیسا غیر متزلزل ایمان۔۔۔ بن دیکھے رب پر ایسا لازوال یقین۔۔۔ یہ ایمان وہ یقین کی دولت۔۔۔ بس جس کے حصے میں اس نے حضرت ہاجرہ کی طرح تاریخ کا رخ موڑ دیا۔۔۔ حضرت ابراہیم کا وہ جواب تھا۔۔۔ “ہاں” اور یہ جواب سنکر حضرت ہاجرہ بے اختیار بول اٹھیں “پھر اللہ ہمیں ہلاک نہیں کریگا” اور یہ کہہ کر واپس پلٹ آئیں پھر پلٹ کر بھی حضرت ابراہیم کی سمت نہ دیکھا کہ بے قراری کو قرار جو آگیا۔۔۔ وہ اصلی وارث اور ولی جب اپنے حصار میں لے لے تو پھر دنیاوی سہاروں کی کیا حاجت؟ کیسا روشن ہوگیا وہ سینہ اس ایمان سے۔۔۔ انسانیت نے لمحہ بھر میں صدیوں کا سفر طے کر لیا اس ایک لمحہ نے ان چند لفظوں نے رہتی دنیا تک ایک تاریخ رقم کر دی انسانیت کو ایک درس دےدیا۔۔۔ کہ رب کی رضا چاہنے والے کب ہلاکتوں سے دو چار ہوتے ہیں۔۔۔ کب بے راہ ہوتے ہیں۔۔۔ کب بھٹکتے ہیں‌۔۔۔ کب سود و زیاں کا حساب لگا کر اپنی منزک کھوٹی کرتے ہیں۔۔۔ رستے کے سفر کو کب مادی پیمانوں سے تولتے ہیں۔۔۔ بس دل کو رب کے حوالے کر کے منزل کو نظروں میں بسا لیتے ہیں تو “زم زم” جاری ہو جایا کرتا ہے۔۔۔ ٹھہر ہی تو گئے ہیں وہ لمحہ تاریخ میں۔۔۔ صدیوں کی تاریخ بھی انہیں دھندلا نہیں سکی۔۔۔ صدیوں کی تاریخ سے چھنتی وہ روشنی آج بھی بشام جاں‌ کو معطر کر رہی ہے۔

جب حضرت ہاجرہ پلٹ گئیں رب کی رضا کے سفر پر تو حضرت ابراہیم کوبھی گویا قرار آگیا، پہاڑی شنیہ پر پہنچے یہاں سے اب بیوی بچہ نظروں سے اوجھل ہوچکے تھے، کعبہ کی سمت منہ کیا اور دل گرفتہ رب کے سامنے رکھ دیا “اے پروردگار میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں نے اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر میں لا بسایا ہے” (حوالہ نمبر سورہ ابراہیم 37)

نونہال کو دودھ پلاتی ہیں چھاتی سے لگاکرخود قلب مطمئنہ کے ساتھ مشک سے پانی پیتی ہیں۔۔۔ چھوٹا سا مشکیزہ کب تک ساتھ دیتا۔۔۔ ختم ہوگیا پانی۔۔۔ بے آب و گیاہ وادی دھوپ کی تمازت۔۔۔ تنہائی۔۔۔ دھند میں لپٹا مستقبل۔۔۔ لیکن پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں۔۔۔ کوئی شکوہ نہیں۔۔۔ کوئی شکایت نہیں۔۔۔ کچھ بھی ملال نہیں۔۔۔ کوئی بدگمانی نہیں کوئی الزام نہیں کسی پر کہ دل اس یقیں سے شاداں اور فرحاں ہے کہ رب کی رضا کا سفر ہے۔۔۔ لیکن جسمانی تقاضے تو اٹل ہیں۔۔۔ ننھے اسمٰعیل پیاس کی شدت سے تڑپ رہے ہیں خود بھی حلق میں کانٹے پڑ گئے ہیں، کچھ تو کرنا ہے معجزوں کے انتظار سے تو منزلیں نہیں ملا کرتیں۔۔۔ سب توانائیاں اکٹھی کیں اور سامنے پہاڑی صفا پر چڑھ گئیں، دور دور تک وادی میں دیکھا انسان تو کجا وہاں تو بے آب و گیاہ میں پرندہ بھی پر مارے تو کیونکر۔

پہاڑی سے اتریں کرتہ سمیٹ کر نالے کے نشیب میں دوڑیں جیسے کوئی آفت رسیدہ دوڑتا ہے اور تاریخ کی نبضیں تھم گئیں کہ یہ قدم تاریخ کی لوح پر نقش ہونے جا رہے تھے۔۔۔ رب کو کتنے محبوب تھے اپنی راہ میں اٹھنے والے یہ قدم! کہ انسانیت کی پیشانی کا جھومر قرار پائے یہ مضطرب لمحات۔۔۔ تب نالے کو پار کر کے مروہ کی پہاڑی پر پہنچیں اور اسکی بلندی پر پہنچ کر دیکھا کہ شاید کہیں آب حیات پالیں۔۔۔ اس آب حیات کی تلاش میں صفا و مروہ کے درمیان دوڑتی رہیں۔۔۔ بے چینی کے عالم میں سات چکر لگا لئے کہ دل اس سے مناجات میں مصروف تھا جو مسبب الاسباب تھا۔۔۔ اصل میں تو تلاش اسی کی تھی۔۔۔ جستجو کا سفر اسی کی معرفت کے لئے تھا۔۔۔ تب ایک آواز سنی مروہ کی بلندی پر۔۔۔ دل کی دھڑکنوں کو تاکید کی کہ تھم جاؤ نصرت رب قریب ہی آلگی ہے اتنی ہی آزمائش مطلوب تھی عشق اپنے امتحان میں پورا اترا۔۔۔ فرشتہ نمودار ہوا اپنی ایڑھی زمین پر ماری اور صرف ہاجرہ اور نومولود کے لئے ہی نہیں رہتی دنیا تک کے آب حیات جاری ہوگیا۔۔۔ ہاتھوں سے حوض بنانے لگیں۔۔۔ چلو بھر بھر کر مشک میں ڈالنے لگیں۔۔۔ انکے ہاتھوں کا لمس پاکر پانی بھی معتبر سمجھ رہا تھا خود کو۔۔۔ مزید جوش مارنے لگا۔۔۔ کیا اکرام ملا تھا اس پانی کو۔۔۔ اور سیر ہوگئیں ہاجرہ بھی رحمت رب کو پا کر۔۔۔ اسکی معرفت کی بدلیاں جو برسیں تو پیاسی روح سیراب ہوگئی۔۔۔ رب کے جلوے بھی جلوے تھے۔۔۔ وقت کی سانسیں رکی ہوئی تھیں نبضیں تھمی ہوئی تھیں۔۔۔ سورج کی کرنوں نے لازوال و بے مثال داستان رقم کی تھی۔۔۔ عشق کی نہیں فدائیت کی۔۔۔ فرشتے نے امر کردیا ان لمحوں کو جب کہا “اپنی جان کا خوف نہ کرو یہاں ایک گھر بنے گا جو یہ بچہ اور اسکا باپ مل کر بنائیں گے۔۔۔

اللہ اپنے بندوں کو تباہ کرنے والا نہیں ہے۔۔۔

روایات میں ہے کہ اس وقت بیت اللہ کی جگہ زمیں سے اونچا ایک ٹیلہ تھا۔ بے آب و گیاہ وادی میں جب پانی کو دیکھا تو پرندوں کے قافلے بھی آبسے اور انسان بھی۔۔۔ حضرت ہاجرہ کی سعی مقبول ٹھہری۔۔۔ معتبر ٹھہری۔۔۔ شوہر کی جدائی صبر سے برداشت کی۔۔۔ حضرت اسمعٰیل کی پرورش کر کے امت کو قیادت فراہم کردی۔۔۔ عورتوں کو نسوانیت پر فخر کرنا سکھا دیا۔۔۔ رہتی دنیا تک انسانیت کے قافلے اس عظیم عورت کے نقوش پا پر دوڑتے رہیں گے۔۔۔ زم زم سے سیراب ہوتے رہیں گے جسکی ہر بوند میں انکی فدائیت کی خاموش سرگوشیاں ہیں۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “اللہ کی رحمتیں نازل ہوں اسمٰعیل کی والدہ پر” اس عظیم ماں پر رہتی دنیا تک کی ماؤں کا سلام جو ہمیں یہ پیغام دے گئیں کہ:

یہ جان تو اک دن جانی ہے پھر جان کے کیسے لالے ہیں

گر ساتھی منزل پانی ہے تو منزل آخر منزل ہے

افشاں نوید


جواب چھوڑیں

.آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا