November 20th, 2019 (1441ربيع الأول22)

بجلیوں کی زد میں ہے آشیانہ۔۔۔۔!



بجلیوں کی زد میں ہے آشیانہ۔۔۔۔!

بواسطة Admin / 0 Comment

اس نے شرارت سے مسکراتے ہوئے مجھے اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ میں بہت حیران ہوئی کہ میں نے کم ہی دیکھا ہے کہ ایک مریض ڈاکٹر سے اس طرح بے تکلف ہو۔ میں اس کے قریب چلی گئی۔ اس کی عمر بیس برس تھی، وہ اُس وقت سول اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں موجود تھی۔ اس کے والدین کا کہنا تھا کہ اس نے فنائل پی لیا ہے اور خودکشی کی کوشش کی ہے۔ وہ آہستہ سے میرے کان کے قریب اپنا منہ کرتے ہوئے بولی ’’ڈاکٹر صاحبہ میں تو اس سے قبل بھی اسی اسپتال کی ایمرجنسی میں آتی رہی ہوں۔ اصل میں امی ابو میں روز روز جھگڑا رہتا ہے، ان کا جھگڑا شدت اختیار کرجاتا ہے تو مجھے یہ ڈرامے کرنے پڑتے ہیں۔ وقتی طور پر امی ابو اپنا جھگڑا بھول جاتے ہیں‘‘۔
’’اچھا تو تم نے فنائل نہیں پیا، تو والدین کیوں اصرار کررہے ہیں؟‘‘
’’وہ اصل میں… باتھ روم جا کر میں نے فنائل بہادیا اور بوتل دھوکر پانی بھرلیا، اور ان کے سامنے خالی بوتل پھینکتے ہوئے کہا کہ اب میں مرجائوں گی، آپ آرام سے جھگڑتے رہیے گا۔ بس امی ابو کے تو اوسان خطا ہوجاتے ہیں، وہ نہ بوتل کو چیک کرتے ہیں نہ میرے منہ کی بُو کو۔ بس بھاگ دوڑ کرکے رکشہ لاکر مجھے اسپتال لے آتے ہیں۔‘‘
’’اچھا تو اب تمہیں انجکشن لگے گا۔‘‘
میری یہ بات سن کر وہ گھبرا گئی اور بولی ’’بس آپ مجھے طاقت کا کوئی شربت لکھ دیں، سر چکرا گیا ہے لڑائی جھگڑوں سے۔ اور کوئی بد ذائقہ دوا مجھے نہ لکھ کر دیجیے گا۔‘‘
’’اچھا سنو، تمہاری شادی ہوجائے گی تو تم اپنے شوہر کے ساتھ بھی یہی اداکاری کیا کرو گی؟‘‘ میں نے اُس سے سوال کیا تو وہ اپنی ذہین روشن آنکھوں کو حرکت دیتے ہوئے بولی ’’ڈاکٹر صاحبہ اگر میرے شوہر نے مجھے اسی طرح پریشان کیا تو شاید پھر یہی ڈراما کروں، آخر ابا امی کو تنگ ہی تو کرتے ہیں جو امی اپنے مرنے کی دعائیں مانگتی ہیں۔‘‘
میری بیٹی جس کی سرکاری اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی لگی ہوئی ہے آج کل۔ آج واپسی پر مجھے اپنے یہ تاثرات بتا رہی تھی۔ وہ کہہ رہی تھی کہ صرف ایک اسپتال کی ایمرجنسی میں میری پانچ گھنٹے کی ڈیوٹی کے دوران کم از کم 10 مریض روزانہ خودکشی کے لائے جاتے ہیں۔ اس وقت نوجوانوں کی زیادہ تعداد خودکشی کی جانب مائل ہے۔ اس کی وجہ والدین کی ناکامی ہے کہ والدین گھروں میں بچوں کی نہ ہی تربیت کرسکے جو ایک مسلمان گھرانے میں ہونا چاہیے تھی، نہ ہی ان کو وہ ماحول دینے میں کامیاب ہوئے جو ان کی شخصیت سازی مثبت دائروں میں کرتا۔ میری بیٹی بولی ’’خودکشی کی کوشش کرنے والے فرد کے والدین اور دیگر اہلِ خانہ سے میں ضرور تفصیلی بات کرتی ہوں تاکہ خودکشی کی وجوہات کا پتا چل سکے اور ہم اس کے تدارک کے لیے کونسلنگ کرسکیں۔‘‘
اپنی بیٹی کی گفتگو سنتے سنتے میرا ذہن رات ہونے والی ملاقات کی طرف چلا گیا جب میری پڑوسن مجھے بتانے لگیں کہ ان کے بیٹے جو پانچ برس بعد امریکا سے آئے تھے،اور انہوں نے بڑے بیٹے سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا تو وہ بولا کہ میرا فیصلہ ہے کہ میں زندگی بھر شادی نہیں کروں گا۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے آپ کو اور ابو کو دیکھ لیا ہے کہ شادی سے آپ نے کیا پایا۔ میں کسی ایسی زندگی کو افورڈ نہیں کرسکتا جس میں اتنی دل آزاریاں ہوں، اتنے جھگڑے ہوں، اتنی بے سکونی ہو۔ کل وہ بولا: ہم تو سمجھے تھے کہ پانچ برس میں بہت کچھ بدل گیا ہوگا، دنیا تو اتنی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے مگر نہ آپ بدلیں، نہ ابو۔ اتنے اختلافات کے باوجود آپ نے اور ابو نے کیسے زندگی اکٹھی گزارلی، مجھے تو سوچ کر حیرت ہوتی ہے۔ مگر آپ مجھ سے شادی کی اُمید نہ رکھیے گا۔ وہ بولیں: اپنے بیٹے کا فیصلہ سن کر میرا تو دل بیٹھ گیا۔ میں نے بہت سمجھایا کہ سب ہی آدمی تو ابو جیسے نہیں ہوتے، تم ایک اچھے شوہر بن کر دکھانا۔ تمہاری زندگی میں سکون ہوگا، تم عزت کرو گے تو آنے والی بھی تمہاری عزت کرے گی۔ مگر وہ تو ایک سن کر نہ دیا۔ بولا: اماں یہ تو جوا ہے، اگر ہار گئے تو سب کچھ گیا، اور جیتنے کا پتا نہیں… میں اتنا مضبوط نہیں ہوں کہ یہ رسک لے سکوں۔ میری پڑوسن اپنا دردِ دل کہتے کہتے آبدیدہ ہوتی رہیں۔ میں ان کو تسلی دیتی رہی، دُعا اور مناجات کی اہمیت بتاتی رہی اور مایوسی سے نکلنے کو کہتی رہی، مگر … بات اتنی سادہ تو نہیں ہے، یہ سب کچھ اچانک تو نہیں ہوجاتا۔ اگر اسپتال میں وہ بچی بار بار جھوٹی خودکشی کے ڈرامے کرکے لائی جاتی ہے، یا پڑوسن کا بیٹا شادی نہ کرنے کا حتمی فیصلہ کرتا ہے تو اس کے پیچھے والدین کی سالہا سال کی نادانیاں ہیں۔ ہمارے دشمن کے ایجنڈے کامیاب ہورہے ہیں، ہمارے خاندانوں پر کاری ضربیں مسلسل لگ رہی ہیں، ہمارے والدین لڑکیوں کو سسرال میں صبر کا درس دیتے تھے، خدمت گزاری کی تلقین کرتے تھے، زبان سے اُف نہ کرنے کا درس دیتے تھے، ہر صورت میں بڑوں کی عزت کی یاد دہانی کراتے تھے۔ ایک ہی فقرہ ہم اپنی پچھلی نسل کی زبان سے بار بار سنتے تھے کہ ’’گھر عورت ہی بساتی ہے، قربانی عورت ہی کو دینا پڑتی ہے، اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے ہر دُکھ عورت ہی سہتی ہے، اور گھر کو مثالی عورت ہی اپنی اطاعت و وفاداری سے بناتی ہے‘‘۔ آج کلاس روم میں استاد ہو، یا گھر میں والدین، یا ٹی وی کا اسکرین… سب عورت کو ایک ہی درس دیتے ہیں کہ وہ ’’پاور فل‘‘ ہے، اس کو قانون نے یہ اور یہ حقوق دیے ہیں۔ وہ کیوں ڈرے، وہ کیوں دبے؟ وہ کیوں قربانی کا بکرا بنے؟ شوہر ایک کہتا ہے تو بیوی کو دس کہنی چاہئیں، اس لیے کہ اب وہ وقت گیا کہ عورت ایک کمزور مخلوق سمجھی جائے۔ اب اقوام متحدہ اس کے حقوق کی بازیابی کے لیے بے چین ہے۔ بین الاقوامی کانفرنسوں کے موضوعات اس کی امپاورمنٹ سے متعلق ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ قانون سازی کرتے نہیں تھکتی کہ عورت کو کمزور نہ سمجھا جائے۔ عورت نہ کمزور ہے نہ کمتر، اخباروں میں بھی اشتہارات ہیں اور سائن بورڈز پر بھی کہ اگر مرد ٹرک چلا سکتا ہے تو عورت بھی ٹرک چلا سکتی ہے، اگر مرد موٹر سائیکل چلا سکتا ہے تو عورت بھی ایسا کرسکتی ہے، اگر مرد خاکروب ہوکر سڑکوں کی صفائی کرسکتا ہے تو عورت بھی کرسکتی ہے… اور پیٹرول پمپ پر کھڑے ہوکر گاڑیوں میں فیول ڈالنا بھی کوئی بڑا کام ہے جو مرد ہی کرسکتے ہیں؟ اس لیے اب آپ کو جا بجا فیولنگ اسٹیشنوں پر عورتیں بھی یہ کام کرتی نظر آتی ہیں۔
ہماری نوجوان نسل اور ہمارا خاندان ہی تو استعمار کا اصل ہدف ہیں۔ ہماری قیمتی اقدار و روایات جو تنکوں کی طرح جوڑ جوڑ کر ہمارے آباو اجداد نے ہمیں منتقل کی تھیں، اب اسی نشیمن کو آگ لگانے کے لیے کثیر انسانی و مادی وسائل خرچ کیے جارہے ہیں۔ ہمارے معاشرے کا خمیر اور ہی اقدار و روایات سے گندھا تھا۔ وہ ہماری عظیم شرعی ہدایات تھیں کہ دلوں کو تنگی کی طرف مائل نہ ہونے دیا جائے، برائیوں کو بھلائیوں سے دفع کیا جائے اور معاف کرنا تقویٰ سے زیادہ قریب ہے، اور یہ کہ اچھی عورت وہ ہے کہ اس کا شوہر اس کو دیکھے تو اس کو خوش کردے۔ قرآن نے بہترین عورت کی صفات بتا کر معاشرے کو ایک آئیڈیل عورت دی تھی، اور اولاد کی تربیت کی بہترین ہدایات والدین کے حوالے کی تھیں کہ میاں اور بیوی کو اب تمام تر توجہ اس نئی نسل کو اچھا انسان بنانے پر صرف کرنا ہوگی، اپنی اَنا اور ضد کے خول سے باہر آنا ہوگا۔ بچوں کی صورت میں انسانیت کا مستقبل ان کے حوالے کیا گیا ہے اور گھر کے ماحول کو مکدر رکھنا یا بات بات پر اختلاف اور جھگڑا ان معصوم ذہنوں پر کس قدر منفی اثرات مرتب کرے گا؟ شریعت کا معمولی سا علم رکھنے والی عورت بھی اپنے خاندان، اپنے سائبان کو بچانے کے لیے بہت ہوشیار ہوتی ہے۔ مگر کیا کیجیے اس دور کے دجالی فتنوں کا، جو عورت کو اُکسا رہے ہیں کہ وہ مرد کی حریف ہے۔ وہ اس سے کمتر نہیں ہے، وہ کچھ کم پر اکتفا کرنے کے بجائے عدالت کے دروازے کھٹکھٹائے، اس کا خاندان تحفظ فراہم نہیں کرسکتا تو قانون اس کو تحفظ فراہم کرے گا۔ قانون کی ہمدردیاں گھروں سے بھاگنے والی لڑکیوں کے ساتھ ہیں۔ واضح رہے کہ فتنوں کی پشت پر جہل ہوا کرتا ہے۔ ریاست جو وسائل عورتوں کی نام نہاد این جی اوز کو فنڈنگ اور عورتوں کو ملازمتیں مہیا کرنے پر صرف کررہی ہے وہی وسائل عورت کو بنیادی اسلامی تعلیمات دینے پر بھی خرچ کیے جاسکتے ہیں۔ نصاب میں ایسے عنوانات شامل کیے جاسکتے ہیں، میڈیا کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، مگر کیا کیجیے کہ ہم جس کے سبب بیمار ہوتے ہیں اپنی دوا لینے بھی اسی عطار کے لونڈے کے پاس جاتے ہیں۔
فنانشل ٹائمز میں پچھلے ہفتے ایک مضمون شائع ہوا کہ نوجوانوں میں خودکشی کی طرف رجحان کی وجوہات کیا ہیں۔ اس مضمون میں مختلف سروے رپورٹس سے انہوں نے ثابت کیا کہ نوجوانوں میں فاسٹ فوڈز اور سافٹ ڈرنک کا بڑھتا ہوا استعمال، نیز سوشل میڈیا کے منفی اثرات ان کو تنہائی کا شکار کرکے چڑچڑا کررہے ہیں۔ نوجوان سوشل میڈیا کی دُنیا میں گم ہوکر عملاً تنہائی کا شکار ہورہے ہیں۔ ان میں رشتہ داروں کی اہمیت کم ہورہی ہے اور اعلیٰ انسانی اقدار تیزی سے رخصت ہورہی ہیں جس کے منفی اثرات ہم سب اپنی خانگی زندگیوں میں آئے روز دیکھ رہے ہیں۔ خانگی زندگی میں تلخیوں کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بیویوں کو یہ شکایت ہے کہ شوہر دفتر سے گھر آکر بھی اہلِ خانہ کو وقت دینے کے بجائے واٹس ایپ اور فیس بُک پر لگے رہتے ہیں، اور اس طرح سوشل میڈیا پر اُن کے حلقۂ یاراں میں بہت سی خواتین شامل ہوگئی ہیں جو ہمہ وقت رابطے میں رہتی ہیں، اور یہ نشہ کسی بھی نشے سے زیادہ خطرناک ہے۔ مگر یہ بوتل سے نکلا ہوا ایسا جن ہے جس کو قابو کرنا اب کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہی شکایات خاندان میں والدین کو بچوں سے ہیں کہ بچوں کی سماجی نشوونما متاثر ہورہی ہے۔ ان کی ذہنی صحت تباہ ہورہی ہے۔ نوجوانوں کے ہائپر ایکٹو ہونے کی ایک وجہ بھی ان کا احساسِ تنہائی ہے۔ قلم اور کتاب سے بھی رشتہ کمزور ہورہا ہے۔ ہر وقت، ہر طرح کی معلومات اور تصاویر شیئر کی جارہی ہیں۔ انتہائی فحش ویب پیجز تک ہر نوجوان کی رسائی ممکن ہے جو ان کے نہ صرف حال بلکہ مستقبل کو بھی تباہ کررہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب کہ سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال بے شمار اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں کو جنم دے رہا ہے، ضرورت تھی والدین کے ایک مثبت کردار کی، کہ وہ اس سیلاب کے آگے بندھ باندھتے اور اپنے اور اولادوں کے درمیان فاصلے کم کرتے، ان کو سوشل میڈیا کے تباہ کن اثرات سے بچاتے… مگر افسوس کہ سوشل میڈیا کے اس آسیب کا سایہ ہمارے گھروں پر اس طرح منڈلا رہا ہے کہ ان کی مسلسل شکست وریخت کا سبب بن رہا ہے، اور خواتین بھی سوشل میڈیا کے استعمال میں مردوں سے کسی طرح پیچھے نہیں ہیں، بلکہ اب تو یہ مارکیٹنگ کا کامیاب ذریعہ ثابت ہورہا ہے۔ گھر کے مردوں کو بھی خواتین کے سوشل میڈیا پر گزارے جانے والے وقت کی شکایت ہے کہ وہ بچوں کو دیا جانے والا وقت لیپ ٹاپ اور اینڈرائیڈ موبائل پر گزارنے کو ترجیح دیتی ہیں۔
کسی بھی چیز کا مثبت اور متوازن استعمال ممنوع نہیں ہے، مگر ٹیکنالوجی کے اس نشے کو کیا کہیے کہ یہ نہ صرف زندگی سے توازن کو خارج کردیتا ہے بلکہ اس دنیا میں داخل ہوکر انسان مثبت اور منفی کی پہچان ہی کھو بیٹھتا ہے۔ تفریح کے نام پر اکثر اوقات پڑھے لکھے اور سنجیدہ لوگ بھی وہ کچھ شیئر کرجاتے ہیں کہ بس حیرت اور افسوس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
اس وقت خاتونِ خانہ جو ماں بھی ہے اور بیوی بھی، ضرورت اس کے صحت مند کردار کی ہے۔ اور اِس وقت اس کی شخصیت کو جتنی مضبوطی کی ضرورت ہے شاید پہلے نہ تھی۔ اس لیے کہ اس وقت چیلنجز بہت شدید ہیں۔ دجالی فتنوں کے اس دور میں اُس پر اپنے شوہر کی بھی عزت اور اخلاقیات کی فکر کرنے کی ذمہ داری ہے اور اپنے بچوں کو بھی سوشل میڈیا کے مضر اثرات سے بچانا ہے۔ گھر کے خراب ماحول نوجوانوں کو زندگیوں سے بیزار کررہے ہیں۔ پہلے گھروں میں پسند کی چیز نہ پکنے پر جھگڑے ہوتے تھے جب کہ آج فاسٹ فوڈ کے عاشق نوجوان گھروں پر کھانا پسند ہی نہیں کرتے۔ مہمان آتے ہیں اور ڈرائنگ روم سے اُٹھ کر چلے بھی جاتے ہیں مگر بچے زحمت ہی نہیں کرتے سیل فون سے نظریں ہٹانے کی اور ملاقات کرنے کی۔ اگر آپ بچوں پر زیادہ دبائو ڈالیں تو ان کے رویّے اور لب و لہجے منفی ہوجاتے ہیں۔ اس وقت حکمت اور تدبر کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، اور دعا بہرحال مومن کا ہتھیار ہے۔ سوچے جانے کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے پیچھے جو نسل دنیا میں چھوڑ کر جائیں گے کیا وہ اخلاقی اعتبار سے اتنی مضبوط ہے کہ آنے والے دور کے چیلنجز (جن کا شاید ابھی ہم ادراک بھی نہیں کرسکتے) کا مقابلہ کرسکے؟ اور اپنے ایمان کی آبیاری بھی اس کی جہد و سعی کا حصہ ہو؟ اس کے لیے ہمیں سورۂ کہف کے شعوری مطالعے کو اپنے خاندانی نصاب کا حصہ بنانا ہوگا۔ اس لیے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم آخری دور کے شر سے بچنے کا یہی نسخہ تجویز فرما کر گئے ہیں۔

                              افشاں نوید


جواب چھوڑیں

.آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا